پرنس رحیم الحسینی آغا خان کا قائدانہ سفرشروع

سہیل دانش……..

پرنس رحیم الحسینی آغا خان دنیا بھر میں اپنے پیروکاروں کے 50ویں امام بن گئے ہیں۔ اپنے والد پرنس کریم آغا خان اور اپنی والدہ شہزادی سلیمہ آغا خان کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں۔ انہیں پرنس کریم آغا خان کی وصیت اور کمیونٹی کے تمام اہم ارکان کے متفقہ فیصلے کے بعد اسماعیلی کمیونٹی کے 50ویں امام مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پرنس کریم آغا خان اور شہزادی سلیمہ آغا خان 1969ءمیں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔ پرنس رحیم آغا خان 12اکتوبر 1971ءکو جنیوا میں پیدا ہوئے۔ ان کی اہلیہ امریکی فیشن ماڈل کینڈرپیئرز سے ان کی پسند کی شادی ہوئی۔ جن سے ان کے دو بیٹے ہیں، پرنس رحیم آغا خان کے دو بھائی پرنس حسین آغا خان، پرنس علی آغا خان اور بہن پرنسس زہرہ آغا خان ہیں۔ پرنس کریم آغا خان نے 1995ءمیں شہزادی سلیمہ سے علیحدگی کے بعد 1998ءمیں جرمنی سے تعلق رکھنے والی ماڈل پرنس انارہ سے شادی کر لی تھی۔ اسماعیلی فرقہ کے نئے پیشوا پرنس رحیم آغا خان ایک متحمل مزاج، انتہائی وژنری اور صحت عامہ کے تمام اداروں میں پوری طرح سرگرم ہیں۔ دنیا بھر میں نامور اور ہردلعزیز اپنے والد پرنس کریم آغا خان کی طرح وہ اسماعیلی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے متعلق بہت حساس انداز فکر رکھتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اپنے زمانہ طالب علمی کے دور میں 1970ءمیں پہلی بار پرنس کریم آغا خان کو حیدرآباد کے اسماعیلی جماعت خانے میں دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنے دادا آغا خان سوئم کی بعض سماجی روایات اور پروٹوکول کو ترک کر کے اپنے پیروکاروں کے ساتھ زیادہ سادہ رویوں کو متعارف کرایا تھا۔ پرنس کریم آغا خان نے 1957ءمیں اپنے دادا کی وفات کے بعد امامت کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ قیام پاکستان میں ان کے دادا کا بڑا کلیدی کردار تھا، وہ قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور مسلم لیگ کے تاحیات صدر ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کے سب سے اہم ڈونر بھی تھے۔ 1957ءمیں امامت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پرنس کریم آغا خان کی 1962ءمیں 25ویں سالگرہ منائی گئی تو اس سلور جوبلی کے حوالے سے انہیںچاندی میں تولا گیا اور اس سے حاصل رقم افریقہ میں آغا خان میڈیکل ریسرچ ادارہ کی تعمیر کے لیے عطیہ کر دی گئی جبکہ پرنس کریم کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر گولڈن جوبلی کے طور پر انہیں سونے میں تولا گیا اور یہ خطیر رقم کراچی میں قائم آغا خان ہسپتال کو ڈونیٹ کی گئی۔ کراچی میں قائم آغا خان ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا تھا۔ جنرل ضیاءالحق اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ پرنس کریم آغا خان نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ آغا خان ہسپتال کے لیے مختص زمین اس وقت کے صدر ضیاءالحق نے انہیں صرف ایک روپے میں دینے کی منظوری دی تھی۔ پاکستان میں رہنے والے اسماعیلی فرقے کی تعداد کم و بیش چھ لاکھ ہے۔ یہ کمیونٹی اس بات پر فخر کرتی ہے کہ اس کا شجرہ نسب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ سے ملتا ہے۔ حضرت امام زین العابدینؓ سے اگلی نسل میں حضرت امام جعفر صادق سے یہ سلسلہ نسب آگے بڑھتا رہا۔ پاکستان میں اسماعیلی کمیونٹی زیادہ تر ہنزہ ،گلگت ،گوادر اور کراچی میں قیام پذیر ہے۔ معروف کاروباری شخصیت صدر الدین ہاشوانی کا خاندان بھی ابتدا میں گوادر میں مقیم تھا۔ یہ 95فیصد کاروباری طبقہ ہے، خوش مزاجی اور بردباری ان کے DNA میں شامل ہے۔ یہ لوگ کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع کا ساڑھے 12فیصد پوری اسپرٹ، خوشدلی اور سچائی کے ساتھ آغا خان فنڈ میں دیتے ہیں جو فلاحی کاموں اور کمیونٹی کے کمزور طبقات کی مدد پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ یہ رہائش کے اعتبار سے مخصوص علاقوں اور سوسائیٹیز میں یکجا ہو کر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پرنس کریم آغا خان جب بھی پاکستان تشریف لاتے اپنی کمیونٹی سے خطابات میں انہیں مستقبل کے حوالے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں گائیڈ لائن ضرور فراہم کرتے۔ اسی طرح جیسے ان کے دادا اور 48ویں امام ہمیشہ یہ تاکید کرتے تھے کہ آپ جہاں رہتے ہیں اپنی جگہ کو نہ چھوڑیں نہ اسے بیچیں یہ بات بھی کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ گوادر کی خریداری میں ، پرنس کریم آغا خان نے اسے خریدنے کی ذمہ داری نبھائی تھی۔ جب کراچی میں آغا خان ہسپتال کی تعمیر مکمل ہو گئی اور یہ آپریشنل ہو گیا تواس وقت یہاں ادارے کے صدر جناب قاسم لاکھا سے ہمارا محبت و تکریم کا رشتہ قائم ہوا۔ جو قاسم لاکھا کی طویل تعیناتی کے دور میں ہمارے صحافتی تعاون کے ساتھ قائم رہا۔ اس دوران آغا خان میڈیکل کالج کے تین سے زیادہ کانووکیشن میں پرنس کریم آغا خان بنفس نفیس خود شریک ہوئے۔ جن میں ملک کے صدر، وزیر اعظم نے بھی شرکت کی۔ اسماعیلی اپنے امام سے اس درجہ عقیدت رکھتے ہیں کہ ایک بار محترمہ مہتاب اکبر راشدی نے یہ بات بتائی تھی کہ جس وقت سندھ کی سیکرٹری انفارمیشن تھیں تو انہوں نے پرنس کریم آغا خان کا ایئرپورٹ پر استقبال کرتے ہوئے ان سے ہاتھ ملایا۔ پھر کیا تھا، اسماعیلی کمیونٹی کے کئی اعلیٰ گھرانے کی خواتین نے انہیں ٹیلیفون کر کے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ہاتھ نہ دھوئیں ہم آپ کے گھر آ کر اس ہاتھ کو چومنا چاہتے ہیں۔ جس سے انہوں نے پرنس سے مصافحہ کیا تھا۔ ایک بار پرنس کریم آغا خان نے کلفٹن کے جماعت خانے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کے ساحلی علاقوں کی زمینیں آئندہ سالوں میں بڑی اہمیت اختیار کر جائیں گی۔ اس اعتبار سے وہ اپنے پیروکاروں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ان زمینوں کو خرید سکتے ہیں۔ یوں تو پرنس کریم آغا خان کے حوالے سے لاتعداد ایسی باتیں اور یادیں ہیں جو شیئر کی جا سکتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسماعیلی کمیونٹی کے پچاسویں امام پرنس رحیم الحسینی آغا خان اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے ایک سچے دوست، دنیا بھر میں فلاحی کاموں کی سرپرستی، اپنے نیٹ ورک اور فاﺅنڈیشن کو ایک تابندہ مثال بنانے کی جستجومیں کس طرح سرگرم عمل رہیں گے۔ وہ اس مشن کو کس سرعت سے آگے بڑھائیں گے، اس کا علم تو کسی کو نہیں لیکن یقین سب کو ہے۔