زراعت میں اے آئی کا استعمال اور مستقبل میں اس کے فوائد

اعتصام الحق ثاقب
ایک زمانہ تھا جب کسانوں کو سکھایا جاتا تھا کہ زمین کو پانی کیسے دینا ہے ،زمین کے کس حصے پر کیا کاشت کرنا ہے ،کھاد کون سی استعمال کرنی ہے اور اسے کیسے استعمال کرنا ہے ،بیج بوتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ہے اور فصل کی کٹائی کے وقت بھی کن کن باتوں کا خیال رکھا جانا ضروری ہے تا کہ فصل خراب نہ ہو اور کسانوں کو ان کی محنت کا جائز اور درست منافع حاصل ہو ۔اس سب کے باوجود بھی ایک غلطی ایسی ہوتی تھی جس کا احتمال ہمیشہ رہتا تھا ۔اور اسے کہا جاتا ہے ۔۔ہیومن ایرر
جی ہاں ۔ہومن ایرر وہ غلطی ہوتی ہے جس پر کسی کا بس نہیں اور ہر کام کے 99.99 فیصد ہونے اور 100 فیصد کار کردگی نہ ہونے میں اس ایرر کا حصہ ہے۔۔لیکن اب وقت بدل گیا ہے ۔اس ہیومن ایرر سے بچنے کے لئے اے آئی میدان میں ہے ۔
چین میں زرعی ٹیکنالوجی اور اس میں اے آئی کا استعمال چین کی زراعت کو بدل رہا ہے ۔چین کے مشرقی صوبے جیانگسو کے شہر ژانگجیاگانگ میں بیدو نیویگیشن سسٹم سے لیس ڈرون اب گندم کے کھیتوں میں کھاد فراہم کر رہے ہیں ۔اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے تقریبا 30 فیصد کھاد بچائی جا رہی ہے ۔ ان ڈرونز کا انٹیلیجنٹ فلائٹ کنٹرول سسٹم خود بخود رکاوٹوں سے بچ سکتا ہے اور موسمیاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر پیرامیٹرز کو متحرک طور پر ایڈجسٹ کر سکتا ہے جس سے ہاتھ سے چھڑکاو کے مقابلے میں کارکردگی میں 60 گنا اضافہ ہوتا ہے ۔ ایک ڈرون ایک صبح میں تقریبا 13 سے 20 ہیکٹر زمین کا احاطہ کر سکتا ہے ، اور کھاد دینے کا تمام کام تقریبا ایک یا دو ہفتوں میں مکمل کر لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح وسطی چین کے صوبہ ہینان کے شہر جیاؤزو میں کھیتوں کی نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل پبلک سروس پلیٹ فارم متعارف کروایا گیا ہے ۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈرون ریموٹ کنٹرول ٹیکنالوجیز کی بدولت ، کسان اپنے موبائل فون پر زمین کے ہر ایک ٹکڑے کی نمی اور کیڑوں سے ہونے والے نقصان کی حالت معلوم کر سکتے ہیں ۔ مشرقی چین کے صوبے شیڈونگ کا ڈونگ ینگ شہر بھی کاشتکاری میں بڑے پیمانے پر زرعی مشینری کا استعمال کر رہا ہے ۔ گوانگ راؤ کاؤنٹی کے ایک فارم میں 500 میٹر طویل آبپاشی کا نظام ہے جو یکساں طور پر پانی کا چھڑکاؤ خود کار طریقے سے کر رہا ہے جس سے آب پاشی کے لئے ماضی کی 50 مکعب میٹر مقدار کے مقابلے میں اب یہ مقدار 20 مکعب میٹر سے کچھ کم ہو گئی ہے اور کم وقت میں زیادہ زمین کو پانی فراہم کیا جا سکتا ہے ۔
آںے والا دور تو کیا اب یہی دور وسائل کے اعتبار سے کم اور مانگ کے اعتبار سے زیادہ کا تقاضہ کرتا ہے ۔چین کی آبادی 1.4 ارب سے زائد ہے اور اس آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔گزشتہ چند دہائیوں میں چین نے کوشش کی ہے کہ دستیاب زمین ،مناسب کھاد ،اور پانی کی مناسب مقدار کا استعمال کرتے ہوئے کم وسائل کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کی جا ئے اور اس ضمن میں ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جو موجودہ زمانے کے لحاظ سے ہو ۔اے آئی کا بڑھتا ہوا رجحان اور انسانی زندگی پر اس کےا ثرات نے اس شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس تبدیلی کو جس قدر جلد ممکن ہو مان لینا چاہیئے۔چین کی اس شعبے میں ترقی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ چین بیلٹ اینڈ انیشٹو کے تحت اس منصوبے میں شامل تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور ذراعت ان میں سے ایک ہے۔ چین میں ذراعت میں ٹیکنالوجی اور اب اے آئی کے کامیاب استعمال سے پاکستان سمیت تما م ممالک اور ترقی پزیر خطو ں کے لئے ایک وسیع میدان فراہم ہوا ہے اور تعاون کے منصوبوں سے گلوبل سائتھ ممالک اپنی معیشتوں میں انقلابی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔