
لاہور()فیٹی لیور خاموش مگر قابلِ علاج مر ض ہے ان باتوں کا اظہار لیور ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر عزیز الرحمان نے خصوصی گفتگو میں کیا ان کا کہنا تھا کہ جدید طرزِ زندگی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے جگر کی چربی (فیٹی لیور) ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔یہ بیماری شروع میں کوئی خاص علامات ظاہر نہیں کرتی، لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو یہ سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ فیٹی لیور بنیادی طور پر دو اقسام کا ہوتا ہے،ایک وہ جو شراب نوشی سے ہوتا ہے، اور دوسرا جو غیر ا لکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD) کہلاتا ہے۔ پاکستان میں دوسرا قسم زیادہ عام ہے، اور اس کی بڑی وجوہات میں غیر متوازن غذا، زیادہ چکنائی اور فاسٹ فوڈ کا استعمال، سافٹ ڈرنکس، موٹاپا، ذیابیطس، اور سست طرزِ زندگی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیٹی لیور کا مسئلہ زیادہ تر ان لوگوں میں ہوتا ہے جو جسمانی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔وزن کا بڑھنا اور جسم میں انسولین کی مزاحمت (Insulin Resistance) بھی اس بیماری کے اہم اسباب میں سے ہیں۔ڈاکٹرعزیز الرحمان نے فیٹی لیور کی علامات اور پیچیدگیوں کے بارےبتایا کہ فیٹی لیور کے آغاز میں کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مریض کو تھکن، پیٹ کے دائیں جانب ہلکا درد، بھوک میں کمی، متلی، اور جسمانی کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری اسٹیٹو ہیپاٹائٹس (NASH) کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس میں جگر میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ آگے چل کر یہ مرض فائبروسس اور سروسس میں تبدیل ہو سکتا ہے،
جو کہ جگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور جگر کے ناکارہ ہونے (Liver Failure) یا جگر کے کینسر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔فیٹی لیور کی تشخیص کے حوالے سے ڈاکٹر عزیز الرحمان نے بتایا کہ اس بیماری کی تشخیص عام طور پر الٹراساؤنڈ، لیور فنکشن ٹیسٹ (LFTs) اور فائبرواسکین جیسے ٹیسٹوں کے ذریعے کی جاتی ہے جبکہ تفصیلی معائنے کے لیے ایم آر آئی یا بایوپسی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر مریض اس بیماری کی تشخیص میں تاخیر کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں کسی قسم کی جسمانی تکلیف محسوس نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے بیماری مزید بگڑ جاتی ہے۔ڈاکٹر عزیز الرحمان نے زور دیا کہ فیٹی لیور کا کوئی مخصوص دوائی سے علاج نہیں، بلکہ طرزِ زندگی میں تبدیلی ہی اس کا اصل حل ہے۔ ان کے مطابق، صحت مند غذا، باقاعدگی سے ورزش، اور وزن میں کمی بیماری کو قابو میں رکھنے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ روزانہ کم از کم 30 سے 45 منٹ کی جسمانی سرگرمی، جیسے چہل قدمی، جاگنگ یا سائیکلنگ، کو معمول بنانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، زیادہ فائبر والی غذا جیسے سبزیاں، دالیں، اور پھل کھانے سے جگر کی چربی کم کی جا سکتی ہے۔ چکنائی والے کھانوں، فرائیڈ فوڈ، مصنوعی مشروبات، اور زیادہ میٹھے کھانے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ غذائیں، جیسے سبز چائے، زیتون کا تیل، گری دار میوے، اور فش آئل جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔ پانی کا زیادہ استعمال اور پروسیسڈ فوڈ سے پرہیز بھی جگر کے لیے بہترین ہے۔ڈاکٹر عزیز الرحمان نے کہا کہ، فیٹی لیور سے بچنے کے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ لوگ اپنے طرزِ زندگی کو بہتر بنائیں۔ متحرک زندگی گزاریں، نیند پوری کریں، ذہنی دباؤ
سے بچیں، اور متوازن خوراک کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔























