
حاجی غنی عثمان نے صنعت کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کو سراہا، مزید اقدامات کی اپیل کی
معروف تاجر رہنما
سابق وائس چیئرمین، پی ایس ای کے سینئر رکن اور غنی عثمان گروپ کے چیئرمین حاجی غنی عثمان نے وزیراعظم شہباز شریف کے صنعت کے لیے بجلی کی قیمت میں 7.59 روپے فی یونٹ کمی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ملکی معیشت اور صنعت کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ تاہم، انہوں نے مزید اہم معاملات پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
حاجی غنی عثمان نے جیوے پاکستان ڈاٹ کام سے بات چیت میں کہا کہ “حکومت کا یہ فیصلہ یقیناً قابل ستائش ہے، لیکن اب آئی پی پیز کے مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “حکومت کی میٹھی میٹھی باتیں تو اچھی ہیں، لیکن اگر واقعی مہنگائی کی شرح ڈیڑھ فیصد پر آ گئی ہے (جو ویسے نظر تو نہیں آتی)، تو اس کا اثر اگلی مانیٹری پالیسی میں ضرور نظر آنا چاہیے۔ کہنے کو تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتا، لیکن ان کی مرضی سے فیصلے تو ضرور کرتا ہے۔ اگر سود کی شرح کو سنگل ریٹ پر لے آئیں تو پھر بات بنے گی۔ اگر مانیٹری پالیسی میں شرح سود 12 فیصد سے گھٹا کر 9 فیصد کر دی جائے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔”

ہاؤسنگ سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ “حکومت اس شعبے میں اچھی باتوں کا تو ذکر کر رہی ہے، لیکن ہاؤسنگ لوازمز کی تین چار کیٹیگریز بنا دینی چاہئیں، مثلاً 30 لاکھ، 50 لاکھ، ایک کروڑ وغیرہ۔ غریبوں کو 7-8 فیصد پر قرضہ دے دیا جائے تو ہاؤسنگ کا شعبہ ترقی کرے گا اور عوام کی ضروریات بھی پوری ہوں گی۔ فی الحال بینک 12 فیصد پر قرضہ دے رہے ہیں، اگر حکومت 3 فیصد کا فرق برداشت کر لے تو یہ کام آسان ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہاؤسنگ کے لیے طویل مدتی قرضے دیے جاتے ہیں، اسی لیے وہاں کامیابی ہے۔ ہمارے ہاں بھی شرح سود کم کرنی چاہیے، تب ہی ہاؤسنگ کا شعبہ ترقی کر سکتا ہے۔”
آٹو موبائل انڈسٹری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ “گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ لیزنگ کی لاگت تو کم ہوئی ہے، لیکن سوزوکی 600 سی سی گاڑی بھی 27 لاکھ روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جو عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔”

چینی کی صنعت کے حوالے سے، حاجی غنی عثمان (جو خود شوگر مل کے مالک ہیں) نے بتایا کہ “ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار سے اس سلسلے میں مثبت بات چیت ہوئی ہے اور 19 اپریل تک کوئی عملی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ شوگر ملوں کا موقف ہے کہ چینی کی قیمت 169 روپے ہونی چاہیے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ریٹیل ریٹ 154 سے 164 روپے کے درمیان ہونا چاہیے۔ اگر چینی 169 روپے پر دستیاب ہو تو آسانی ورنہ مشکلات ہوں گی۔”
بیرون ملک سے براؤن شوگر درآمد کرنے کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ “اف سیزن میں براؤن شوگر سے سفید چینی بنانے کی لاگت زیادہ آتی ہے، جس کا حکومت کو ادراک ہونا چاہیے۔ اگر اب براؤن شوگر منگوائی گئی تو اس کی لاگت ڈبل ہو جائے گی۔ البتہ، جب ملز مکمل طور پر فعال ہوں تو براؤن شوگر سے سفید چینی بنانا سستا پڑتا ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ “پاکستان میں زیادہ تر چینی صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ عام صارفین صرف 30 فیصد چینی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے چینی پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، جو درست نہیں۔”
انہوں نے اختتام پر کہا کہ “موجودہ معاشی حالات میں نئی شوگر مل لگانا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ اس وقت نئی ملوں کے قیام کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔”
حاجی غنی عثمان کا یہ جامع انٹرویو حکومت کو صنعتی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی طرف توجہ دلانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ امید ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ان مسائل پر سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔
حاجی عثمان غنی نے مزید کہا کہ حکومت کی میٹھی میٹھی باتیں تو اچھی ہیں لیکن اگر واقعتا مہنگائی کی شرح ڈیڑھ فیصد پر اگئی ہے جو ویسے نظر تو نہیں اتی تو پھر اس کا اثر اگلی مانیٹری پالیسی میں ضرور نظر انا چاہیے کہنے کو تو سٹیٹ بینک اف پاکستان حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتا لیکن ان کی مرضی سے فیصلے تو ضرور کرتا ہے اس کو بھی سنگل ریٹ پر لے ائیں تو پھر بات بنے گی مانیٹری پالیسی میں 12 فیصد سے نو فیصد پر اگر لے اتے ہیں تو بڑی بات ہو جائے گی اسی طرح ہاؤسنگ کی باتیں تو بہت اچھی اچھی کر رہے ہیں لیکن اس کی تین چار کیٹیگریز بنا دینی چاہیے 30 لاکھ 50 لاکھ ایک کروڑ وغیرہ اور غریبوں کو سات اٹھ فیصد پر قرضہ دے دیں تو ہاؤسنگ کا شعبہ بھی اگے بڑھے گا لوگوں کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اب 12 فیصد پر قرضہ بینکوں سے لے کر دے رہی ہے تو تین فیصد کا جو فرق ہے وہ اگر حکومت برداشت کر لے تو یہ کام اسان ہو سکتا ہے دنیا بھر میں لانگ ٹرم پر لون دیا جاتا ہے اس لیے وہاں کامیاب ہے ہمارے یہاں انٹرسٹ ریٹ کم کرنا چاہیے اس طرح ہاؤسنگ کا شو بات ترقی کر سکتا ہے اٹو لون اور گاڑیوں کی قیمت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اب لیزنگ کی کاسٹ کم ضرور ہوئی ہے لیکن سوزوکی 600 سی سی بھی 27 لاکھ روپے میں مل رہی ہے گاڑیوں کی قیمت بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔
حاجی غنی عثمان چونکہ شوگر مل کے بھی مالک ہیں اور شوگر انڈسٹری پر گہری نظر رکھتے ہیں اس حوالے سے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار سے ایک اتفاق رائے ہوا ہے اور 19 اپریل تک اس پر عمل درامد کی امید ہے شوگر انڈسٹری کی توقع ہے کہ 1969 روپے کا ریٹ ملنا چاہیے جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ابھی 154 سے 169 تک ہے اس کو 164 تک ریٹیلر بیچے اگر وہ 169 پر اگیا تو پھر لوگ بیچ پائیں گے ورنہ مشکل ہوگی باہر سے براؤن شوگر منگوانے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اف سیزن میں براؤن شوگر سے وائٹ شوگر بنانے کی کاسٹ بھی زیادہ ہوتی ہے یہ بات بھی حکومت کو پتہ ہونی چاہیے اس وقت براؤن شوگر منگوائیں گے تو کاسٹ ڈبل پڑے گی جب رننگ کنڈیشن ہوتی ہے تو براؤن شوگر سے وائٹ شوگر سستی پڑتی ہے ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر چینی پاکستان میں انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہے کنزیومر یا عام لوگ تو 30 فیصد کے قریب چینی استعمال کرتے ہیں اس پر بھی انہوں نے ٹیکس ریٹ بڑھا دیا ہے ایک سمال پر انہوں نے کہا کہ نئی شوگر مل ان حالات میں لگانا کسی کے لیے بھی اسان کام نہیں ہے نہیں لگ سکتی حالات نئی شوگر مل کے لیے سازگار نہیں ہیں ۔























