سنگت کی جدوجہد کا اعتراف

عزیز سنگھور

انسانی حقوق کی علمبردار بلوچ رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی بلوچ قومی تحریک، انسانی حقوق کے کارکنوں اور عالمی انصاف کے حامیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ “سنگت” کی جدوجہد کا اعتراف اور بلوچ عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔
اگرچہ 338 نامزدگیوں میں شامل ہونا ہی ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اگر کامریڈ ماہ رنگ بلوچ کو یہ انعام ملتا ہے تو یہ بلوچ عوام کے حقوق کی جدوجہد میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس نامزدگی سے بلوچ خواتین اور نوجوانوں کو مزید حوصلہ ملے گا کہ وہ اپنی جدوجہد کو منظم انداز میں جاری رکھیں۔
مکران کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے اور ناروے میں مقیم، بلوچ صحافی اور تجزیہ کار، کِیّا بلوچ نے راقم کو بتایا کہ کامریڈ ماہ رنگ بلوچ کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے خلاف شان دار جدوجہد کی وجہ سے نامزد کیا گیا ہےـ۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کرتے ہوئے، بلوچ حقوق کیلئے اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں ان کی قیادت میں متعدد مظاہرے اور لانگ مارچ کیے گئے، جنہوں نے عالمی سطح پر بلوچ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔
اس سے قبل انہیں بی بی سی نے دنیا کی سو با اثر خواتین سمیت عالمی میگزین ٹائمز کی جانب سے انھیں 100 نئے ابھرتے ہوئے رہنماؤں کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا، جہاں بعد ازاں انھیں نیویارک میں ٹائمز میگزین کی تقریب میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے کراچی ائیرپورٹ پر حکام نے روک دیا تھا۔
سنگت ماہ رنگ بلوچ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی بلوچ جدوجہد کے عالمی اعتراف کی ایک بڑی علامت ہے۔ یہ ان کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مسلسل اور بے خوف جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ انہیں عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔

ساتھی ماہ رنگ بلوچ کی جدوجہد کا محور بلوچستان میں جبری گمشدہ افراد کی بازیابی اور جبر کے خاتمے کے مطالبات ہیں۔ ان کے احتجاج اور مظاہروں نے عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ بلوچستان کی صورتحال پر مرکوز کی۔

جی ہاں، پاکستان سے نوبل انعام جیتنے والے دو افراد، ڈاکٹر عبدالسلام اور ملالہ یوسفزئی، کو ان کی کامیابیوں کے باوجود متنازعہ بنایا گیا اور انہیں اپنے ہی ملک میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان تھے، جنہیں الیکٹرو ویک تھیوری میں اہم دریافت پر نوبل انعام دیا گیا۔ ملالہ یوسفزئی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ ہیں، جنہیں تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد پر یہ اعزاز ملا۔ طالبان کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد وہ عالمی سطح پر ایک علامت بن گئیں، لیکن پاکستان میں انہیں کئی حلقوں سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نوبل انعام جیتتی ہیں، تو ممکن ہے کہ نادیدہ قوتیں انہیں بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کریں۔ انہیں بھی پاکستان مخالف، غیر ملکی ایجنٹ یا غدار قرار دیا جا سکتا ہے۔

کامریڈ ماہ رنگ بلوچ میر عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہیں۔ عبدالغفار لانگو ایک ٹریڈ یونین رہنما اور بائیں بازو کے نظریات کے حامل سیاسی کارکن تھے۔ وہ بلوچستان میں سماجی انصاف اور بلوچ قومی حقوق کے لیے سرگرم رہے۔ ان کا تعلق ضلع قلات سے تھا اور وہ واپڈا میں ملازمت بھی کرتے تھے۔
عبدالغفار لانگو کو 2006 میں پہلی بار جبری طور پر لاپتہ کیا گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ بازیاب ہو گئے۔ تاہم، 2009 میں انہیں دوبارہ اغوا کر لیا گیا اور اس بار وہ واپس نہ لوٹے دو سال بعد 2011 میں ان کی مسخ شدہ لاش ملی، جس پر شدید تشدد کے نشانات تھے۔ ان کی شہادت نے ان کے اہل خانہ، خاص طور پر ان کی بیٹی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، پر گہرا اثر ڈالا، جو بعد میں بلوچ قومی حقوق اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد میں سرگرم ہوئیں۔

عبدالغفار لانگو کے چھ بچے تھے، جن میں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ ان کی جبری گمشدگی کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا، جہاں ان کی اہلیہ نے بچوں کی پرورش کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کیا۔ ان کی بیٹی ماہ رنگ بلوچ نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انسانی حقوق اور بلوچ حقوق کے لیے کام شروع کیا اور آج وہ ایک نمایاں مزاحمتی رہنما کے طور پر ابھری ہیں۔
عبدالغفار لانگو کا شمار ان رہنماؤں میں ہوتا تھا جو محکوم قوموں کے حقوق کے حامی تھے۔ ان کی نظریاتی تربیت اور قربانی کا اثر آج ان کی بیٹی کی جدوجہد میں واضح نظر آتا ہے۔ ان کی شہادت بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جو آج بھی کئی خاندانوں کے لیے ایک حقیقت ہے۔

یہ بلوچ قومی تحریک کی سب سے بڑی نظریاتی اور سماجی کامیابیوں میں سے ایک ہے کہ اس نے “جینڈر” کی بنیاد پر تفریق کو مسترد کر دیا ہے۔ بلوچ خواتین اب محض ماں، بہن یا بیٹی کے روایتی کردار تک محدود نہیں بلکہ انہیں سنگت، ساتھی اور کامریڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہ ایک “ارتقائی” عمل ہے جو نہ صرف تحریک کی فکری بلوغت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بلوچ سماج میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاریخ میں ہم نے دیکھا ہے کہ جو تحریکیں برابری کے اصول پر استوار ہوتی ہیں، وہی زیادہ مضبوط اور دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔

سنگت ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین رہنماؤں کی قیادت اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں خواتین صرف حمایتی کردار میں نہیں بلکہ قیادت کے منصب پر بھی فائز ہیں۔ یہ عمل نہ صرف بلوچ عورت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ بلوچ قومی جدوجہد کسی ایک “جینڈر” تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہر اس “انسان” کی تحریک ہے جو ظلم کے خلاف ہے اور آزادی و حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔

ماہ رنگ ایک خوبصورت بلوچی نام ہے جو دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ماہ جس کا مطلب “چاند” ہوتا ہے۔ رنگ، جس کا مطلب جیسی، رنگت، یا روشنی کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ اس طرح “ماہ رنگ” کا مطلب “چاند جیسی” یا “چاند کی روشنی جیسی” بنتا ہے۔ یہ نام خوبصورتی، نرمی، روشنی اور امید کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

کامریڈ ماہ رنگ کا کردار واقعی “چاند” (ماہ) کی مانند ہے، جو اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھری ہیں۔ ان کی جدوجہد نہ صرف انفرادی ہے بلکہ اجتماعی شعور کی بیداری کا ایک عمل بھی ہے، جو بلوچ عوام کے حقوق، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف مسلسل جاری ہے۔
انہوں نے اپنی شناخت ایک بہادر اور ثابت قدم رہنما کے طور پر بنائی ہے، اور ان کا “مکرانی رومال” آج “بلوچ مزاحمت” کی علامت بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک ثقافتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت بھی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ بلوچ خواتین بھی اس تحریک میں برابر کی شراکت دار ہیں۔
ان کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی جدوجہد صرف مقامی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ہے۔