ڈاکٹر امجد پرویز ،آپ دلوں میں زندہ ہیں۔

ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر
ڈاکٹر امجد پرویز ،آپ دلوں میں زندہ ہیں۔
ڈاکٹر امجد پرویز سے میری پہلی ملاقات کہاں ہوئی یہ مجھے نہیں معلوم مگر میری اور ان کی کچھ باتیں مشتر ک تھیں جیسے انھوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنا سفر بچپن ہی سے بچوں کے پروگرام ہونہار سے کیا جبکہ میں نے بھی اپنے سفر کا آغاز بچپن ہی میں بچوں کے پروگرام روشن دنیا سے کیا اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد پرویز اندرون شاہ عالمی گیٹ میں پیدا ہوئے اور میری پیدائش بیرون شاہ عالمی گیٹ گروارجن نگر میں ہوئی اور سب سے بڑی بات وہ استاد گلوکار اور میوزیکالوجسٹ جبکہ مجھے شعبہ موسیقی سے حد سے ذیادہ لگائو ہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز سے میری ملاقاتوں کا آغاز پاکستان ٹیلی ویژن سے ہوا ان دنوں ہم بچوں کے پروگرام میں شرکت کے لیے وہاں جاتے تھے اور ڈاکٹر امجد پرو یز ان دنوں اپنے گیت ریکارڈ کرایا کرتے تھے اور کبھی ہمارے پروگرام میں بھی شرکت کرتے تھے اس کے بعد ریڈیو کے شعبہ موسیقی یعنی سی پی یو میں ان سے ملاقاتیں ہونا شروع ہوئیں جو ان کی وفات تک جاری رہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز 2017کے بعدمکمل میرے رابطے میں آئے جب مجھے ان کے پروگرام ہمارے موسیقار کا پروڈیوسر بنایا گیا وہ ہر جمعرات کو پروگرام کے لیے تشریف لاتے اور میں کیونکہ ان دنوں ڈیوٹی آفیسر کے فرائض بھی ادا کررہا ہوتا تھا تو ان سے گفتگو ہوتی اور موسیقی کے لیجنڈز پر بات ہوتی کبھی یہ بھی ہوجاتا کہ میں ڈیوٹی روم سے اٹھ کر چائے پینے کے لیے کنٹرول روم چلا جاتا اور کلاسیکی موسیقی کے پروگرام آہنگ خسروی کے لیے جس پروگرام کو لسٹ میں نشر ہونے کے لیے لگا کر جاتا تو اس کی جگہ ڈاکٹر امجد پرویز کا پروگرام چلنا شروع ہوجاتا تو ہم سب کو پتہ چل جاتا کہ ڈاکٹر امجد پرویز اسٹوڈیوز میں آگئے ہیں اور لسٹ انھوں نے تبدیل کردی ہے۔2018میں ایک دن میں نے ڈاکٹر امجد پرویز سے پروگرام کے دوران بات کی کہ اب ہمیں پروگرام ہمارے موسیقار ختم کردینا چاہیے کیونکہ آپ اس کو طویل عرصے سے کررہے ہیں اور یہ رپیٹ بھی ہورہا ہے اس کی جگہ نیا پروگرام فن اور فن کار کے نام سے شروع کرتے ہیں جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہوگا تو انھوںنے پوچھا کیسے تو میں نے بتایا کہ اب ہم اس میںموسیقاروں گلوکاروں،میوزیشنز،اداکار وں،فلمی مصنفوں،مکالمہ نگاروں اور نغمہ نگاروںکو بھی شامل کریں گے وہ کہنے لگے کیسے تو میں نے کہا ڈاکٹر صاحب اداکاروں پردلفریب موسیقی سے لبریز گیت پکچرائز ہوتے ہیں اس میں ہم یہ بھی بات کریں گے کہ یہ گیت اس گلوکار سے کیوں گوایا گیا کیونکہ آپ لیونگ لیجنڈ ہیں اور لوگ آپ کی بات کو سننا چاہتے ہیں اس طرح ہم آپ سے بات کریں گے نئے زاویے اور نئی نگاہ کے ساتھ اور میں خود اس پروگرام کو آپ کےساتھ ہوسٹ کروں گا تو کہنے لگے یہ بڑا اچھا آئیڈیا ہے مگر آرٹسٹوں پر میں بات نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرا فیلڈ نہیں جس پر میں نے کہا کہ آپ یہ ذمہ داری مجھ پر چھوڑ دیںمیں اس کو خود ہی مینج کرلوں گا تو وہ راضی ہوگئے جس کے بعد ہم دونوں نے مل کر اس پروگرام کو قریبا 5سال تک کیا اس پروگرام کی سب سے بڑی خوبی ہم نے دیگرشخصیات جوفلم سازی اور موسیقی سے وابستہ تھیں ان کو لائیو فون کال کے ذریعے پروگرام کا حصہ بنایا جس پر ہمیں سامعین کی جانب سے سراہا گیا اور ڈاکٹر امجد پرویز نے مجھے خود ہی کہا کہ یہ آئیڈیا تو بڑا کلک کرگیا ہے لوگ رات کے اس پہر میں بھی ہم سے براراست فون کے ذریعے موضوع کی مناسبت سے بات کرتے ہیں جس سے میرے علم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس پروگرام میں ہم نے پاکستانی فلم اور موسیقی سے وابستہ لیجنڈز پر عہد حاضر کے لیونگ لیجنڈز کے ذریعے بات کی جس کو سامعین سنتے اور ہمیں فون کال کے ذریعے مطلع بھی کرتے ۔ہم اس پروگرام میں ملکہ ترنم نورجہاں کے فن اور شخصیت پر بات کررہے تھے اور ان کے فن پر جاری اس پروگرام کا 9واںحصہ فروری میں نشر ہوا جس کے بعد ڈاکٹر امجد پرویز ناساز طبیعت کی وجہ سے ریڈیو لاہور نہ آسکے مگر انھوںنے بزریعہ فون کال پروگرام میں شرکت کی اور اپنا تجزیہ سامعین تک پہنچایا اس پروگرام کی خوبصورتی اس کے سوالوں میں شامل تھی جب میں کسی راگ ،شعر یاں آلات موسیقی کے حوالے سے بات کرتا تو ڈاکٹر صاحب مفصل جواب دیتے مگر وقفہ کے دوران مجھے کہتے یار مجھے فی البدی سوال نہ کیا کرو میں اس کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ڈاکٹر امجد پرویز سے تعلقات اس قدر بڑھ چکے تھے کہ میں کبھی کبھار دوپہر کو ان کے گھر چائے پینے کے لیےچلا جاتا اور ان سے کسی گلوکار یاموسیقار کے حوالے سے بات شروع ہوجاتی اور کئی گھنٹے ان کی رفاقت میں گز جاتے اسی محفل میں مجھے موسیقار خیام کے بارے میں پتہ چلا جب ڈاکٹر صاحب نے ان سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا اور بات لتا منگیشکر تک پہنچی،ان سے میں نے سوال کیا کہ ملکہ ترنم نورجہاں سے کوئی ملاقات ہوئی ہے آپ کی تو انھو ں نے بتایا کہ میں نے ملکہ ترنم کے ساتھ ایک ڈوئیٹ گایا تھا جس پر انھوں نے مجھے خاصا سراہا تھا جبکہ مہدی حسن اورمسعود رانا کی آوز کے وہ خود بھی مداح تھے اور محمد رفیع کے فن پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ڈاکٹر امجد پرویز مرنجاں مرنج شخصیت کے حامل اور خوبصورت جملہ تخلیق کرتے ان کی محفل میں موجودگی سے محفل کی رونق بڑھ جاتی تھی ۔وہ پیشہ کے اعتبار سے مکینیکل انجئینیر تھے مگر موسیقی اور گائیکی کا شوق اور کلاسیکی گائیکی نے ان کے اندر کے فن کار کو ہمیشہ زندہ رکھا انھوں نے اپنے دور کے ہر بڑے موسیقار کی دھنوںمیں گایا اور خوب گایا ۔پاکستان کے شعبہ موسیقی کی پہچان ڈاکٹر امجد پرویز کو حکومت پاکستان نے 2000میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازہ اور وہ اپنی وفات تک تقریبا 6عشروں تک کلاسیکل اور نیم کلاسیکل گلوکار کی حثیت سے ریڈیو لاہور سے وابستہ رہے ۔انہوں نے شام چوراسی گھرانہ کے اُستادوں سے کلاسیکی گانے کی تربیت حاصل کی ان کے اساتذہ میں اُستاد نذاکت علی خان،اُستاد سلامت علی خان ، اُستاد غلام شبیر خان،اُستاد غلام جعفر خان ، اختر حسین اکھیاں اور موسیقار میاں شہریار شامل تھے جن کی زیر نگرانی انھوں نے فن گائیکی کے اسرار ورموز سیکھے۔ ڈاکٹر امجد پرویز کلاسیکل گائیکی ٹھمری اور خیال کے علاوہ کافی‘ غزل‘ گیت اور فو ک جیسے نغمے موسیقیت کی بندش میں رہتے ہوئے کمال انداز میں پیش کرنے کا فن بخوبی جانتے تھے ۔3مارچ 2024 میںان کی وفات سے شعبہ موسیقی جہاں ایک گلوکار اور میوزیکالوجسٹ سے محروم ہوا ہے وہیں دوسری جانب ڈاکٹر امجد پرویزمیرے جیسے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔