پراپرٹی مارکیٹ کی بحالی اور صنعتی ترقی کے لیے کم انٹرسٹ ریٹ ضروری

مالیاتی امور کے ماہر حاجی غنی عثمان کا کہنا ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر رکھتے ہوئے کمی کی طرف لے جانا ہوگا اسی سے ہماری معیشت ترقی کرے گی لوگوں کو ریلیف ملے گا مہنگائی میں کمی ہوگی تو ہمارے لوگ بہتر زندگی گزار سکیں گے اسٹاک اوپر جانے کی وجہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی کمی ہے انڈیکس کا بھی 80 ہزار روپے تھا تو پھر ایک لاکھ ب ہزار تک پہنچا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی اتنی فسکل سپیس ہے یہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کو کم کیا جائے سنگل ڈیجٹ میں رکھا جائے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملنا چاہیے ۔سٹاک مارکیٹ تاریخی بلندیوں کو چھو چکی ہے عالمی اثرات کی وجہ سے اوپر نیچے ضرور ہوا ہے معاملہ لیکن ابھی بہت سٹاک اوپر جا سکتی ہے ہم دیکھ چکے ہیں کہ جب پالیسی ریٹ بڑھتا ہے تو بزنس ختم ہو جاتا ہے لوگ پیسہ بینکوں میں رکھنا شروع کر دیتے ہیں وہاں سے منافع کماتے ہیں اس طرح لوگ ناکارہ ہو جاتے ہیں اور معیشت کو نقصان ہوتا ہے ہونا یہ چاہیے کہ بینکوں میں منافع کی شرح کم ہو تاکہ لوگ پیسہ کاروبار میں لگائیں ڈسکاؤنٹ ریٹ جب کم ہوگا تو انسان سوچے گا کہ میں اب اپنا پیسہ بینکوں میں نہیں رکھتا بلکہ کاروبار میں لگاتا ہوں ۔جب پیسہ کاروبار میں لگے گا تو کاروباری سرگرمیوں کو تیزی ملے گیہائر انٹرسٹ ریٹ کی وجہ سے بینکنگ سیکٹر کو کافی فائدہ ہوا ۔ جو سیکٹر کم قرضے لیتا ہے اس کو پھر زیادہ فائدہ ہوگا مثلا سیمنٹ سیکٹر کو زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب شرع سود کم ہوگی تو سب سے زیادہ فائدہ تو خود حکومت کا ہوگا کیونکہ بینکوں سے سب سے زیادہ قرضے تو حکومت نے لے رکھے ہیں سود کی ادائیگی کم کرنی پڑے گی ۔


ان کا کہنا ہے کہ پالیسی ریٹ کام ہونے سے سب سے بڑا فائدہ حکومت کو ہوگا میرا تو یہی ماننا ہے ۔,,,,,پراپرٹی مارکیٹ کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سال میں ہم نے دیکھا کہ جو پروجیکٹ بن رہے ہیں اس میں ماہانہ اقساط کی ادائیگی عمل میں نہیں ارہی اور پراپرٹی مارکیٹ بالکل نیچے چلی گئی اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ انٹرسٹ ریٹ اگر کم ہوگا تو پراپرٹی مارکیٹ ضرور چلے گی اور جب پراپرٹی مارکیٹ چل پڑے گی تو 45 دیگر انڈسٹریز میں بھی ہلچل اور سرگرمی تیز ہوگی……صنعتی عمل کے فروغ کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب تک بینکوں کے قرضوں کی شرح کم نہیں ہوگی اپ کی سند کا جال نہیں پھیل سکے گا لوگ صنعت کیسے لگائیں گے مہنگا قرضہ لے کر صنعت لگائیں گے تو پھر کمائیں گے تو ٹیکس دیں گے تو کیسے چلا پائیں گے دو ڈھائی سال سے پاکستان میں انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بھی زیادہ نہیں ہوئی اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ قرضے مہنگے ہیں لوگ بینکوں سے قرضے لے کر انڈسٹری نہیں لگا رہے بلکہ اپنا پیسہ بینکوں میں رکھ کر منافع کماتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی پچھلی حکومت میں جب ریٹ ساڑھے اٹھ فیصد تھا تو انڈسٹریل گروتھ ہو رہی تھی اب تو پاکستان میں نہ کوئی بڑی شوگر مل لگ سکتی ہے نہ فرٹیلائزر نہ سیمنٹ ۔کیونکہ اب کیپیٹل بہت زیادہ چاہیے بہت زیادہ لاگت درکار ہوگی اس لیے کوئی نئی انڈسٹری اتنی بڑی نہیں لگ رہی ۔اس عرصے میں اپ کا روپیہ اپنی طاقت کھو بیٹھا ہے پہلے اپ 140 روپے میں باہر سے مشینری منگواتے تھے اب 280 روپے کے حساب سے منگواتے ہیں تو بہت بڑا فرق ا چکا ہے جس انویسٹر نے پرانے دور میں انڈسٹری لگا لی تھی اب نیا انویسٹر اس کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے اس کی تو طاقت ہی بہت زیادہ ہوگی

سنگل ڈیجٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ سے معیشت میں انقلاب اور عوام کو ریلیف کی امید

لاہور: مالیاتی امور کے ماہر حاجی غنی عثمان نے کہا ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لانے سے نہ صرف معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ عوام کو مہنگائی سے بھی ریلیف مل سکے گا، جس سے لوگوں کی زندگیاں بہتر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کرکے اسے سنگل ڈیجٹ میں لانا ہوگا، کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی اور معاشی ترقی کو نئی راہیں ملیں گی۔

حاجی غنی عثمان کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ اضافے کی اہم وجہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “انڈیکس 80 ہزار روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ 6 ہزار تک پہنچ چکا ہے، اور اب بھی بہت سے اسٹاک مزید بڑھ سکتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ “اگر پالیسی ریٹ کم ہو تو لوگ پیسہ بینکوں میں رکھنے کی بجائے کاروبار میں لگائیں گے، جس سے معیشت کو فائدہ ہوگا۔”

بینکنگ سیکٹر کو فائدہ، مگر حکومت سب سے بڑی فائدہ اٹھانے والی
انہوں نے واضح کیا کہ ہائر انٹرسٹ ریٹس کی وجہ سے بینکنگ سیکٹر کو تو فائدہ ہوا ہے، لیکن کم قرضے لینے والے شعبوں جیسے سیمنٹ انڈسٹری کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “سود کی شرح کم ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ حکومت کو ہوگا، کیونکہ سب سے زیادہ قرضے تو حکومت نے ہی لے رکھے ہیں۔ اس طرح سود کی ادائیگی میں کمی آئے گی، جو بجٹ پر دباؤ کو کم کرے گی۔”

پراپرٹی مارکیٹ کی بحالی اور صنعتی ترقی کے لیے کم انٹرسٹ ریٹ ضروری
پراپرٹی مارکیٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ “ماہانہ اقساط کی ادائیگیاں متاثر ہوئی ہیں، اور پراپرٹی مارکیٹ نیچے چلی گئی ہے۔ اگر انٹرسٹ ریٹ کم ہو تو یہ شعبہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے، اور اس سے 45 دیگر صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔”

صنعتی ترقی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ “مہنگے قرضوں کی وجہ سے پاکستان میں صنعتی سرگرمیاں تقریباً جامد ہیں۔ اگر قرضے سستے ہوں تو لوگ نئی صنعتیں لگائیں گے، ورنہ وہ پیسہ بینکوں میں رکھ کر منافع کمانا پسند کریں گے۔” انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی پچھلی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جب پالیسی ریٹ ساڑھے اٹھ فیصد تھا، تو صنعتی ترقی ہو رہی تھی، لیکن اب نئی شوگر مِل، فرٹیلائزر یا سیمنٹ فیکٹری لگانا مشکل ہو گیا ہے۔”

روپے کی کمزوری نے صنعتکاروں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا
انہوں نے روپے کی گراوٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “پہلے 140 روپے میں درآمدی مشینری آ جاتی تھی، اب 280 روپے میں مل رہی ہے۔ اس فرق نے نئے صنعتکاروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈسکاؤنٹ ریٹ کم کر دیا جائے تو نہ صرف پرانے صنعتکاروں کو ریلیف ملے گا، بلکہ نئے سرمایہ کار بھی میدان میں آئیں گے۔

حاجی غنی عثمان نے اختتام پر زور دے کر کہا کہ “معیشت کو پھر سے ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے سنگل ڈیجٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے عوامی زندگی میں بہتری آئے گی۔”