یونیورسٹی طالبات نے کیا ایک اور روشن کام-ہر کوئی تعریف کر رہا ہے

یونیورسٹی طالبات نے کیا ایک اور روشن کام-ہر کوئی تعریف کر رہا ہے
اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طالبات نے اپنے فائنل سمیسٹر کے پروجیکٹ “نور رمضان” کے تحت روالپنڈی کے زوک اولڈ ایج ہوم میں بزرگوں کے ساتھ افطار کا اہتمام کیا۔ یہ طالبات نہ صرف اپنے پروجیکٹ کے لیے پیسے جمع کرنے میں کامیاب رہیں بلکہ انہوں نے مستحق افراد تک رمضان کے مہینے میں راشن بھی تقسیم کیا۔
طالبات کی اس مہم کا مقصد معاشرے میں بے گھر اور بزرگ افراد کی دیکھ بھال کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا۔ پروجیکٹ سپروائزر ڈاکٹر عائشہ صدف کے مطابق، طالبات کو ایسے ہی فلاحی کاموں کے ذریعے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پروجیکٹس دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری طالبات نے اس پروجیکٹ کو صرف ایک تعلیمی تقاضے کے طور پر نہیں لیا بلکہ انہوں نے اسے انسانی خدمت سمجھتے ہوئے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
زوک اولڈ ایج ہوم میں تقریباً 20 بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ ان بزرگوں نے طالبات کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ “لوگ ہمارے پاس آتے ہیں، چیزیں بھی لاتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے نہیں آتے۔ ہماری نوجوان نسل سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں تاکہ انہیں بھی کل کو اولڈ ایج ہوم کا رخ نہ کرنا پڑے۔”
فائنل سمیسٹر کی طالبہ اور “نور رمضان” مہم کی لیڈر حمنہ معظم نے بتایا کہ “ہم نے اولڈ ایج ہوم میں افطار کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ جو خوشی ہم اپنے گھروں میں اپنے خاندان کے ساتھ مناتے ہیں، وہی خوشی ان بزرگوں کے ساتھ بھی بانٹ سکیں۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک وہ 20 سے زائد خاندانوں میں راشن تقسیم کر چکی ہیں۔
میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سال میں دو مرتبہ طالبات کو ایسے پروجیکٹس دیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے وہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس مہم کے تحت طالبات نے نہ صرف بزرگوں کے ساتھ افطار کیا بلکہ انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں بھی عزت اور محبت کی ضرورت ہے۔
یہ مہم نہ صرف طالبات کے لیے ایک تعلیمی تجربہ تھا بلکہ اس نے انہیں معاشرتی خدمت کے جذبے سے بھی روشناس کرایا۔ طالبات کی یہ کوشش معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی ایک کڑی ہے، جسے آنے والے وقتوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔
========================
خیبرپختونخواہ میں میٹرک امتحان کیلئے زائد فیس وصول کرنے والے سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
زائد فیس وصول کرنے والے سکول مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور طلباء و طالبات سے وصول کی گئی زائد فیس واپس کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی گئی
خیبرپختونخواہ میں میٹرک امتحان کیلئے زائد فیس وصول کرنے والے سکولوں ..
پشاور ( 23 مارچ 2025ء ) خیبرپختونخواہ حکومت نے میٹرک امتحان کیلئے زائد فیس وصول کرنے والے سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت کی جانب سے میٹرک کے امتحانات کے لیے پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے مقرر کردہ فیس سے زائد فیس وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ فیصلہ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت میٹرک کے امتحان میں نقل کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کے دوران کیا گیا۔
پشاور تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کی جانب سے اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ میٹرک کے امتحان کےلیے بورڈ کی جانب سے 2 ہزار 600 روپے فیس مقرر کی گئی ہے تاہم بیشتر پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے مقررہ شرح سے زائد فیس طلباء و طالبات سے وصول کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ زائد وصولی کے معاملے پراس پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے بورڈ چیئرمین کو ان اسکولوں کی فہرست ڈپٹی کمشنرز کو فراہم کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ہمراہ زائد فیس وصول کرنے والے سکول مالکان کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور طلباء و طالبات سے وصول کی گئی زائد فیس واپس کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔
==========================
عیدالفطر پر تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان
March 23, 2025
عیدالفطر کے موقع پر تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعطیلات 31 مارچ سے 4 اپریل تک ہوں گی اور نئے تعلیمی سیشن کا آغاز 7 اپریل سے ہو گا۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے بھی عید کی تعطیلات کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے نوٹس کے مطابق تعلیمی ادارے عیدالفطر کے موقع پر 31 مارچ سے 2 اپریل تک تین دن کے لیے بند رہیں گے۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے عید الفطر 31 مارچ کو ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔























