اسٹاک ایکسچینج میں ایک سال میں دہائیوں کے ریکارڈ کیسے ٹوٹے عقیل بھائی نے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

اسٹاک ایکسچینج میں ایک سال میں دہائیوں کے ریکارڈ کیسے ٹوٹے عقیل بھائی نے رازوں سے پردہ اٹھا دیا

ہر کوئی یہی سوال پوچھ رہا تھا کہ اچانک اسٹاک مارکیٹ کو پر کیسے لگ گئے ہوا کیا ہے شیئر اوپر سے اوپر کیسے جا رہے ہیں اور اتنا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے انڈیکس 100 انڈیکس اوپر کیسے جا رہا ہے جو لوگ سمجھ رہے تھے کہ یہ حکومت مستحکم نہیں ہے اور حکومت سے ملک نہیں چلے گا وہ حیران ہے اور انہیں بہت مایوسی ہوئی کیونکہ حکومت نے وہ سب کچھ کر کے دکھا دیا جس کے بارے میں مخالفین سوچ رہے تھے کہ ایسا نہیں ہوگا اسٹاک مارکیٹ کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا ۔
اس حوالے سے ماہرین سے جب بات کی جاتی ہے تو وہ بہت سی وجوہات بیان کرتے ہیں جس سے اندازہ لگانا اسان ہو جاتا ہے اور اس بات کو سمجھنے میں اسانی ہوتی ہے کہ دراصل ہوا کیا ہے ۔
پاکستان کے مایہ ناز بزنس رہنما اور اے کے ڈی گروپ کے سربرا عقیل کریم ڈھیڈی جنہیں عقیل بھائی کے نام سے پکارا جاتا ہے وہ اس سلسلے میں ایک مستند نام ہے اور وہ جو بات کرتے ہیں اس پر دلیل کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ مختلف وجوہات ہوتی ہیں اور پچھلے ایک سے ڈیڑھ سال میں سٹاک ایکسچینج میں جو بہتری تیزی اور ریکارڈ بنے ہیں وہ بہت سے اقدامات کا نتیجہ ہیں اور اسمگلنگ کو کنٹرول کرنے میں حکومت اور اداروں نے بہت کامیابی حاصل کی ہے جس کے بہت مثبت نتائج ائے ہیں سمندر پار پاکستانیوں نے پیسہ بھی بھیجا ہے اور مارکیٹ میں پیسہ ایا ہے جبکہ شرح سود میں کمی ہوئی ہے اور لوگوں نے بینکوں سے پرافٹ لینے کی بجائے کاروبار

میں زیادہ منافع کمانے کے لیے سرمایہ کاری کرنی شروع کر دی جس کے کاروباری مارکیٹ پر بہت اچھے مثبت نتائج سامنے ائے۔ جب انٹرسٹ ریٹ زیادہ تھا تو لوگ پیسہ بینکوں میں رکھ کر پرافٹ کما رہے تھے اور کاروبار میں پیسہ نہیں لگا رہے تھے لیکن جیسے جیسے بینکوں کا ریٹ گرا ہے تو لوگوں نے بینکوں میں پیسے رکھنے کی بجائے وہاں سے پیسہ نکالا ہے اور کاروبار میں لگا رہے ہیں تاکہ زیادہ منافع کما سکیں بیرون ملک سے بہت پیسہ ایا ہے جو ایک بڑی وجہ ہے ایک بڑی وجہ سمگلنگ پر قابو پانا ہے جب اپ اسمگلنگ پر قابو پاتے ہیں تو اپ کی لوکل انڈسٹری کو فائدہ ہوتا ہے یہاں جو چیزیں پیدا ہو رہی ہوتی ہیں فیکٹریوں میں کارخانوں میں ان کو فائدہ ہوتا ہے ائل ریفائنری کو فائدہ ہوتا ہے اور پھر ایگریکلچر سیکٹر کو فائدہ ہوتا ہے اپ کی مینوفیکچرنگ سائیڈ کو فائدہ ہوتا ہے کاروبار میں تیزی اتی ہے لوگ کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں اور اسٹاک میں اس کے اثرات نظر اتے ہیں کمپنیوں کا کاروبار بڑھتا ہے ان کا منافع بڑھتا ہے اور وہ اب انہیں سرمایہ کاروں کا خیال کرتے ہیں اور ان کو منافع میں حصہ دار بناتے ہیں اس طرح لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے سٹاک مارکیٹ میں پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں جو دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹے ہیں اس کی بنیادی وجوہات یہی ہیں ۔سٹاک مارکیٹ میں ابھی بھی پوٹینشل ہے اور ابھی بھی یہ مزید اوپر جائے گی جب معدنیات میں پاکستان اچھی اچھی خبریں سنا رہا ہے اور زراعت کے حوالے سے اچھی خبریں ا رہی ہیں پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھ رہی ہے ڈیری پولٹری اور ائی ٹی میں اپ اچھے نتائج دے رہے ہیں تو اس کے اثرات بھی اچھے ہیں انٹرنیشنل کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کو اچھی لیٹنگ مل رہی ہے تو یہ بھی اچھی خبریں ہیں

===========================

پاکستان کا معاشی آؤٹ لک مستحکم، فچ نے ریٹنگ بھی بہتر کرکے بی مائنس کردی

پاکستان کا معاشی آؤٹ لک مستحکم، فچ نے ریٹنگ بھی بہتر کرکے بی مائنس کردی
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کردی، پاکستان کی ریٹنگ بی مائنس کردی گئی۔

فچ نے پاکستان کے معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دے دیا۔ ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی، پاکستان کی ریٹنگ ٹرپل سی پلس سے بہتر کر کے بی مائنس کی ہے۔

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان کی طویل مدتی غیر ملکی قرضہ جاتی ریٹنگ کو سی سی سی پلس سے بڑھا کر بی مائنس کردیا گیا۔

فچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مقامی کرنسی کی ریٹنگ بھی بی مائنس کر دی گئی ہے۔

اعلامیہ میں پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق آؤٹ لک کو ’’منفی‘‘ سے ’’مستحکم‘‘ کر دیا گیا۔

فچ کے مطابق یہ اپگریڈ پاکستان کی بجٹ خسارے کو کم کرنے، معاشی اصلاحات کے تسلسل پر بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔ توقع ہے جون تک پاکستان کا مجموعی بجٹ خسارہ کم ہو کر 6 فیصد ہو جائے گا۔

عالمی ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ درمیانی مدت میں یہ خسارہ تقریباً 5 فیصد تک محدود رہنے کی امید ہے، مالی سال 2024 میں یہ خسارہ تقریباً 7 فیصد تھا۔
=========================

ترسیلاتِ زر کا حجم پہلی بار 4 ارب ڈالر کی حد عبور کر گیا
ملک میں ترسیلات زر کا حجم پہلی بار 4 ارب ڈالرز کی حد عبور کر گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مارچ 2025 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 4.1 ارب امریکی ڈالرز رہا۔

جنوری 2025ء میں اوورسیز پاکستانیوں کی 3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر

ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 37.3 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر 29.8 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سے 987.3 ملین ڈالرز، متحدہ عرب امارات سے 842.1 ملین ڈالرز ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔

برطانیہ سے 683.9 ملین ڈالرز اور امریکا سے 419.5 ملین ڈالرز ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔
========================

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کی 10 نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ کیا دشمنوں کا یہ خیال ہے کہ مٹھی بھر دہشتگرد پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں؟ بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پہلے اوورسیز پاکستانیز کنونشن سے خطاب کیا۔

جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ میں آج بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں، یقین دلاتا ہوں آپ کیلئے ہمارے جذبات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ صرف پاکستان کے سفیر ہی نہیں، پاکستان کی وہ روشنی ہیں جو پورے اقوام عالم پر پڑتی ہے۔

پاک فوج ریاست کی سلامتی کیلئے دہشت گردی کیخلاف ڈھال بنی رہے گی، آرمی چیف

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جو لوگ برین ڈرین کا بیانیہ بناتے ہیں وہ جان لیں یہ برین ڈرین نہیں برین گین ہے، بیرون ملک پاکستانی برین گین کی عمدہ ترین مثال ہیں۔

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ آپ سب نے پاکستان کی کہانی اپنی اگلی نسل کو سنانی ہے، وہ کہانی جس کی بنیاد پر ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان حاصل کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیا دشمنوں کا یہ خیال ہےکہ مٹھی بھردہشتگرد پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں؟ دہشتگردوں کی 10 نسلیں بھی بلوچستان اور پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

انکا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کی تقدیر اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، جب تک غیور عوام ساتھ کھڑے ہیں آپ کی فوج ہر مشکل سے باآسانی نبرد آزما ہوسکتی ہے۔

مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے، آرمی چیف

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو بےبہا وسائل سے نوازا ہے جس پر ہمیں ہر وقت شکر ادا کرنا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم آج مل کر واضح پیغام دے رہے ہیں، جو پاکستان کی ترقی کے راستے میں حائل ہوگا ہم مل کر اُس رکاوٹ کو ہٹادیں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ آپ جس ملک میں بھی ہوں، یاد رکھیں آپ کی میراث ایک اعلیٰ معاشرہ، نظریہ اور تہذیب ہے، نامساعد حالات کے آگے بطور مسلمان اور پاکستانی نہیں گھبراتے، ہم کبھی بھی مشکلات اور دشواریوں کے سامنے نہ جھکے ہیں نہ جھکیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ جب تک غیور عوام افوج پاکستان کیساتھ کھڑے ہیں، پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

آرمی چیف کا ایک بار پھر دشمن سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عزم

آرمی چیف نے کہا کہ قوم اپنے شہدا کو نہایت عزت اور وقار کی نظر سے دیکھتی ہے، شہدا کی قربانی لازوال ہے جس پر کبھی ملال نہ آنے دیں گے، ہم پاکستان کو اس مقام پر لے جانا چاہتے ہیں جس کا خواب قائدِاعظم نے دیکھا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ آپ ہمیشہ اپنا سر فخر سے بلند رکھیں کیونکہ آپ کا تعلق کسی عام ملک سے نہیں، آپ ایک عظیم اور طاقتور ملک کے نمائندے ہیں۔

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پاکستانیوں کا دل ہمیشہ غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر جاری ہے، سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے کب ترقی کرنی ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کتنی تیزی سے ترقی کرنی ہے؟

آئی ایس پی آر کے مطابق اپنے خطاب کے اختتام پر آرمی چیف اور شرکا نے ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد“ کا نعرہ لگایا۔

============================

سمندر پار پاکستانی ہمارے سفیر، سر کا تاج ہیں، شہباز شریف
سمندر پار پاکستانی ہمارے سفیر، سر کا تاج ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ہمارے سفیر اور سرکا تاج ہیں، ان پر جتنا کچھ نچھاور کریں کم ہے۔

اسلام آباد میں سمندر پار پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ آج ہمارے پاکستانی یورپ، امریکا، خلیجی ممالک سے یہاں تشریف لائے، ایک کروڑ پاکستانی دنیا کے مختلف خطوں میں آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے شبانہ روز محنت سے طب، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں نام اور رزق حلال کمایا اور تمام ممالک میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام اوورسیز پاکستانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں نے محنت اور لگن سے اپنا مقام بنایا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے وفاقی یونیورسٹیوں میں 5 فیصد کوٹا ہوگاجبکہ سمندر پار پاکستانیوں کے 3 ہزار بچوں کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا جائے گا۔

شہبازشریف نے یہ بھی کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے 5 ہزار بچوں کو ہنر سکھایا جائے گا جبکہ سرکاری ملازمتوں میں عمر کی حد میں 5 سال کی چھوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آن لائن سیل ڈیڈ رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ایک خصوصی آفس مختص کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کا میرپور میں انٹرنیشنل ائر پورٹ کا دیرینہ مطالبہ تھا، جس کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تعمیر کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے اس مرتبہ 4ارب سے زیادہ ترسیلات زر بھیجا ہے، امید ہے کہ ایک سال کے دوران یہ ترسیلات 38 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گی، یہ ترسیلات زر ہماری برآمدات سے بھی زیادہ ہیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ ہرسال 14اگست کو اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے شعبوں میں بہتر کارکردگی پر سول ایوارڈ دیا جائے گا، 15 پاکستانیوں کی نامزدگی بیرون ملک سے اسٹیٹ بینک میں رقم بھیجنے والوں کی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے گرین چینل کا آغاز کیا تھا،چند ہفتوں میں آپریشنل ہوجائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ سپہ سالار عاصم منیر ایک سچے پاکستانی اور زبردست پروفیشنل ہیں، ان کے جو دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر بھی ہوتا ہے، پاکستان کا دفاع محفوظ ہے کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے جہاں سے ملتے ہیں، کون ان کو پیسے دے رہا ہے، اس کا سب کو پتہ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے دہشت گردوں کیخلاف جو جہاد کیا اس کی مثال عصر حاضر میں نہیں ملتی، 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ فاش غلطیوں کی وجہ سے چند سال بعد دہشت گردی دوبارہ سامنے آئی ہے، دہشت گردوں کو سوات اور دوسرے علاقوں میں لاکر بسایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہارڈ اسٹیٹ اور سافٹ اسٹیٹ کے تقاضوں میں فرق ہوتا ہے، معاشی استحکام ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، پاکستان معاشی طاقت بنے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء سے متعلق سوشل میڈیا پر غلیظ گفتگو کی جاتی ہے، پاکستان میں 80 ہزار افراد نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں ظلم اور زیادتی ہورہی ہے، سیزفائر کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے۔
===========================

معاشی استحکام آیا ہے، اس سفر کو آگے لے کر جائیں گے، وفاقی وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ یہ بہت خوش آئند ہے کہ ہم بی مائنس میں واپس گئے ہیں، یہ جو معاشی استحکام آیا ہے، اب اس سفر کو ہم نے آگے لے کر جانا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی 6 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آئی، اسی طرح بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی، وزیراعظم ان اس کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ کل خبر آئی کہ پاکستانی کی تاریخ میں ایک مہینے میں مارچ میں ریکارڈ 4.1 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں، ہمیں توقع ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فچ نے بیان دیا ہے کہ معاشی منظرنامہ مستحکم ہے، انہوں نے ریٹنگ اپڈیٹ کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2022 میں جب ہم معاشی مشکلات میں گئے، تو اس وقت ہماری ریٹنگ بی مائنس تھی، اس کو نیچے کر کے ٹرپل سی کر دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس جولائی میں ہماری ریٹنگ اپ گریڈ کرکے سی پلس کر دیا گیا، اس وقت معاشی اشاریے صحیح سمت میں جا رہے تھے، مہنگائی کم ہو رہی تھی، کرنسی مستحکم تھی، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی نے سوال اٹھایا تھا کہ حکومت جو اسٹرکچر ریفارمز کی بات کر رہی ہے، وہ یہ کر پائے گی یا نہیں، آج بیان آیا ہے اسے پڑھیں، جو اسٹرکچر بینچ مارک تھے، عام طور پر ریٹنگ ایجنسیز وہ پائیداری کو دیکھتی ہیں کہ کچھ عرصہ رک جائے یہ نہ ہو کہ ہم اپ گریڈ کردیں اور پھر خدانخواستہ ہمیں کوئی اور مشکل فیصلہ کرنا پڑے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوش آئند ہے کہ ہم بی مائنس میں واپس گئے ہیں، اب ہم وہاں آئے ہیں، جہاں ہم تین سال قبل موجود تھے، انہوں نے کہا کہ یہ جو معاشی استحکام آیا ہے، اب اس سفر کو ہم نے آگے لے کر جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی مائنس ریٹنگ ہمیں بہت اچھے پوائنٹ پر لے آئی ہے، ہمیں یہاں پر رکنا نہیں ہے، ہم نے ریفارم ایجنڈے کے سفر کو جاری رکھنا ہے، اس کے بعد ہم مضبوط ریٹنگ بی کی طرف جائیں گے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میکرو اکنامک استحکام پہلے بھی آیا تھا، لیکن اب ہم پائیدار معاشی نمو کی طرف بڑھیں گے تاکہ ہم معیشت کو اس طرح لے کر چلیں کہ بوم اینڈ بسٹ سائیکل (زیادہ معاشی نمو اور پھر معاشی مشکلات) سے بچ سکیں۔