بچوں کو اے آئی سے روشناس نہ کروایا تو پیچھے رہ جائیں گے، ماہرین تعلیم کا انتباہ

بچوں کو اے آئی سے روشناس نہ کروایا تو پیچھے رہ جائیں گے، ماہرین تعلیم کا انتباہ

کراچی – سندھ کے سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں کے پرنسپلز، مالکان اور ماہرین تعلیم و ٹیکنالوجی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے تعلیمی نظام میں اے آئی کو شامل نہ کیا گیا تو ہمارے بچے عالمی سطح پر پیچھے رہ جائیں گے اور جدید ٹیکنالوجی کے مقابلے میں ناکام ہو جائیں گے۔

تعلیمی کنونشن میں اہم تجاویز
ڈائریکشن ایجوکیشن نیٹ ورک اور ڈیپتھ پبلیکیشنز کی جانب سے کراچی میں “مصنوعی ذہانت اور تعلیمی چیلنجز” کے موضوع پر ایک روزہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں سندھ بھر کے 400 سے زائد اسکولوں اور کالجز کے پرنسپلز، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اے آئی صرف ایک ٹول نہیں بلکہ تعلیمی انقلاب ہے، جس سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نظام تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت
ڈائریکشن ایجوکیشن نیٹ ورک کے سربراہ محمد شبیر جعفر نے کہا کہ “ہمیں پرانے روایتی نظام تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اے آئی صرف کمپیوٹر سائنس تک محدود نہیں، بلکہ یہ ریاضی، سائنس، زبانوں اور تخلیقی مضامین میں بھی طلباء کی مدد کر سکتی ہے۔ اگر ہم نے ابھی اقدامات نہ کیے تو ہماری اگلی نسل ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جائے گی۔”

حکومت سے اپیل
کنونشن میں موجود ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکولوں میں اے آئی کی تعلیم کو لازمی قرار دے اور اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرامز شروع کرے۔ ڈائریکشن ایجوکیشن نیٹ ورک کے ریجنل ہیڈ عثمان جاوید نے کہا کہ “صرف نصاب میں تبدیلی ہی کافی نہیں، بلکہ اساتذہ اور طلباء دونوں کو اے آئی ٹولز کے استعمال کی تربیت دی جانی چاہیے۔”

اے آئی کا مثبت استعمال
ماہر تعلیم شکیل احمد نے زور دیا کہ “اے آئی کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اسے ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے۔ یہ طلباء کو ذہین بنانے، تحقیقی صلاحیتوں کو بڑھانے اور خود اعتمادی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں اپنائیں اور اپنے بچوں کو جدید دور کے لیے تیار کریں۔”

مستقبل کی تیاری
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے لیے اے آئی اور جدید ٹیکنالوجیز کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کے بجائے اس کا صحیح استعمال سکھائیں، تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

اختتامی نوٹ
کنونشن کے شرکاء نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی، جس میں وزارت تعلیم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قومی سطح پر اے آئی کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے فوری اقدامات کرے، تاکہ پاکستان کا تعلیمی نظام عالمی معیار کے برابر آ سکے۔