کے الیکٹرک- اے آئی سے چلنے والا چیٹ بوٹ-اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟

کے الیکٹرک کا نیا AI چیٹ بوٹ — اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش؟

کراچی، 28 مارچ 2025

کے الیکٹرک نے پاکستان کا پہلا جنریٹو AI چیٹ بوٹ “کینیٹو” متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے، جسے وہ اپنی ڈیجیٹل جدت کاری کا ایک اہم سنگ میل قرار دے رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم صارفین کو 24/7 تیز اور آسان سہولت فراہم کرے گا، جس سے لمبی قطاروں اور انتظار کے مسائل کم ہوں گے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا یہ ٹیکنالوجی کا یہ نیا تجربہ کے الیکٹرک کے بنیادی مسائل کا حل ہے، یا پھر صارفین کی توجہ بجلی کی لوڈشیڈنگ، غلط بلنگ اور ناقص سروس سے ہٹانے کی ایک چال؟

صارفین کے ذہن میں شکوک و شبہات
اگرچہ کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلے ہفتے میں 3,200 سے زائد صارفین نے کینیٹو کو استعمال کیا، لیکن کراچی کے عوام اب بھی درج ذیل مسائل کا شکار ہیں:

بلا اطلاع لوڈشیڈنگ، چاہے بل وقت پر ادا کر دیا جائے۔

فرسودہ نیٹ ورک، جس کی وجہ سے گرمی یا بارش میں گھنٹوں بلکہ بعض اوقات دنوں بجلی غائب رہتی ہے۔

غلط بلوں کے مسائل اور شکایات کے باوجود کوئی تسلی بخش کارروائی نہ ہونا۔

یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ کے الیکٹرک کو پہلے اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، نہ کہ صارفین کو AI کے جادو میں الجھانا چاہیے۔

عوام کا اعتماد اُٹھ چکا — کیا کے ای کے CEO کا عوام میں کوئی وقار بچا ہے؟
کے الیکٹرک اور کراچی کے عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج دن بدن وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے:

اگر کے الیکٹرک کا CEO عوام کے سامنے جاکر اپنا تعارف کروائے، تو کیا لوگ اس کا استقبال کریں گے؟

یا پھر ان کا ردِ عمل بجلی کے مسائل پر غصہ اور مایوسی پر مبنی ہوگا؟

حقیقت یہ ہے کہ کے الیکٹرک کو کراچی کا قابلِ فخر خدمت گزار ادارہ سمجھنے کے بجائے منافع خور اور لاپرواہ کمپنی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ صارفین کے ای کو اپنا دوست نہیں بلکہ ایک جبری رشتہ سمجھتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ:

بلنگ میں شفافیت کی کمی ہے؟

سروس کے معیار پر عملدرآمد نہیں ہوتا؟

کمپنی کے دعوے اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہے؟

نتیجہ: بغیر اعتماد کے ٹیکنالوجی بے کار ہے
AI چیٹ بوٹ چاہے جتنا بھی جدید کیوں نہ ہو، کے الیکٹرک کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ عوام کا اعتماد کیسے بحال کرتا ہے۔ جب تک کراچی کو مستقل بجلی کی فراہمی نہیں ملتی، صارفین کے مسائل پر توجہ نہیں دی جاتی، تب تک ڈیجیٹل ترقی کے تمام دعوے محض دکھاوے ہی رہیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کے الیکٹرک کی قیادت کب بورڈ روم سے نکل کر کراچی کے بجلی کے بحران کو سنجیدگی سے حل کرے گی؟

=======================
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک پاکستان کی پہلی پاور یوٹیلیٹی بن گئی ہے جس نے ایک جنریٹیو اے آئی سے چلنے والا چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے، جسے “کینیٹو” کا نام دیا گیا ہے کےالیکٹرک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کے الیکٹرک کی غیرمعمولی جدّت کے سفر کا تسلسل ہے، جس کے تحت اس نے اپنے تمام ڈیجیٹل چینلز پر صارفین کے اطمینان میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔کینیٹو کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ لاکھوں صارفین کو تیز، آسان اور 24/7 سہولت فراہم کرے، تاکہ لمبی قطاروں اور انتظار کی زحمت سے بچا جا سکے۔محض پہلے ویک اینڈ کے دوران، 3,200 سے زائد صارفین نے اس چیٹ بوٹ کے ساتھ انٹریکٹ کیا اور تقریباً 13,000 بار اس سے استفادہ حاصل کیا۔یہ لانچ کے الیکٹرک کے وسیع تر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سفر کا حصہ ہے، جس میں کے ای لائیو ایپ اور دو زبانوں میں واٹس ایپ سروس بھی شامل ہیں۔

======================
رشوت وصولی، جعلی حاضری تنازع، ای او بی آئی کے 2ریجنل ہیڈز کے خلاف تحقیقات شروع
کراچی (اسٹاف رپورٹر) رشوت وصولی اور جعلی حاضری کے الزامات کے تحت ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) رحیم یار خان اور ملتان کے ریجنل ہیڈز کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئیں۔ذرائع کے مطابق ریجنل ہیڈ رحیم یار خان ملک محمد اشرف خان کے خلاف ان کی ایک ماتحت خاتون ڈپٹی ریجنل ہیڈ نے شکایت کی تھی کہ ریجنل ہیڈ نے ایک رجسٹرڈ آجر سے ان کے ملازمین کی مد میں ماہانہ ای او بی آئی کنٹری بیوشن میں جوڑ توڑ کے ذریعے 3لاکھ روپے رشوت وصول کی تھی، جس پر قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ نے ریجنل ہیڈ اسلام آباد ویسٹ فرید احمد کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔