میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں جدید جرمن ٹیکنالوجی کی 128سلائس کی حامل مشین مریضوں کے لئے مہیا کر دی گئی۔اس موقع پرافتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق تھے۔ا

میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں جدید جرمن ٹیکنالوجی کی 128سلائس کی حامل مشین مریضوں کے لئے مہیا کر دی گئی۔اس موقع پرافتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق تھے۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری پروکیورمنٹ انور بریار، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ میو ہسپتال ڈاکٹر محمد اجمل، وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز، سی ای اور میو ہسپتال پروفیسر محمد ہارون حامد، پروفیسر یار محمد، ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر احتشام الحق و دیگر

موجود تھے۔خواجہ سلمان رفیق نے اس موقع پر ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرکے طبی سہولیات کا

جائزہ بھی لیا۔ایمرجنسی، ڈائیگناسٹک سنٹر، ٹی بی سنٹر و دیگر وارڈز کا دورہ بھی کیا۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ سی ٹی سکین مشین میو ہسپتال کی ایمرجنسی میں 24 گھنٹے مریضوں کو سہولت فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق عوام تک صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
===========================


صوبائی وزیر محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن خواجہ سلمان رفیق نے کوٹ خواجہ سعید ہسپتال کا دورہ کیا۔ صوبائی وزیر نے او پی ڈی میں مریضوں سے ملاقات کی اور طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔خواجہ سلمان رفیق نے ایمرجنسی، وزیر اعلیٰ کمپلینٹ کاؤنٹر، پرچی کاؤنٹرز، میڈیسن سٹور، زنانہ و مردانہ وارڈز و دیگر شعبہ جات کا دورہ کیا۔اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر عدنان القمر بھی موجود تھے۔صوبائی وزیرصحت نے ادویات کی دستیابی بارے اظہار اطمینان کیا۔انہوں نے مریضوں کی آسانی کیلئے کیو مینجمنٹ سسٹم کو فعال کرنے اور مریضوں کیلئے بینچوں کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔

صوبائی وزیرصحت خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں مریضوں کی قطاروں کے رش میں کمی کیلئے کیو مینجمنٹ سسٹم کا نظام فعال کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق سرکاری ہسپتالوں کے حالات مسلسل مانیٹرنگ سے بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ ایم ایس حضرات مریضوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔ہسپتالوں کے روزانہ کی بنیاد پر دورے کئے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں ادویات کی فہرستیں اور ڈیوٹی روسٹرز ہر وارڈ میں نمایاں مقامات پر آویزاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیرصحت پنجاب نے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں کے حالات بہتر کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ مریضوں کے علاج و معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جا رہی۔ہسپتالوں کے وزٹس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ ہسپتالوں کا دورہ کرکے مریضوں سے طبی سہولیات بارے براہِ راست فیڈ بیک لیا جا رہا ہے۔مریضوں کی شکایات پر موقع پر ہی ایم ایس صاحبان کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔

==========================

پنجاب حکومت کی پالیسی کے تحت، عوامی توقعات کو پورا کرنے اور مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے لاہور جنرل اسپتال (ایل جی ایچ) کی انتظامیہ نے گریڈ 16 تک کے ملازمین کے لیے بائیو میٹرک حاضری لازمی قرار دے دی ہے۔

اس سلسلے میں پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر کی منظوری کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر فریاد حسین نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ بائیو میٹرک حاضری سے ملازمین کی حاضری اور شفٹوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین نے ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، اے ایم ایس اور ڈی ایم ایس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی حاضری اور کارکردگی پر خصوصی نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیو میٹرک حاضری سے مریضوں کی دیکھ بھال مزید بہتر ہوگی۔

ڈاکٹر فریاد حسین نے کہا کہ ڈیوٹی پر تاخیر سے آنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیو میٹرک حاضری سے اسپتال میں نظم و ضبط قائم ہوگا اور کوئی ملازم جعلی حاضری نہیں لگا سکے گا۔

=========================

پی ایم اے کا ہنگامی اجلاس صدر ڈاکٹر کامران سعید کی زیرصدارت پی ایم اے ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی ایم ے کے مرکزی صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری، ڈاکٹر علیم نواز، ڈاکٹر نادر خان، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین، پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک، ڈاکٹر واجد علی، پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی، ڈاکٹر بشریٰ حق، ڈاکٹر ارم شہزادی اور اراکین صوبائی کونسل کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس میں پنجاب میں آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی۔ حکومت کی اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ زمینی حقائق اور اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بغیر کئے گئے اس فیصلے کو محکمہ صحت کے ملازمین کے مستقبل کو تاریک کرنے اور عوام کو صحت جیسی بنیادی ذمہ داری کو مکمل طور پر نجی شعبہ کے حوالے کرنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قرار دیا گیا کہ پی ایم اے پنجاب اور اُس کی پنجاب بھر کی تمام برانچز محکمہ صحت کے ملازمین کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ ہیں اور اُن کی حمائت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اور حکومت پنجاب اور محکمہ صحت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے اس غیر عملی، زمینی حقائق کے برعکس اور ائینی حقوق سے متصادم منصوبے کو ختم کر کے ملازمین کی بے چینی اور تشویش کا ازالہ کیا جائے۔