
کراچی میں کرکٹ: صرف امراء کے لیے؟
کھیلوں کا شہر کراچی ایک بار پھر خبروں میں ہے، لیکن وجہ خوشی نہیں بلکہ ایک پریشان کن صورتحال ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز خواتین کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے میچز کے دوران ایک واضح فرق نظر آیا: ایک طرف وی آئی پی اینکلوژر میں کوک اور کافی کے sips لیتی ہوئی خواتین کی چہل پہل، تو دوسری طرف اسٹیڈیم کے باقی حصے ویران۔ یہ منظر اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ کراچی میں کرکٹ اب صرف چند خوش قسمت افراد تک محدود ہوتی جا رہی ہے، جبکہ عام شائقین خود کو نظرانداز محسوس کر رہے ہیں۔
خالی کرسیاں، خالی جوش
حالانکہ اسٹیڈیم میں داخلہ مفت تھا، لیکن تماشائیوں کی تعداد انتہائی کم رہی۔ صرف اسٹیڈیم کے ملازمین، سیکیورٹی اہلکاروں اور میڈیا کے چند افراد ہی میچز کا حصہ بنے۔ کالجوں اور یونیورسٹیز جیسے کہ خاتون پاکستان کالج اور آغا خان یونیورسٹی کے قریب ہونے کے باوجود، نوجوانوں کو اسٹیڈیم تک لانے کے لیے کوئی خاص کوشش نظر نہیں آئی۔ نتیجہ؟ میچ کے دوران سنّاٹا اور جوش و خروش کی کمی۔
پابندیاں: شائقین کے لیے مزید مشکلات
اسٹیڈیم میں پانی کی بوتل یا کھانے پر پابندی جیسی پالیسیوں نے بھی لوگوں کو دور رکھا۔ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ عام شائقین کے بجائے صرف ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ کیا یہی کرکٹ کا اصل روح ہے؟
تبدیلی کی ضرورت
کراچی میں کرکٹ کے جوش و جذبے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے:
عام آدمی کے لیے ٹکٹ: مہنگے ٹکٹس کے بجائے ہر طبقے کے لیے سستے اور آسان رسائی۔
بہتر سہولیات: اسٹیڈیم میں پینے کے صاف پانی اور معیاری کھانے پینے کا انتظام۔
نوجوانوں کو شامل کریں: اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ تعاون کرکے نئی نسل کو میدان تک لایا جائے۔
کرکٹ صرف چند “خاص” لوگوں کا کھیل نہیں، بلکہ عوام کی جذبات سے جڑا ہوا ایک مشترکہ جذبہ ہے۔ اگر واقعی کراچی کو کرکٹ کا گڑھ بنانا ہے، تو پھر اس شہر کے ہر فرد کو اس میں شامل ہونے کا موقع ملنا چاہیے۔























