
گلگت بلتستان: پھنڈر کے رہائشی 6 دن سے برفانی محاصرے میں، سڑکیں اور مواصلاتی نظام تباہ
غذر: ضلع غذر کی بالائی تحصیل پھنڈر کا زمینی رابطہ مسلسل چھٹے دن بھی منقطع ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے ہزاروں افراد مشکلات کا شکار ہیں۔ شدید برفباری اور برفانی تودوں کے گرنے سے نہ صرف سڑکیں بند ہیں، بلکہ مواصلاتی نظام بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
سابق صوبائی وزیر عبدالجہاں نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پھنڈر کے عوام گزشتہ 6 دن سے برف میں محصور ہیں، اور ان کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ صوبائی حکومت کو فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سڑکوں کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔”
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت ہو رہی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں بھی شدید موسم اور راستے بند ہونے کی وجہ سے اندر نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
صوبائی حکومت کی طرف سے اب تک کوئی عملی اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں، جس پر عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری ریلیف اور بحالی کے کام شروع کیے جائیں، ورنہ صورت حال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
==========================
شمالی وزیرستان: 3 ٹاورز ٹوٹنے سے بجلی کی سپلائی 6 روز سے معطل
خیبر پختون خوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں بجلی کی سپلائی گزشتہ 6 روز سے معطل ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بجلی کی قیمت 10 روپے کم ہونی چاہیے: فاروق ستار
6 روز قبل بکا خیل کے پہاڑی علاقے میں تیز ہواؤں کی وجہ سے بجلی کے 3 ٹاورز ٹوٹ گئے تھے۔
ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کے ٹاورز کی مرمت پر مزید وقت لگ سکتا ہے۔
=========================
بولان میل کی کوئٹہ تا کراچی روزانہ روانگی شروع نہ ہو سکی
بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ سے پاکستان کے معاشی حب کراچی کے لیے بولان میل کی روزانہ روانگی شروع نہ ہو سکی۔
پاکستان ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بولان میل ابھی کوئٹہ سے ہفتے میں 2 روز کراچی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق بوگیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے بولان میل کی روز روانگی عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔
یاد رہے کہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلویز نے 31 مارچ سے بولان میل کی روزانہ روانگی کا اعلان کیا تھا۔























