اسٹاک ایکسچینج میں پاکستانیوں کو سب سے زیادہ نقصان مشرف دور میں ہوا 2005 بدترین سال تھا ہمیشہ نواز شریف کے دور میں نئے ریکارڈ بنے اور شہباز شریف کے دور میں نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے ،ماہرین کی رائے


اسٹاک ایکسچینج میں پاکستانیوں کو سب سے زیادہ نقصان مشرف دور میں ہوا 2005 بدترین سال تھا ہمیشہ نواز شریف کے دور میں نئے ریکارڈ بنے اور شہباز شریف کے دور میں نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے ،ماہرین کی رائے

پاکستان میں سٹاک ایکسچینج کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بہت سے اپ اینڈ ڈاؤن نظر اتے ہیں لیکن اسٹاک ایکسچینج کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرف دور میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا خاص طور پر سال 2005 بدترین سال تھا جب بہت سے بروکرز اور انویسٹرز کو بھی نقصان ہوا دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا جائے تو ہمیشہ ہی ریکارڈ بنتے رہے اور انہوں نے ہی پاکستان کی تاریخ میں سب سے اونچے اہداف حاصل کیے تھے جبکہ عمران خان کے دور میں سٹاک ایکسچینج نواز شریف کے مقابلے میں نیچے چلی گئی تھی اور اب شہباز شریف کے دور میں تو نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے اور اتنی بلندی پر 100 انڈیکس پہنچ چکا ہے کہ کسی نے اس کا تصور نہیں کیا تھا اور کسی کو یقین بھی نہیں ا رہا تھا لیکن یہی سچ ہے کہ اس وقت پاکستان سٹاک ایکسچینج اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اس نے ریکارڈ اہداف حاصل کیے ہیں نئے سنگ میل عبور کیے ہیں اور دنیا حیران ہے اور یہ حکومتی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا کھلا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے

پاکستانی اسٹاک ایکسچینج: تاریخ کے سنہری اوراق اور نئے ریکارڈز

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے اپنے سفر میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں یہ نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ نقصان جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ہوا، خاص طور پر 2005 کا سال بدترین ثابت ہوا جب سرمایہ کاروں اور بروکرز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے برعکس، سابق وزیراعظم نواز شریف کے ادوار میں اسٹاک ایکسچینج نے مسلسل ترقی کی اور نئے ریکارڈ قائم کیے۔

تاریخی پس منظر: اُتار چڑھاؤ کا سفر
پاکستان اسٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا کی اہم ترین مارکیٹس میں سے ایک ہے، جس نے کئی بحرانوں اور کامیابیوں کا سامنا کیا ہے۔ 2005 میں مارکیٹ کریش نے سرمایہ کاروں کو سخت نقصان پہنچایا، جس کی وجہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی پالیسیوں میں عدم تسلسل تھا۔ تاہم، نواز شریف کی حکومتوں کے دوران معاشی استحکام اور پرائیویٹائزیشن پالیسیز نے مارکیٹ کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں PSX نے تاریخی بلندیوں کو چھوا۔

نواز شریف کا دور: ریکارڈز کی بارش
ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے تینوں ادوار (1990-1993، 1997-1999، 2013-2017) میں اسٹاک مارکیٹ نے زبردست کارکردگی دکھائی۔ خاص طور پر 2016-2017 میں KSE-100 انڈیکس 50,000 پوائنٹس کو عبور کر گیا، جو اس وقت ایک تاریخی سنگ میل تھا۔ ان کے دور میں پراعتماد سرمایہ کاری ماحول، بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے نے مارکیٹ کو مستحکم کیا۔

عمران خان کا دور: کمی کا رجحان
2018 سے 2022 تک عمران خان کی حکومت کے دوران اسٹاک مارکیٹ نے کچھ دباؤ کا سامنا کیا۔ سیاسی عدم یقینیت، معاشی چیلنجز اور عالمی بحران (جیسے COVID-19) کے اثرات کی وجہ سے KSE-100 انڈیکس میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ تاہم، اس کے باوجود کچھ شعبوں میں ترقی جاری رہی۔

شہباز شریف کا دور: نئی تاریخ رقم
موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورِ حکومت میں PSX نے ایک بار پھر زبردست عروج دیکھا ہے۔ KSE-100 انڈیکس 70,000 سے تجاوز کر چکا ہے، جو پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ معیشت میں بہتری، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

ماہرین کی رائے: “یہ اعتماد کی علامت ہے”
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی اصلاحات، بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع اور مستحکم پالیسیاں مارکیٹ کے لیے مثبت ثابت ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ پاکستان کی معیشت کے مستقبل کی روشن تصویر ہے۔”

نتیجہ: ایک نئی صبح کی امید
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی موجودہ کامیابی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ درست پالیسیوں اور قیادت کے ذریعے ملک معاشی ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ جہاں ماضی میں کچھ ادوار میں نقصانات ہوئے، وہیں آج PSX کی شاندار کارکردگی پورے ملک کے لیے امید کی کرن ہے۔ دنیا حیران ہے، اور پاکستان ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے!

رپورٹ- سالک مجید ایڈیٹر جیوے پاکستان ڈاٹ کام