پی سی بی کے واجبات ادا نہ کرنے پر جیسن گلیسپی کا شدید ردعمل: “بورڈ کے یکطرفہ فیصلوں نے مجبور کیا مستعفی ہونے پر!”

پی سی بی کے واجبات ادا نہ کرنے پر جیسن گلیسپی کا شدید ردعمل: “بورڈ کے یکطرفہ فیصلوں نے مجبور کیا مستعفی ہونے پر!”

سڈنی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مالی معاملات میں لاپروائی کے نتیجے میں ایک اور تنازعہ سامنے آ گیا ہے۔ قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے انکشاف کیا ہے کہ پی سی بی نے 4 ماہ گزرنے کے باوجود ان کے واجبات ادا نہیں کیے، جس پر انہوں نے شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

گلیسپی نے ایک انٹرویو میں کہا، “یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ میں نے پی سی بی کے ساتھ ایمانداری سے کام کیا، لیکن بدقسمتی سے میری خدمات کا معاوضہ اب تک نہیں ملا۔ امید کرتا ہوں کہ بورڈ اس معاملے کو جلد از جلد حل کرے گا۔”

“رضوان کو کپتان بنانا ایک حیرت انگیز فیصلہ تھا، جس کا خمیازہ ٹیم نے بھگتا!”
گلیسپی نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی جانب سے یکطرفہ فیصلے کرنے اور کوچنگ اسٹاف کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نے انہیں مجبور کیا کہ وہ عہدے سے دستبردار ہو جائیں۔ انہوں نے خاص طور پر محمد رضوان کو ٹی20 کپتان بنانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، “یہ ایک غیرمنطقی قدم تھا جس کا برا اثر ٹیم پر پڑا۔ پی سی بی کے اندرونی دباؤ اور بے ترتیب فیصلوں نے پاکستان کرکٹ کو افراتفری میں ڈال دیا ہے۔”

عبوری کوچ عاقب جاوید بھی ناکام، پی سی بی نے نئے ہیڈ کوچ کی تلاش شروع کردی
گلیسپی کے جانے کے بعد پی سی بی نے عبوری بنیادوں پر عاقب جاوید کو ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا، لیکن ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی کے بعد بورڈ نے نئے کوچ کے لیے اشتہار جاری کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پی سی بی ایک بار پھر غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے، لیکن گلیسپی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بعد کیا کوئی معروف نام پاکستان کرکٹ سے وابستہ ہونے کو تیار ہوگا؟

تنازعے کا سلسلہ جاری: کیا پی سی بی اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے؟
یہ پہلا موقع نہیں جب پی سی بی پر کسی کوچ یا کھلاڑی کے معاوضے میں تاخیر کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ گلیسپی کے معاملے نے ایک بار پھر بورڈ کی انتظامی نااہلی کو اجاگر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی سی بی کی قیادت اپنے وعدوں اور مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہے؟

اگرچہ گلیسپی نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کا معاوضہ جلد مل جائے گا، لیکن اس واقعے نے پی سی بی کی ساکھ کو ایک بار پھر داغدار کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بورڈ اس نئے تنازعے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے۔

مزید اپ ڈیٹس کیلئے ہمارے ساتھ جڑے رہیں!