
عزیز سنگھور
رمضان المبارک کے پہلے روزے پر حکومت کی جانب سے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین پر بدترین تشدد کیا گیا اور متعدد خواتین اور مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس مقدس مہینے کا بھی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ دو مارچ 2025 کو حب چوکی میں بھوانی کے مقام پر پولیس نے دھاوا بول بول دیا۔ لواحقین کے احتجاجی کیمپ پر فائرنگ کی گئی اور بعد میں لاٹھی چارج کیا گیا۔ پولیس نے جبری لاپتہ شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ اور راشد حسین کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ صورتحال نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جبر کی ایک واضح مثال بھی ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی احتجاج کرنے والے مظلوم لواحقین کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ایک عرصے سے جاری ہیں اور اس پر آواز اٹھانے والوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، چاہے وہ مظاہرین ہوں یا ان کے حامی۔
حب میں ہونے والے مظاہرے اور ان پر جبر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومتی ادارے نہ صرف اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں بلکہ ظلم و جبر کے ذریعے آواز دبانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ لواحقین کا مطالبہ تو صرف یہ تھا کہ اگر ان کے پیارے کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن حکومت اس بنیادی حق کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔
بلوچ عوام اور ان کے حقوق کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو دبانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مزید بڑھیں گے۔ بلوچ عوام کے سیاسی، معاشی، اور انسانی حقوق کو تسلیم کیے بغیر بلوچستان میں استحکام ممکن نہیں۔ لاپتہ افراد کے معاملے کو جتنا دبایا جائے گا، اتنا ہی مزاحمت میں اضافہ ہوگا۔
یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور جبری گمشدگیوں جیسے غیر انسانی عمل کو روکے۔ ورنہ، جیسا کہ مظاہرین کا کہنا ہے، “ریاست کی پالیسیاں خود ریاست کو کمزور کر رہی ہیں”—یہ حقیقت بنتی جائے گی۔
تاریخی طور پر بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ جبری گمشدگیاں، ریاستی جبر، اور سیاسی حقوق کی پامالی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے چل رہا ہے، اور اگر اس کو جمہوری بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو شاید حالات آج مختلف ہوتے۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے بلوچ عوام میں ریاست پر اعتماد کو مزید کمزور کیا ہے۔ سیما بلوچ اور ماہ زیب کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ اب خواتین اور بچوں کو بھی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
بلوچستان میں اگر حکومت واقعی استحکام چاہتی تو اسے طاقت کے بجائے مذاکرات اور سیاسی حقوق کو تسلیم کرنے کا راستہ اپنانا چاہیے تھا۔
بلوچ قوم اپنی سرزمین، اپنے وسائل اور اپنی عزت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، اور اس پر جتنا زیادہ جبر ہوگا، اتنی ہی مزاحمت بڑھے گی۔ ایک مہذب معاشرے میں احتجاج اور پرامن سیاسی جدوجہد کو تسلیم کیا جاتا ہے، مگر اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کے مطالبات بھی انتہائی بنیادی ہیں کہ اگر ان کے پیارے مجرم ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، مگر اس کے بجائے انہیں غائب کرنا، مسخ شدہ لاشیں پھینکنا، اور آواز اٹھانے والوں کو مزید دبانا صرف بیانیے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر بلوچ عوام کو ان کے حقوق ملتے، وسائل پر ان کا اختیار ہوتا، ان کے مسائل کو سیاسی بنیادوں پر حل کیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ مگر جب جبر کی انتہا ہو جائے تو پھر لوگ مجبور ہو کر ہر ممکن راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ حکومت حقیقت کا سامنا کرے اور بلوچ عوام کو ان کے حقوق دے، بصورت دیگر حالات مزید خراب ہوں گے























