عالمی مصور جمی انجینئر کے لئیے قومی اعزاز ہلال امتیاز کی منظوری

منشاقاضی
حسب منشا

شاعر ، مصور اور شہنشاہ روز روز پیدا نہیں ہوتے یہ مصور بنی نوع انسان کے لیے باعث عزت و افتخار ہیں ، لفظی بازی گری اور دریائے خیال کی شناوری ایک ادیب شاعر کے بس کی بات ہے لیکن وہ اسے کسی پیکر تصویر میں نہیں ڈھال سکتا لیکن لفظوں سے کھیلنے والوں سے کئی گنا زیادہ ایک مصور اپنے مو قلم سے پوری داستان حیات ایک تصویر میں مرکوز کر دیتا ہے۔ ہمارے ملک کے نامور عالمی مصور جنہیں دنیا جمی انجینیئر کے نام نامی اسم گرامی سے یاد کرتی ہے ان کا نام حلق سے نکلتا ہے خلق تک جاتا ہے اور آج جدید عہد کے ابلاغی ویپن نے اسے فلک الافلاک تک پہنچا دیا ہے، لیکن موجودہ صدر مملکت سے پہلے کسی کو ان کا نام یاد نہیں آیا ، 23 مارچ 2025 کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ہلال امتیاز سے نوازا جا رہا ہے ، پاکستانی عوام بے پناہ ممنون احسان ہے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی ، جن کے دست مبارک سے یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ وہ ملک کے نامور مصور عالمی شہرت یافتہ جناب فضیلت مآب جمی انجینیئر کو قومی تقریب برائے تقسیم اعزازات میں مدعو کر رہے ہیں اور انہیں اپنے دست مبارک سے اعلیٰ امتیاز کا اعزاز عطا کریں گے یوم پاکستان کے موقع پر صدر مملکت اسلام آباد میں ہلال امتیاز کے اعزاز سے جمی انجینیئر کو مزین فرمائیں گے ، جمی انجینیئر پوری دنیا میں پاکستان کی نیک نامی کے محبت کے سفیر ہیں وہ ایک سماجی کارکن کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں کراچی میں ڈھائی مرلہ کے مکان میں ریش پذیر اس شخصیت کو دنیا کا ہر حکمران جانتا ہے ایسے جلیل القدر انسان کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے جمی انجینیئر کے سامنے پھولوں کے گجرے نہیں، المناک چہرے بھی ہیں ، موتیوں کی مالائیں نہیں ، آنسوؤں کے تار بھی ہیں ، ریشمی لبادے نہیں چیتھڑے بھی ہیں، دعائے سحر گاہی نہیں، نالہ ہائے نیم شبی بھی ہیں، ہمالہ صفت محلات نہیں ، فغاں ںلںب جھونپڑے بھی ہیں، جمی انجینیئر کا دل مجبور لوگوں کے لیئے اور بے سہارا انسانوں کے لیے ہمیشہ تڑپتا رہتا ہے وہ جہاں جاتے ہیں اپنی تصویریں اور اپنے فن کے ذریعے جو رقم حاصل ہوتی ہے وہ غربا میں تقسیم کر دیتے ہیں میں نے انہیں ذاتی طور پر دیکھا ہے بڑے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کی عیادت کرنا ، انہیں سہولت اور ضرورت کے اسباب مہیا کرنا جمی انجینیئر کی عادت ثانیہ ہے اور اب انشاءاللہ تقریب ہلال امتیاز سے فراغت کے بعد میں انہیں رحمٰن فاؤنڈیشن جہاں گردوں کے مریضوں کا مفت علاج ڈاکٹر وقار احمد نیاز کر رہے ہیں انہیں دعوت دیں گے گردوں کے مریض اپنے بستر علالت سے لے کر آسماں کی نیلگوں وسعتوں تک جمی انجینیئر کی راہ تک رہے ہیں اور وہ انشاءاللہ رحمٰن فاؤنڈیشن کے عالمی سفیر کے حوالے سے کردار ادا کریں گے میری ان سے یہ استدعا ہوگی ۔ وہ ایک دفعہ رحمٰن فاؤنڈیشن کے اسلام اباد، لاہور اور کراچی ان بڑے شہروں میں تو وہ آتے جاتے رہتے ہیں اس لئیے ضرور وزٹ فرمائیں، رحمٰن فاؤنڈیشن کی پوری انتظامیہ آپ کے لیے دیدہ و دل فرش راہ ہے اور ان کی یہ خواہش ہوگی کہ

آپ آ جائیں تو کوئی تمنا نہ رہے

دل میں حسرت نہ رہے لب پہ تقاضا نہ رہے

ہم فی الحال آپ کو مبارکباد دیتے ہیں کہ آپ کو بہت بڑے قومی اعزاز ہلال امتیاز سے نوازا جا رہا ہے ان کی مصوری کے شہ پارے ایوان صدر کے در و دیوار پر بھی آویزاں ہیں ، قائد اعظم محمد علی جناح سے آپ کی والہانہ محبت کا اظہار ان کی مصوری میں چھلکتا ہے اور علامہ اقبال کے ساتھ ان کا تعلق بڑا گہرا ہے میں اس موقع پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے جمی انجینیئر کو قومی اعزاز ہلال امتیاز کی منظوری پر مبارکباد پیش کرتا ہوں انشاءاللہ یوم پاکستان کے موقع پر ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری آپ کو ہلال امتیاز کے اعزاز سے مزین فرمائیں گے جس طرح موسیقی انسان کی عالمگیر زبان ہے میں سمجھتا ہوں کہ مصوری بھی اپنی ایک زبان رکھتی ہے اور ایک مصور وہ اپنی نظر سے دنیا کو دیکھتا ہے موسیقی نہ سرخ سیاہی سے لکھی جاتی ہے نہ سفید سیاہی سے اور نہ نیلی سیاہی سے بلکہ یہ موسیقار کے دل کی سرخ دھڑکنوں سے ترتیب پاتی ہے اسی طرح یہ تصویریں بھی مصور کے دل کی سرخ دھڑکنوں سے قرطاس پر مصور کے مو قلم کے ذریعے مزین ہوتیں ہیں ، ملک کے نامور مصور و خطاط ہارون الرشید ، ملک کے نامور صحافی سردار مراد علی خان اور ملک کے نامور تجزیہ نگار اینکر پرسن سابق ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان ہارون الرشید عباسی نے جمی انجینیئر کو دلی مبارکباد پیش کی ہے اور حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری کی مردم شناس خوبی کی تعریف کی ہے جمی انجینیئر نے یہ مقام یہ مرتبہ خیرات میں حاصل نہیں کیا اس کے عقب میں ان کی نصف صدی کی محنت شاقہ اور مہارت تامہ کار فرما ہے ،

شفق لہو میں نہائی سحر اداس ہوئی

کلی نے جان گنوا دی شگفتگی کے لئیے