
بلوچستان کے طلباء کے لیے مشکل دور، صبر کا مظاہرہ کریں، یہ مشکل وقت جلد ختم ہو جائے گا
بلوچستان میں یونیورسٹیز میں تدریسی عمل آن لائن کردیا گیا
تازہ ترین قومی خبریں | 19 مارچ، 2025
کوئٹہ: بلوچستان کے طلباء کے لیے حالات انتہائی مشکل ہو چکے ہیں۔ صوبے کی کئی یونیورسٹیز میں تدریسی عمل آن لائن کر دیا گیا ہے، جبکہ کچھ یونیورسٹیز میں طلباء کے مابین ہونے والے احتجاج اور سیکیورٹی خدشات کے باعث تدریسی عمل معطل کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی، ویمن یونیورسٹی، آئی ٹی یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف تربت سمیت کئی تعلیمی اداروں میں طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے آن لائن کلاسز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
تربت یونیورسٹی میں چند طلباء کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ہونے والے احتجاج کے بعد انتظامیہ نے یونیورسٹی بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ انتظامیہ کے مطابق، طلباء کی بہتری اور سیکیورٹی کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں واقع دیگر یونیورسٹیز میں بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث تدریسی عمل غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
بلوچستان کابینہ نے سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کارروائی سے صوبے کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا ہے۔ تاہم، طلباء کے لیے یہ دور انتہائی مشکل ہے۔ انہیں نہ صرف تعلیمی نقصان کا سامنا ہے، بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔

طلباء کے لیے چیلنجز اور خدشات
بلوچستان کے طلباء کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث یونیورسٹیز کا بند ہونا، آن لائن تعلیم تک محدود رسائی، اور معاشی مشکلات نے طلباء کی پڑھائی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی طلباء کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے وہ آن لائن کلاسز سے مستفید نہیں ہو پا رہے۔
ایک طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔ آن لائن کلاسز کے لیے انٹرنیٹ کا خرچہ برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی، گھر پر پڑھائی کا ماحول بھی مناسب نہیں ہے۔”
صبر کا مظاہرہ کریں، یہ مشکل وقت جلد ختم ہو جائے گا
حالانکہ یہ وقت طلباء کے لیے انتہائی مشکل ہے، لیکن ماہرین تعلیم اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طلباء کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ مشکل دور جلد ختم ہو جائے گا، اور تعلیمی ادارے دوبارہ معمول پر آ جائیں گے۔ انتظامیہ کی جانب سے طلباء کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کی تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
ایک تعلیمی ماہر نے کہا، “طلباء کو اس مشکل وقت میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ آن لائن تعلیم کے ذریعے وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طلباء کے مسائل کو سمجھے اور ان کے لیے بہتر حل تلاش کرے۔”
مستقبل کی امید
بلوچستان کے طلباء کو یقین رکھنا چاہیے کہ یہ مشکل وقت عارضی ہے۔ صبر اور محنت کے ساتھ وہ اس دور سے نکل سکتے ہیں۔ انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کی کوششوں سے صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے، اور جلد ہی یونیورسٹیز دوبارہ کھل جائیں گی۔
طلباء سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں، صبر کا مظاہرہ کریں، اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھیں۔ یہ مشکل دور جلد ختم ہو جائے گا، اور بلوچستان کے طلباء ایک بار پھر اپنے تعلیمی خوابوں کو پورا کر سکیں گے۔























