
انٹرویو: شبر زیدی کے ساتھ پاکستانی معیشت کے چیلنجز اور مواقع
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے لیے خصوصی گفتگو
لاہور: معروف معاشی ماہر اور سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) شبر زیدی نے “جیوے پاکستان ڈاٹ کام” کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، ٹیکس پالیسیوں اور آنے والے چیلنجز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انٹرویو کے اہم اقتباسات پیش ہیں:
سوال 1: پاکستان کی معیشت اس وقت کن بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے؟
جواب: سب سے بڑا چیلنج بیرونی قرضوں اور تجارتی خسارے کا ہے۔ ہماری برآمدات کم ہیں، درآمدات مہنگی ہو چکی ہیں، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹیکس نظام میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔
سوال 2: حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ضروری تھا، لیکن شرائط سخت ہیں۔ سبسڈیز ختم کرنے اور ٹیکس بڑھانے کے فیصلوں کا عام آدمی پر برا اثر پڑے گا۔
سوال 3: کیا موجودہ ٹیکس پالیسی عوام کے لیے مناسب ہے؟
جواب: نہیں، ہمارا ٹیکس نظام غیر منصفانہ ہے۔ بڑے کاروباری ادارے ٹیکس ادا نہیں کرتے، جبکہ متوسط طبقے پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔
سوال 4: کیا پاکستان میں غیر رسمی معیشت کو کنٹرول کرنا ممکن ہے؟
جواب: جی ہاں، لیکن اس کے لیے ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنا ہوگا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فعال کرنا ہوگا۔
سوال 5: روپے کی قدر میں کمی کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟
جواب: برآمدات بڑھانے اور غیر ضروری درآمدات کو کم کرنے سے۔ علاوہ ازیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہوگا۔
سوال 6: کیا زرعی شعبے میں اصلاحات معیشت کو بہتر بنا سکتی ہیں؟
جواب: بالکل! پاکستان کی 60% آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سبسڈی نظام کو بہتر بنا کر ہم پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔
سوال 7: موجودہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
جواب: سبسڈیز کو ہدف بند کرنا ہوگا، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہوں گے، اور سپلائی چین کو بہتر بنانا ہوگا۔
سوال 8: کیا پاکستان میں صنعتی ترقی کے لیے پالیسیاں موثر ہیں؟
جواب: نہیں، صنعتوں کو بجلی اور گیس کی سستے داموں فراہمی کی ضرورت ہے۔ اس وقت توانائی کے بحران نے صنعتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
سوال 9: کیا چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) معیشت کو فائدہ پہنچا سکتی ہے؟
جواب: اگر اس منصوبے کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان کے لیے تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ابھی بہت سے معاہدے عملی شکل میں نہیں آئے۔
سوال 10: کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان قرضوں کے جال سے نکل سکتا ہے؟
جواب: مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانی ہوگی اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے ہوں گے۔
سوال 11: کیا نجکاری (پرائیویٹائزیشن) معیشت کے لیے مفید ہوگی؟
جواب: ہاں، لیکن صرف اس صورت میں جب شفاف طریقے سے کی جائے۔ پی آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری سے بجٹ پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
سوال 12: کیا ڈیجیٹل کرنسی (بٹ کوائن وغیرہ) پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے؟
جواب: اس وقت نہیں، کیونکہ ہمارے پاس اسے ریگولیٹ کرنے کے لیے مضبوط نظام موجود نہیں۔ پہلے روایتی معیشت کو مستحکم کرنا ہوگا۔
سوال 13: کیا موجودہ حکومت کا “ریلیف پیکیج” عوام کے لیے کافی ہے؟
جواب: ناکافی ہے۔ چھوٹے کاروباروں اور مزدور طبقے کو زیادہ ریلیف کی ضرورت ہے۔
سوال 14: پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
جواب: نئے صنعتی زون بنانے ہوں گے، چھوٹے کاروباروں کو قرضے دینے ہوں گے، اور ہنر مندی کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔
سوال 15: آخری بات… عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: صبر کریں، محنت کریں، اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ٹیکس کے پیسوں کا صحیح استعمال کرے۔ ہم سب مل کر ہی پاکستان کو ترقی دے سکتے ہیں۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی جانب سے شبر زیدی کا شکریہ۔
(یہ انٹرویو شبر زیدی کے حالیہ بیانات اور تجزیوں کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔)
=======An AI Interview==================























