
امریکا میں اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کا نفاذ
امریکا نے آج سے اسٹیل اور المونیم کی تمام درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ نافذ کر دیا ہے۔ یہ قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے کی عملی شکل ہے جو انہوں نے گزشتہ ماہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسٹیل اور المونیم جیسی اہم اشیا کو باہر سے منگوانے کے بجائے امریکا میں ہی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ وہ بہترین موقع ہے جب ہماری صنعتیں واپس امریکا آ سکتی ہیں، اور ہم انہیں واپس لانا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ امریکی صنعت کو دوست اور دشمن دونوں ممالک کی پالیسیوں سے نقصان پہنچا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے ملک کے مستقبل کے لیے ان مسائل کو حل کریں۔ ان کے مطابق، یہ ٹیرف امریکی صنعت کو مضبوط بنانے اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
تاہم، اس فیصلے نے بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل پیدا کیے ہیں۔ برطانوی وزیر تجارت جوناتھن رینالڈ نے اس اقدام پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام آپشنز کھلے رکھے جائیں گے، اور قومی مفاد میں کوئی جواب دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
اس فیصلے کے اثرات صرف تجارتی سطح پر ہی نہیں بلکہ مالیاتی منڈیوں پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اس خبر کے بعد نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو اس بات کی عکاس ہے کہ یہ قدم عالمی تجارت اور معیشت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کی تجارتی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دیگر ممالک اس چیلنج کا جواب کس طرح دیتے ہیں اور کیا یہ قدم واقعی امریکی صنعت کو نئی زندگی دے پائے گا۔























