
تحریر: سہیل دانش
وہ دین کا علم رکھتے تھے اور دنیاوی زندگی کا شعور بھی۔ کٹھن راستوں پر چل کر منزل پانے والا اللہ کا بندہ کیسا ہوتا ہے۔ 45 برس گزرے اُنہیں پہلی بار دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ مایوس لوگوں کا ہاتھ تھامنے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی اُمید بننےکا ہنر خداوند کریم اپنے مخصوص بندوں کو کس طرح عطا کرتا ہے۔ میں زندگی میں کئی صاحبِ کشف، صاحبِ دُعا اور صاحبِ نظر بزرگوں کی صحبت کا فیض حاصل کرچکا ہوں لیکن انہیں دیکھ کر اِن سے مل کر اور بار بار گفتگو کرکے احساس ہوا کہ موج موج ہے تو کناروں سے ضرور ٹکراتی ہے، اگر ہوا ہوا ہےتو قطرہ خون میں ضرور اُترتی ہے۔ اور اگر روشنی روشنی ہے تو وہ اندھیروں کا سینہ ضرور چیرتی ہے۔ روزنامہ جنگ میں ملازمت کے دوران شعبہ میگزین میں کچھ عرصے تک مجھے محترم شمس الدین عظیمی کے رُوحانی اور دینی معاملات پر سیرحاصل علوم سے مرصح صفحہ کو ترتیب دینے کی ذمہ داری نبھانے کا موقع ملا یہ 1980 کی دہائی کا ابتدائی دور تھا۔ میرے لئے سب سے حیرت انگیز امر یہ تھا کہ جنگ جیسے بااثر اخبار میں قارئین کی جانب سے زندگی کے مختلف معاملات پر دینی اور رُوحانی علوم کی روشنی میں رہنمائی کےلئے ناقابل یقین تعداد میں خطوط موصول ہوتے تھے۔ ہر ہفتہ اِن خطوط کو پڑھنے اِن کو ترتیب دینے محترم شمس الدین عظیمی سے اِن کے جوابات حاصل کرنے اور ایک مکمل صفحہ ترتیب دینے کی ذمہ داری نبھانے
کے دوران دینی اور رُوحانی علوم کے حوالے سے رواں دریا کو بہتے دیکھ کر نہ جانے کیا کچھ سیکھنے کا موقع ملا کہ زندگی میں مایوسی کے گرداب میں اُلجھے لوگوں اور زندگی میں مختلف کشمکش میں اُمید اور روشنی کے کیا کیا راستے نکل سکتے ہیں۔ اُس زمانے میں نیو کراچی سے آگے اُن کا ایک مراقبہ ہال بھی تھا۔ جہاں عام لوگ بغیر ہچکچائے بنا چھپائے اُن کے سامنے دِل کی بات کہہ ڈالتے۔ مجھے بھی وہاں جانے اور وہاں کا ماحول دیکھنے کا موقع ملا۔ مجھے یاد ہے میں نے اُن سے دریافت کیا۔ آپ ایک نظرمیں لوگوں کو کیسے جان لیتے ہیں کیسے اُن کے دُکھ درد کا نسخہ تجویز کردیتے ہیں۔ پھر اُن کے اطمینان قلب کی کوئی نہ کوئی راہ نکل آتی ہے۔ محترم شمس الدین عظیمی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا “جب اللہ تعالیٰ سے دوستی رشتہ استوار ہوجاتا ہے تو وہ اپنے دوستوں کو بہت سی کنجیاں دے دیتا ہے۔ اِن میں سے ایک کنجی دِلوں کے قفل کھولنے کی ہوتی ہے” شاید وہ اس سچائی کو جان گئے تھے کہ خدا کی بات کو کس لہجے اور فریکوئنسی میں کہا جائے بتایا جائے سمجھایا جائے تو وہ دلوں کے قفل توڑ کر ذات میں رچ جاتی ہے بس جاتی ہے۔ ایسا قیمتی انسان اب ہم میں نہیں رہا۔ ذات باری تعالیٰ سے اپنی محبت سمیٹے اپنے نیک اعمال کے ساتھ اُس کے حضور پیش ہوگئے۔ اللہ رب العزت سے دُعا کرم و عنایت کی ہے۔ شمس الدین عظیمی کے صاحبزادے وقار عظیمی ہمارے محبت کرنے والے دوست ہیں۔ اُن کے انکسار اور ایثارمیں اپنے والد کی جھلک نظر آتی ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں خداوند کریم کی رحمتوں کا سایہ اُن پر سایہ فگن ہو۔
Load/Hide Comments























