بلوچستان، پاکستان کی جان

ون پوائنٹ
نوید نقوی
==========


قارئین آپ کو یاد ہوگا اسی ٹاپک، انہی صفحات پر وطن عزیز کے نہایت اہم اور پیارے خطے بلوچستان کے بارے میں کئی بار لکھ چکا ہوں، بلوچستان غیرت مند، محب وطن، انسانیت دوست لوگوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے لوگ مہمان نوازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، تاریخ کے صفحات اگر پلٹ کر دیکھیں تو غیور بلوچوں نے گھر آئے قاتلوں تک کی نہ صرف مہمان نوازی کی بلکہ ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جب انہوں نے اپنے دشمنوں کو پناہ تک دی۔ میں وہاں کئی بار جا چکا ہوں اور وہاں کے نوجوانوں سے حالات حاضرہ پر گفتگو کی تو عام بلوچ نوجوان پاکستان سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور وفاق کی اہمیت سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ بلوچ نوجوان دہشت گرد سرمچاروں کو اپنا نمائندہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان کے انسانیت دشمن اقدامات سے متفق ہیں۔ ان کو غیر ملکی فنڈڈ دہشت گرد سرمچاروں کی طرف سے خوفزدہ کیا جا رہا ہے اور وہ بار بار اپنی حکومتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ پاکستان کے کل رقبے کا 43.6 فیصد بنتا ہے۔ جبکہ اس کی آبادی کم وبیش ڈیڑھ کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ اس صوبے کے آٹھ ڈویژن ہیں جن میں قلات، مکران، نصیر آباد، سبی، ژوب، لورالائی، رخشان شامل ہیں، کوئٹہ صوبائی دارالحکومت ہے۔ 1947 تک بلوچستان پانچ حصوں میں منقسم تھا، پانچ میں سے چار حصوں میں شاہی ریاستیں تھیں، جن کے نام قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ تھے۔ ایک علاقہ برٹش بلوچستان کہلاتا تھا۔ قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ پر برطانوی ایجنٹ بھی نگران تھے۔ قلات، لسبیلہ،خاران اور مکران کے علاقے آج بھی اسی نام کی ڈویژن کی صورت میں موجود ہیں۔ برٹش بلوچستان میں موجودہ بلوچستان کی پشتون پٹی کے علاوہ کوئٹہ اور بلوچ علاقہ ضلع چاغی، بگٹی اور مری ایجنسی اور کوہلو شامل تھے۔ اس وقت گوادر خلیجی ریاست عمان کا حصہ تھا۔ جسے 1958 میں خریدا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت برٹش بلوچستان نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے اراکین نے کیا۔ جبکہ باقی چاروں علاقوں لسبیلہ، خاران، قلات اور مکران کے حکمرانوں نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا تاہم مارچ 1948 میں خان آف قلات نے بھی مذاکرات کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا، خان آف قلات میراحمد یار خان کے اس فیصلے کے خلاف ان کے چھوٹے بھائی شہزادہ میر عبدالکریم نے افغانستان کی پشت پناہی سے مسلح تحریک چلائی جسے وہاں کے عوام نے مسترد کر دیا اور وہ افغانستان فرار ہو گئے۔بعد میں برٹش بلوچستان کو بلوچستان کا نام دے دیا گیا، جب کہ قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ کو ایک اکائی بنا کر بلوچستان اسٹیٹس یونین کا نام دیا گیا۔ 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے وقت برٹش بلوچستان کا نام کوئٹہ ڈویژن کر دیا گیا اور بلوچستان اسٹیٹس یونین کا نام قلات ڈویژن کر دیا گیا اور یہ دونوں علاقے مغربی پاکستان صوبے کا حصہ بن گئے۔ 1969 میں ون یونٹ کو توڑا گیا اور چار صوبے بنے تو قلات، کوئٹہ اور گوادر ڈویژن کو ملا کر موجودہ صوبہ بلوچستان وجود میں آیا۔ اب آتے ہیں موجودہ صورت حال کی طرف تو یاد رہے یہاں ٹریلین ڈالرز کی معدنیات موجود ہیں اور پاکستان دشمن قوتوں سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان نے بھارت کی طرح پاکستان کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا اور آج بھی بھارت کی ایماء پر دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کر کے معصوم پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں۔ افغانستان میں 2021 کو طالبان اقتدار پر قابض ہو چکے ہیں اور اس وقت سے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، معصوم لوگوں کا لسانیت کی آڑ میں قتل کیا جا رہا ہے۔ جو کہ قابل مزمت ہے۔ اس طرح سے دیگر صوبوں باالخصوص پنجاب کے لوگوں کے دل میں نفرت بڑھے گی، حکومت فی الفور دہشت گردوں کا صفایا کرے، 11 مارچ 2025 کو بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو یرغمال بنایا گیا اور بیگناہ مسافروں کو قتل کیا گیا۔ کب تک محرمیوں کی آڑ میں بے گناہوں کا خون بہایا جائے گا؟ اگر مطالبات ہیں تو حکومت وقت سے قانونی طور پر کریں، نہ کہ قذاقوں کی طرح بے گناہوں کے قتل عام سے بلوچستان کی مقدس دھرتی رنگین کریں۔ بیگناہ مسافروں نے کسی کا کیا گنوایا ہے؟ ہر ایک مزدور اپنے اہل خانہ کے لیے تلاش معاش کے لیے دور دراز کے علاقوں میں محنت مزدوری کرتا ہے، اگر اس طرح لسانی اور صوبائیت کی آڑ میں قتل عام کو نہ روکا گیا تو یہ صورت حال ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جائے گی جس کا وطن عزیز متحمل نہیں ہو سکتا۔ بزدل دہشت گردوں کو شرم آنی چاہیئے، مسلمان ہو کر بھی مسلمانوں، مسافروں کا قتل عام، رمضان المبارک میں کررہے ہیں۔ حکومت اور ادارے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوے گفتگو سے لیکر آپریشن تک ہر حد تک جائیں، مگر ہر صورت ان بدقماشوں اور ان کے سہولت کاروں کے ناپاک وجود سے پاک سر زمین کو پاک کریں۔ یہ مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان کے طول و عرض میں کئی بار بیگناہ پاکستانیوں کا خون بہا چکے ہیں۔ ریاست ایسے افراد کو بھی کٹھرے میں لائے جو دہشت گردوں کی دوبارہ ملک میں آبیاری کے ذمہ دار ہیں، جنہوں نے انہیں دوبارہ لاکر پھر سے ان علاقوں میں آباد کیا جہاں سے ہزاروں جوانوں اور معصوموں کی جانوں کی قربانیاں دے کر انہیں نکالا گیا تھا۔ ہماری فورسز کو چاہیئے کہ اب کسی سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔ ملک میں امن و امان اور ہر ایک شہری کی زندگی کی آئینی گارنٹی کو پوری قوت سے نافذ کیا جائے۔ بلوچستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت مکمل جوش و خروش سے کی جائے، بلوچستان ہم سب کی جان ہے، مکار بنیئے اور منافق طالبان کی پشت پناہی کے حامل سرمچاروں کو کچل دینا چاہیئے، تبھی پاکستان ترقی کرے گا