وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجابی ثقافت کے دن کو مشہور اداکاروں اور فنکاروں کے ساتھ منایا

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجابی ثقافت کے دن کے موقع پر ایک رنگارنگ تقریب میں شرکت کی، جہاں معروف اداکاروں اور فنکاروں کے ساتھ مل کر پنجاب کی روایتی ثقافت کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر پنجابی رقص، موسیقی، شاعری اور دستکاری کی نمائش کی گئی، جس نے پنجاب کی ثقافتی روایات کو اجاگر کیا۔

مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ “پنجابی ثقافت ہماری شناخت ہے، اسے زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔” انہوں نے فنکاروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پنجاب کی ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات کا اعلان بھی کیا۔

یہ تقریب نہ صرف پنجابی زبان اور ثقافت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا موقع تھی، بلکہ اس نے لوگوں میں خوشی اور اتحاد کا جذبہ بھی بھر دیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایسے ثقافتی پروگراموں کو فروغ دینے سے نئی نسل کو اپنی روایات سے جوڑنے میں مدد مل رہی ہے۔

#پنجابی_ثقافت_ڈے #مریم_نواز #پنجاب_ہمارا_فخر

========================

’’شالاوسداروےپنجاب‘‘تقریبات کاآغاز،پنجاب اورپنجابی ہماری پہنچان،اپنی ثفاقت پرفخر ہوناچاہئے،وزیراعلیٰ مریم نواز
لاہور(خصوصی نمائندہ) ”شالا وسدا روے پنجاب“صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب دیہاڑ کی تین روزہ رنگا رنگ تقریبات کاالحمراء میں آغاز ہوگیا۔وزیراعلیٰ مریم نے محکمہ اطلاعات وثقافت کے زیر اہتمام پنجاب دیہاڑ کی تقریب میں خصوصی طورپر شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجابی بولنے اورکہلانے پر ہر ایک کو فخر ہونا چاہیے۔پنجاب کے لوگ،عوام سب ہمارے اپنے ہیں۔پنجاب کی مٹی،لوگوں،میوزک، روایات،ثقافت ہر چیز سے بے پناہ پیار ہے۔الحمراء آرٹس کونسل میں ”پنجاب دیہاڑ“ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نے کہاکہ پاکستان سے محبت ہے،محب وطن پاکستانی ہوں۔جلاوطنی کے دوران بارش میں پنجاب کی مٹی کی خوشبو کو یادکر کے رویا کرتی تھی۔نوجوان انگریزی ضرور سیکھیں مگر پنجابی فخر کے ساتھ بولنی چاہیے۔پنجاب اورپنجابی ہماری پہچان ہے،اسے بھول نہیں سکتے۔ ساری زبانیں اور موسیقی اچھی ہے مگر ”ٹور پنجابن دی“کا کوئی جواب نہیں۔پنجاب کے بھنگڑے کا کوئی میوزک اوررقص مقابلہ نہیں کرسکتا۔پاکستان خوبصورت ملک اورپنجاب خوبصورت ترین صوبہ ہے۔ ترکیہ کے عوام اورصدر سب لوگ اپنے کلچر پر فخر کرتے ہیں۔تقریب میں خوبصورت پرفارمنس دیکھ کر حیران رہ گئی،ننھی بچیوں نے ڈھول بجا کرحیران کردیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب ثقافت دیہاڑ کی شاندار تقریب پر وزیراطلاعات عظمی زاہدبخاری کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔حامد رانا،فردوس جمال،ریشم سمیت سب کو دیکھ کر ایسے نہیں لگ رہا کہ پہلی مرتبہ مل رہے ہیں۔ پنجاب کے فنکاروں کیلئے ایسا کرنا چاہتی ہوں کہ مثال بن جائے۔ نوازشریف اور شہبازشریف کی قیادت میں سالوں کا جمودٹوٹ گیا،ترقی شروع ہوئی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ کے الحمراء آرٹس کونسل پہنچنے پر روایتی انداز میں پرتپاک استقبال کیاگیا۔الحمراء آرٹس کونسل کے احاطے میں ڈھول کی تھاپ ، رنگیلے گھوڑے، اونٹوں کا مست رقص اور فوک موسیقی بھی پیش کی گئی۔وزیر اعلیٰ نے برنی گارڈن میں انوکھے اور منفرد”پنڈ“ کاتفصیلی دورہ کیا۔ چوڑیوں،گکھگو گھوڑے، کھسے، بلاک پرنٹ،مکیش اور گوٹا کناری ملبوسات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔دستکاری،پنجابی پگڑی، شملے،گنڈاسا، کھنڈا،ہڑپہ اور ٹیکسلا آرٹ نمونوں کے سٹال کا معائنہ کیا۔ کھجور کے رنگ برنگے پتوں سے بنی چھابیاں، پچھیاں، چنگیریں،پلیٹیں، پکھے کی بناوٹ کا مشاہدہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے چاک پر مٹی کے برتن، کھڈی پر کپڑے کی بنت، اونٹ کی کھال کے لیمپ دیکھے اور پسند کئے۔ روایتی پنجابی موڑھے،منجیاں، لکڑی کے چولہے، چوبارہ اور دیگر اشیاء میں اظہارِ دلچسپی لی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نے ورلڈ ہیوموفیلیا ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہیوموفیلیا سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیوموفیلیا ایک خاموش آزمائش ہے،صبر اور مسلسل طبی نگہداشت کا تقاضا کرتی ہے۔ اْن افراد کے لیے سہولتیں پیدا کررہے ہیں جو خاموشی سے درد سہتے ہیں۔
===========================

وزیر اعلی مریم فنکاروں کےلئے ہاؤسنگ کالونی بنانا چاہتی ہیں ، عظمیٰ بخاری
لاہور(خصوصی نمائندہ) وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار پنجابی کلچر ڈے شاندار طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ پنجاب کا کلچر اب یتیم نہیں رہا اس کو سنبھالنے والے آگئے ہیں۔قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف خود فنکاروں کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب، پنجاب کے فنکاروں کیلئے ایک الگ ہاؤسنگ کالونی بنانا چاہتی ہیں۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ، پنجابی کلچر ڈے کو سرکاری سطح پر شان و شوکت سے منایا جا رہا ہے۔ یہ فیسٹیول تین روز تک جاری رہے گا، جو شام 7بجے سے رات 10بجے تک الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں منعقد ہوگا۔پنجاب بابا بلھے شاہ، وارث شاہ، سلطان باہو اوربابا فرید جیسے عظیم صوفیائے کرام کی دھرتی ہے، اور آج ہم اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔گفتگو کی نشست ”پنجاب اج تے کل“میں نامور پنجابی دان پروین ملک، ڈاکٹر سعید بھٹہ، ڈاکٹر صغری صدف، نین سکھ، انجم قریشی، ڈاکٹر فوزیہ اسحاق اظہار خیال کریں گی جبکہ ڈاکٹر شائستہ نزہت نشست کو ماڈریٹ کریں گی۔