
سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی کی اراضی کے تنازعے سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کی جامعہ کراچی کیخلاف درخواست پر بورڈ آف ریوینیو سے 3 ہفتوں میں ریکارڈ طلب کرلیا۔ ہائیکورٹ میں جامعہ کراچی کی اراضی کے تنازعے سے متعلق پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول کی جامعہ کراچی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ جامعہ کراچی نے درخواست گزار کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔ درخواستگزار نبیل گبول نے قبضہ خالی کروانے کے لیے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو درخواست دی تھی۔ ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے درخواست کو مختیار کار گلزار ہجری کو بھیجی۔ جامعہ کراچی نے موقف اختیار کیا کہ 1954سے 1962 کے درمیان زمین الاٹ ہوئی ہے، یونیورسٹی کے پاس کوئی اضافی زمین نہیں ہے۔ جامعہ کراچی کے جواب میں کسی عہدیدار کے دستخط نہیں تھے۔ جامعہ کراچی کی جانب سے زمین کے کوئی دستاویز پیش نہیں کئے گئے۔ ریوینیو ریکارڈ میں مذکورہ اراضی درخواست گزار اور انکی بہن کے نام پر ہے۔ عدالت ریونیو افسران، کمشنر کراچی اور دیگر کو اراضی کے سروے اور ڈیمارگیشن کا حکم جاری کرے۔ عدالت نے بورڈ آف ریوینیو سے 3 ہفتوں میں ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کردی۔























