پاکستان کے 22 اضلاع کے سیوریج نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق – خطرے کی گھنٹی

لاہور
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے پاکستان کے 22 اضلاع سے لیے گئے سیوریج نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے، جو ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ 21 فروری سے 6 مارچ کے درمیان اکٹھے کیے گئے 28 ماحولیاتی نمونوں میں سے سندھ کے 12، پنجاب کے 2، خیبر پختونخوا کے 2 اضلاع کے علاوہ اسلام آباد، چمن اور جنوبی وزیرستان کے نمونے بھی پولیو وائرس سے آلودہ پائے گئے ہیں۔

پاکستان میں پولیو کا چیلنج
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اس جنگ کے باوجود، وائرس کا ماحولیاتی نمونوں میں بار بار پایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ یہ مرض اب بھی کئی علاقوں میں سرگرم ہے۔ پولیو کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ویکسینیشن مہمات کے دوران حفاظتی ٹیکوں سے انکار، غربت، تعلیم کی کمی اور بعض علاقوں میں عدم رسائی ہے۔

حالیہ کوششیں اور پیش رفت
حکومت پاکستان اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اشتراک سے گزشتہ چند سالوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر مہمات چلائی گئیں۔ ان میں:

گھر گھر ویکسینیشن مہمات – ہر سال کروڑوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔

سیوریج مانیٹرنگ – وائرس کی نشاندہی کے لیے ماحولیاتی نمونوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔

عوامی آگاہی – مذہبی رہنماؤں اور مقامی لیڈروں کے ساتھ مل کر ویکسین کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کیا جا رہا ہے۔

ہائی رسک اضلاع پر توجہ – سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔

مستقبل کا روڈ میپ
پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت اور شراکت دار ادارے مندرجہ ذیل اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں:

مزید ویکسینیشن ڈرائیوز – کمزور علاقوں میں اضافی مہمات چلائی جائیں گی۔

سیوریج اور پانی کی صفائی – آلودہ پانی کے ذرائع کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات۔

ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کا استعمال – جی پی ایس ٹریکنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے مہمات کی نگرانی۔

عوامی تعاون – والدین کو یقین دلانا کہ پولیو ویکسین محفوظ اور ضروری ہے۔

آخری بات
پولیو کا خاتمہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے ہر سطح پر اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر تمام والدین اپنے بچوں کو ویکسین ضرور پلائیں اور حکومتی کوششوں میں تعاون کریں، تو پاکستان جلد ہی پولیو سے پاک ہو سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے وزارت صحت یا ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹس ملاحظہ کریں۔

#پولیو_سے_آزادی #صحت_منڈیائے_پاکستان

(خبر کا اختتام)