پاکستان کی سیاحت کی ترقی اور دہشت گردی کے سائے: ایک امید اور خطرے کی کہانی

پاکستان کی سیاحت کی ترقی اور دہشت گردی کے سائے: ایک امید اور خطرے کی کہانی

اسلام آباد
12 مارچ، 2025
یہ کچھ دن پہلے کی بات نہیں ہے، چند ہفتے قبل ایس ٹی ڈی سی سندھ ٹورازم نے سندھ کی صحرائی زندگی کو دیکھنے کے لیے سیاحوں کے لیے تھر سفاری ٹرین سروس شروع کی تھی اور اس ٹرائی کو کراچی سے انڈیا پاکستان سندھ کے سرحدی علاقے کے زیرو پوائنٹ تک سفر کرنے کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا….. اس ٹورسٹ ٹرین کو اچھا رسپانس مل رہا تھا اور تیز رفتاری کے ساتھ ایک حادثہ رونما ہوا تھا۔ 11 مارچ 2025 کو بلوچستان میں ہائی جیکنگ اور دہشت گردانہ حملہ ہوا… یہ افسوس ناک واقعات ہمیشہ سیاحوں کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں اور ٹریول انڈسٹری اور سیاحت کے شعبے کو نقصان پہنچا،


پاکستان کی سیاحت کی صنعت حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی کی جانب گامزن ہے۔ حکومتی کوششوں، بین الاقوامی تشہیر، اور قدرتی حسن کی دریافت نے ملک کو دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام بنایا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی سیاحتی مارکیٹ کا حجم 2025 میں چار ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹسٹا کی رپورٹ کے مطابق، 2029 تک یہ حجم 5.53 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کی سالانہ شرح نمو 6.75 فیصد ہوگی۔ پیکیج ہالیڈیز کی مارکیٹ، جو 2025 میں 1.92 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اس ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

تاہم، یہ ترقی دہشت گردی کے واقعات جیسے جعفر ایکسپریس ٹرین ہائی جیکنگ اور دیگر حملوں کے سائے میں ہو رہی ہے۔ یہ واقعات نہ صرف سیاحوں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ملک کی سلامتی کے بارے میں سوالات بھی کھڑے کر رہے ہیں۔

سیاحت کی ترقی: ایک روشن مستقبل
پاکستان کی سیاحت کی صنعت نے گزشتہ دہائی میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔ شمالی علاقوں جیسے گلگت بلتستان، سوات، اور ہنزہ کے پہاڑی مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ حکومت نے ویزہ پالیسیوں میں نرمی، سیاحتی انفراسٹرکچر کی ترقی، اور بین الاقوامی تشہیر کے ذریعے اس شعبے کو فروغ دینے کی کوششیں کی ہیں۔

2025 میں، پاکستان کی سیاحتی مارکیٹ میں صارفین کی تعداد 11.3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 2029 تک 14.6 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ فی صارف اوسط آمدنی 150.66 ڈالر ہونے کا امکان ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاحت نہ صرف ملک کی معیشت کو تقویت دے رہی ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔

دہشت گردی کا سایہ: جعفر ایکسپریس کا واقعہ
تاہم، اس ترقی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز، کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر دہشت گردوں کے حملے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔ حملہ آوروں نے مسافروں کو یرغمال بنا لیا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کرتے ہوئے 155 مسافروں کو بازیاب کیا اور 27 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

اس واقعے کے بعد، پاکستان ریلوے نے بلوچستان کے لیے تمام مسافر اور مال بردار ٹرین سروسز کو معطل کر دیا ہے۔ ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر عامر علی بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ سروسز اس وقت تک معطل رہیں گی جب تک سیکیورٹی ایجنسیاں علاقے کی کلیئرنس نہ دے دیں۔

معیشت اور دہشت گردی کا تعلق
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ جب بھی پاکستان کی معیشت بہتر ہوتی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جیسے ہی معیشت بہتر ہوتی ہے، پاکستان ٹیک آف کرنے لگتا ہے، دہشت گردوں کے حملے تیز ہو جاتے ہیں۔ اس میں ہمارے ہمسائے ملوث ہیں جن پر ہم نے احسان کیے ہوئے ہیں۔”

چوہدری کے مطابق، دہشت گردوں نے مسافروں کو چھوڑا نہیں بلکہ چھڑوایا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر دشمن کے ساتھ اپنے لوگوں کی حمایت پر بھی تنقید کی۔

سیاحت پر منفی اثرات
دہشت گردی کے واقعات کا سیاحت کی صنعت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں کمی، سیکیورٹی کے خدشات، اور منفی تشہیر نے پاکستان کو ایک غیر محفوظ مقام کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف سیاحتی ریونیو کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملک کی بین الاقوامی شبیہہ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

حکومتی کوششیں اور چیلنجز
حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، لیکن دہشت گردی کے واقعات ان کوششوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ کوششیں کافی ہیں؟

مستقبل کے لیے تجاویز
سیکیورٹی کے اقدامات میں اضافہ: سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی تشہیر: پاکستان کے مثبت پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے موثر تشہیری مہم چلائی جانی چاہیے۔

مقامی لوگوں کی شمولیت: سیاحتی ترقی میں مقامی لوگوں کو شامل کر کے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی: دہشت گردی کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔

نتیجہ
پاکستان کی سیاحت کی صنعت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف تو اس شعبے میں ترقی کے امکانات روشن ہیں، لیکن دوسری طرف دہشت گردی کے واقعات اس ترقی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ حکومت، سیکیورٹی فورسز، اور عوام کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو دنیا کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش سیاحتی مقام بنایا جا سکے۔

یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے اور اپنی سیاحت کی صنعت کو مزید فروغ دے سکتا ہے؟ یا پھر یہ واقعات ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہیں گے؟ وقت ہی اس کا جواب دے گا۔

==============================

جعفر ایکسپریس حملہ، دہشتگردوں نے خودکش بمباروں کو یرغمالی مسافروں کے پاس بٹھا دیا
تازہ ترینقومی خبریں12 مارچ ، 2025
FacebookTwitterWhatsapp
لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ

—تصویر بشکریہ اے ایف پی
—تصویر بشکریہ اے ایف پی
کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر گزشتہ روز بولان میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے اب تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔

گزشتہ روز شروع کیے گئے آپریشن میں اب تک 155 یرغمال مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے جبکہ 27 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 37 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے خودکش بمباروں کو یرغمالی مسافروں کے پاس بٹھا دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ خودکش بمباروں نے عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے، خودکش بمباروں نے 3 مختلف جگہوں پر عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے، عورتوں اور بچوں کی خودکش بمباروں کے ساتھ موجودگی کی وجہ سے آپریشن میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔

رہا کرائے گئے مسافر نے کیا بتایا؟
فورسز کے آپریشن میں رہائی پانے والے ایک مسافر نے کہا کہ فائرنگ ہوئی، اللّٰہ کا شکر ہے کہ فوج اور ایف سی اہل کار ہمیں بحفاظت یہاں لے آئے۔

مسافر کا کہنا تھا کہ فوج اور ایف سی کے اہلکاروں نے ہمیں بازیاب کروا کر یہاں تک بحفاظت پہنچایا۔

ہیلپ ڈیسک قائم
سانحے سے متعلق راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر معلومات کیلئے ہیلپ ڈیسک قائم کر دی گئی ہے۔

ڈی ایس نور الدین داوڑ کے مطابق کسی بھی مسافر کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، ہیلپ ڈیسک کا پشاور اور کوئٹہ کنٹرول سے رابطہ ہے۔

جعفر ایکسپریس پر حملہ گزشتہ روز ہوا

پاک فوج نے بہادری سے 100سے زائد لوگوں کو بازیاب کرایا، گورنر سندھ

گزشتہ روز کچھی بولان میں پنیر ریلوے اسٹیشن کے قریب دہشت گردوں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے ٹرین کو ہائی جیک کرنے کے بعد 400 مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس سبی کے قریب پہنچی تو دہشتگردوں نے ٹریک دھماکے سے اڑا دیا تھا اور پہاڑوں سے اندھا دھند فائرنگ کے باعث ٹرین ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا۔

زخمی ڈرائیور ٹرین واپس سرنگ میں لے گیا تھا جسے دہشت گردوں نے دونوں اطراف سے گھیرے میں لے کر یرغمال بنا لیا تھا۔

ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکرپیس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی اور ٹرین میں 400 سے زائد مسافر سوار تھے، ٹرین منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی، مسافر ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا لیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے ریلوے کے سینئر افسر عمران حیات کے حوالے سے بتایا کہ دہشت گردوں کی کارروائی میں ٹرین ڈرائیور سمیت 10افراد شہید ہوئے ہیں۔
https://jang.com.pk/news/1450256

جعفر ایکسپریس کےشہید ڈرائیور کا تعلق چھانگامانگا سے تھا
12 مارچ ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
چھانگامانگا(نامہ نگار)کوئٹہ میں بولان کے قریب جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور امجد یسین جو دہشت گروں کی فائرنگ سے شہید ہوا ہے کا تعلق چھانگامانگاکے گائوں چک 17سے بتایا گیا ہے شہید ٹرین ڈرائیور نے تعلیم بھی کوئٹہ کے سکولز میں حاصل کی اور وہیں ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی تھی،امجد یسین تین بچوں کا باپ تھا ۔
==========