
f-IPV مہم کا دوسرا مرحلہ کراچی میں 10 سے 16 مارچ تک، پولیو وائرس کے مسلسل خطرے کے پیش نظر ویکسینیشن انتہائی ضروری
کراچی، 9 مارچ 2025 – پولیو کے خاتمے کے لیے فرکشنل ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین (f-IPV) اور او آرل پولیو ویکسین (OPV) مہم کا دوسرا مرحلہ 10 مارچ سے 16 مارچ 2025 تک کراچی کے 59 یونین کونسلز میں جاری رہے گا۔ اس مہم کے دوران تقریباً 5.6 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، اور جیٹ انجیکٹر کے ذریعے ٹیکے لگائے جائینگے، جس کے لیے 11,000 فرنٹ لائن ورکرز اور سپروائزرز تعینات کیے جائیں گے۔
یہ مہم سندھ میں ایک اور پولیو کیس کی تصدیق کے بعد مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ٹھٹھہ ضلع سے رپورٹ ہونے والا یہ کیس 2025 میں سندھ کا چوتھا جبکہ پاکستان کا چھٹا کیس تھا، جو پولیو وائرس کے مسلسل خطرے کو ظاہر کرتا ہے اور ویکسینیشن کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ کراچی میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ وائرس اب بھی گردش کر رہا ہے، جسے روکنے کے لیے بچوں کی قوت مدافعت کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان میں 2024 میں 74 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں 23 کیسز سندھ سے تھے۔ پولیو ایک ناقابل علاج بیماری ہے، اور اس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ بار بار حفاظتی قطرے پلوانا اور بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروانا ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) سندھ کے کوآرڈینیٹر، ارشاد علی سوڈھر نے والدین پر زور دیا کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں سے تعاون کریں:
“سندھ میں پولیو کیس کا سامنے آنا ایک واضح پیغام ہے کہ وائرس اب بھی پھیل رہا ہے۔ ہمیں ہر بچے کو ہر مہم میں پولیو کے قطرے پلانے ہوں گے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور بچوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔ f-IPV اور OPV کا امتزاج اس مہم میں قوت مدافعت کو مزید بڑھانے میں مدد دے گا، جو پولیو کے خلاف جنگ میں نہایت اہم ہے۔”
پولیو پروگرام بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک مضبوط ویکسینیشن شیڈول پر عمل کر رہا ہے۔ فروری 2025 میں، ملک بھر میں 4.5 کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو ویکسین دی گئی۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ ڈویژن اور کراچی میں 20 سے 28 فروری کے درمیان fIPV-OPV مہم میں تقریباً 9 لاکھ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے، تاکہ ان کی قوت مدافعت میں اضافہ کیا جا سکے۔ مزید برآں، 104 یونین کونسلز جو افغانستان کی سرحد سے متصل ہیں یا افغان مہاجرین کی آبادی پر مشتمل ہیں، میں 6 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے تاکہ سرحد پار اور داخلی وائرس کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔
ہزاروں فرنٹ لائن ورکرز اس مہم میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کریں گے، جبکہ محکمہ صحت، مقامی حکام، مذہبی رہنما اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے۔
پولیو پروگرام تمام والدین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے لیے اپنے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو پولیو جیسے مفلوج کردینے والے مرض سے محفوظ رکھیں۔ حکومت اور اس کے شراکت دار پاکستان کو پولیو فری بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔























