
گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں کے خوبصورت پہاڑوں پر تازہ برفباری نے موسم کو خوشگوار اور نظاروں کو دلکش بنا دیا ہے۔ بابو سر ٹاپ، نانگا پربت، بٹوگاہ ٹاپ اور نیاٹ کے علاوہ چلاس، داریل، تانگیر اور گوہر آباد کے پہاڑوں پر بھی سفید چادر بچھ گئی ہے، جو سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے ایک منفرد نظارہ پیش کر رہی ہے۔
ادھر استور کے بالائی علاقوں میں برفباری جاری ہے جبکہ میدانی حصوں میں بارشوں سے فضا صاف ہو گئی ہے۔ اگرچہ خچک کے مقام پر برفانی تودے گرنے سے استور ویلی روڈ عارضی طور پر بند ہوئی، تاہم محکمہ شاہرات اور این ڈی ایم اے کی ٹیمز مسلسل کام کر رہی ہیں تاکہ جلد از جلد سڑک کو بحال کیا جا سکے۔ پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
کوہستان اور گلگت میں بارشیں جاری، لیکن ہنگامی اقدامات فعال
گلگت بلتستان اور کوہستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے باوجود ہنگامی ادارے الرٹ ہیں۔ اپر کوہستان کے علاقے شتیال میں لینڈ سلائیڈنگ کے بعد شاہراہِ قراقرم کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کیا گیا، تاہم محکمہ شاہرات کی ٹیمیں تیزی سے کام کر رہی ہیں تاکہ رابطہ منقطع نہ ہو۔
مقامی انتظامیہ نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسمی حالات سے آگاہ رہنے کے لیے محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کریں۔ اس کے ساتھ ہی، سیاحوں کو پہاڑی علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
برفباری سے زراعت اور پانی کے ذخائر کو فائدہ
ماہرین کے مطابق اس برفباری سے نہ صرف پانی کے ذخائر میں اضافہ ہوگا بلکہ آنے والے موسم میں زراعت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگی۔ پہاڑی علاقوں میں برف کی موٹی تہہ سے گرمیوں میں دریاؤں کے بہاؤ کو مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔
موسم کی یہ تبدیلی سیاحوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے جو برفانی مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ انتظامیہ نے تمام ضروری سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں تاکہ سیاحوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید معلومات کے لیے مقامی انتظامیہ یا محکمہ موسمیات کے ہاٹ لائن نمبرز پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔























