
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ) لاڑکانہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی کے ممبر و پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کے پولیٹیکل سیکرٹری و لاڑکانہ سے منتخب رکن سندھ اسمبلی جمیل احمد سومرو کے حلقے شہر لاڑکانہ کے کوثر مل علاقے میں چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود سینکڑوں طلباء و طالبات کے خستہ حالت پرائمری سکول کی عمارت کا ترقیاتی کام نہیں ہوسکا۔ اسی سلسلے میں علاقے کے مکین والدین غلام شبیر ، مہران کوری ، سہراب میمن، رب نواز بلوچ و دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ شہر کے سینکڑوں بچوں کے تعلیمی مرکز کوثر مل بوائز پرائمری سکول کو چار سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود عمارت کے ترقیاتی کام نہ ہونا باعث حیرت ہے، محکمہ ایجوکیشن سندھ ورکس ڈپارٹمینٹ کے ٹھیکیداروں نے اسکول کا کام بجٹ نہ ملنے کا بھانہ بنا کر روک دیا ہے اور کام نہ ہونے کی وجہ سے اسکول کی عمارت بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ والدین نے کہا کہ لاڑکانہ شہر میں کوثر مل پرائمری اسکول کے سیکڑوں بچوں کی تعلیم کو بچایا جانا چاہئے

اور اسکول کے ترقیاتی کام کو فوری طور پر شروع کیا جانا چاہئے اور اس علاقے کے رہائشیوں نے کہا کہ یہ بہت دکھ و افسوس کی بات یہ ہے کہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب لاڑکانہ کے نمائندگان اگر دلچسپی سے کام کرائیں تو ایک ھفتے کے اندر اسکول کی عمارت بن سکتی ہے۔ اسکول کی زبون حالت عمارت کے تعمیراتی کام میں سست رفتاری کی وجہ سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے بھانے کی وجہ سے ایک طرف طلبہ و طالبات بہت شدید ذھنی پریشان ہیں تو دوسری طرف سینکڑوں طلباء و طالبات کی تعلیم بھی سخت متاثر ہورہی ہے، علاقہ مکینوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، ایم پی اے جمیل احمد سومرو، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم زاہد علی عباسی اور محکمہ ایجوکیشن ورکس لاڑکانہ سے مطالبہ کیا کہ لاڑکانہ شہر کے کوثر مل بوائز پرائمری اسکول کی عمارت کے تعمیراتی کام کو فوری طور پر شروع کراکے مکمل کیا جائے تاکہ لاڑکانہ شہر کے سینکڑوں بچوں کی تعلیم کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔























