جام صادق 2 پلان-مرتضیٰ جتوئی وزیراعلیٰ، ذوالفقار مرزا وزیر داخلہ، بشیر میمن، افاق احمد اور نہال ہاشمی کا اہم کردار


جام صادق 2 پلان-مرتضیٰ جتوئی وزیراعلیٰ، ذوالفقار مرزا وزیر داخلہ، بشیر میمن، افاق احمد اور نہال ہاشمی کا اہم کردار

کراچی: سندھ کی سیاست میں ایک نئے منصوبے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، جسے “جیم صادق پلان 2” کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ طاقتور حلقوں کی جانب سے زیر غور ہے، جس کا مقصد پیپلز پارٹی (PPP) کے اثر و رسوخ کو سندھ میں کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مرتضیٰ جتوئی کو وزیراعلیٰ سندھ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ذوالفقار مرزا کو وزیر داخلہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، ایم کیو ایم کے سابق رہنما افاق احمد، اور نہال ہاشمی کو بھی اس مستقبل کی سندھ حکومت میں اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے۔

جیم صادق پلان 2: کیا ہے منصوبہ؟

تفصیلات کے مطابق، طاقتور حلقے سندھ میں پیپلز پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک نئے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کو “جیم صادق پلان 2” کا نام دیا گیا ہے، جو 1990 کی دہائی میں سندھ میں نافذ کیے گئے جیم صادق پلان کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت جیم صادق علی نے ایم کیو ایم کی حمایت سے سندھ میں پیپلز پارٹی کے اثر کو کم کرنے کے لیے ایک اتحادی حکومت بنائی تھی۔

اب، اسی طرز پر ایک نیا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مرتضیٰ جتوئی کو وزیراعلیٰ سندھ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مرتضیٰ جتوئی، جو کہ نیشنل پیپلز پارٹی (NPP) کے رہنما ہیں، کو سندھ کی سیاست میں ایک مضبوط کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ، ذوالفقار مرزا کو وزیر داخلہ کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے، جو کہ پیپلز پارٹی کے سابق رہنما ہیں اور انہیں سندھ کی سیاست میں ایک اہم شخصیت مانا جاتا ہے۔

بشیر میمن، افاق احمد اور نہال ہاشمی کا کردار

اس منصوبے میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو بھی اہم کردار دیا جا سکتا ہے۔ بشیر میمن کو سندھ میں قانون و انتظام کے معاملات میں تجربہ کار سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح، ایم کیو ایم کے سابق رہنما افاق احمد کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جا سکتا ہے، جو کہ کراچی کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، نہال ہاشمی، جو کہ سندھ کی سیاست میں ایک نئے چہرے کے طور پر ابھر رہے ہیں، کو بھی اس منصوبے میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہیں سندھ کے نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

طاقتور حلقوں کی جانب سے غور و فکر

طاقتور حلقے اس منصوبے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد پیپلز پارٹی کے اثر کو کم کرنا ہے، لیکن اس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ مرتضیٰ جتوئی، ذوالفقار مرزا، بشیر میمن، افاق احمد اور نہال ہاشمی جیسے مختلف نظریات اور سیاسی پس منظر رکھنے والے رہنماؤں کو ایک ساتھ لانا آسان نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی کا ردعمل

پیپلز پارٹی نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو سندھ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی، جو کہ سندھ میں ایک مضبوط سیاسی قوت ہے، اس منصوبے کے خلاف اپنی حکمت عملی تیار کر سکتی ہے۔

آخری بات

سندھ کی سیاست میں “جیم صادق پلان 2” کے نام سے زیر غور یہ منصوبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو سندھ کی سیاسی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ تاہم، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ آنے والے دنوں میں سندھ کی سیاست میں کیا ہونے والا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام
www.jeeveypakistan.com