
“فن لینڈ اور جاپان سے سیکھ کر ایک پاکستانی استاد نے چنیوٹ کے سرکاری سکول میں انقلاب برپا کر دیا!”
چنیوٹ (اردو نیوز) – ایک پاکستانی استاد نے فن لینڈ، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی طریقوں کو سٹڈی کر کے اپنے سکول میں ایک منفرد 6 پوائنٹ سٹریٹیجی پلان متعارف کروایا، جس نے روایتی “رٹہ سسٹم” اور “پوزیشن کلچر” کو ختم کر کے بچوں کی تعلیمی و ذہنی نشوونما کو نئی راہ دی ہے۔
صوبہ پنجاب کے شہر چنیوٹ کے نواحی علاقے میں واقع ترکھان والا ہائی سکول آج ایک مثالی تعلیمی ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں استاد ابنِ محمد یار نے نہ صرف نصاب بلکہ پڑھانے کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلیاں لا کر ثابت کیا ہے کہ “حقیقی تعلیم صرف نمبروں کی دوڑ نہیں، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کا نام ہے۔”

کیا ہے یہ 6 پوائنٹ سٹریٹیجی؟
ابنِ محمد یار نے اپنے سکول میں درج ذیل اقدامات متعارف کروائے ہیں:
“رٹہ سسٹم کا خاتمہ” – بچوں کو گائیڈ بکس اور یادداشت پر انحصار کرنے کے بجائے سوالات بنانے اور مسائل حل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
“پوزیشنز کی بجائے ہنر کو سراہا” – اب یہاں اول، دوم، سوم کی دوڑ نہیں، بلکہ “بہترین مقرر”، “بہترین مسئلہ حل کرنے والا”، اور “بہترین تخلیق کار” جیسے اعزازات دیے جاتے ہیں۔
“سٹوڈنٹ آف دی ڈے” – ہر روز ایک بچے کی کامیابیوں کو سوشل میڈیا پر ویڈیو بنا کر سراہا جاتا ہے، جس سے بچوں میں اعتماد بڑھا ہے۔
“عملی مسائل پر کام” – بچوں کو اپنے اردگرد کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس سے ان کی تنقیدی سوچ بہتر ہوئی ہے۔

“سوشل میڈیا کو مثبت استعمال” – سکول کی تعلیمی سرگرمیاں آن لائن شیئر کی جاتی ہیں، جس سے نہ صرف والدین بلکہ تعلیمی حکام بھی متاثر ہوئے ہیں۔
“ہوم ورک کا نیا تصور” – بچے گھر جا کر اپنے سبق کا تجزیہ کرتے ہیں اور اپنے سوالات خود بناتے ہیں، جس سے خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
کیا کہتے ہیں بچے اور والدین؟
سکول کے طالب علم احمد شہزاد کا کہنا ہے کہ “پہلے میں ڈرتا تھا، لیکن اب میں سٹیج پر بولتا ہوں اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔” والدین کا ماننا ہے کہ اس نئے نظام نے بچوں کو زندگی کے لیے تیار کیا ہے، نہ کہ صرف امتحانات کے لیے۔
کیا یہ ماڈل پورے پاکستان میں لاگو ہو سکتا ہے؟
ابنِ محمد یار کا کہنا ہے کہ “اگر حکومت اس نظام کو اپنائے تو پورے ملک کے سرکاری سکولوں میں ایک مثبت انقلاب آ سکتا ہے۔” ان کا ماننا ہے کہ “تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جو غربت، جرائم اور پسماندگی کو ختم کر سکتا ہے۔”
ترکھان والا ہائی سکول کی کہانی صرف ایک سکول کی کہانی نہیں، بلکہ پاکستان کے تعلیمی نظام کی تبدیلی کی امید ہے۔ کیا ہمارے حکمران اس “خاموش انقلاب” کو پورے ملک میں پھیلائیں گے؟
— بشیر چوہدری، اردو نیوز، اسلام آباد
https://www.urdunews.com/node/888270























