
1998کے بعد بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی میں پنجاب پولیس کی طرز پر بھرتی کا آغاز
400 کلومیٹر طویل اور 80 کلو میٹر چوڑی کوہ سلیمان رینج میں قبائلی فورس کا فعال کردار
کوہ سلیمان رینج کے 9 بلوچ قبائل کے مابین امن وامان کی فضا برقرار رکھنے کیلئے بی ایم پی اور بلوچ لیوی کی ذمہ داریاں
قبائلی فورس کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے پانچ سو ملین روپے کی خصوصی گرانٹ کی منظوری
تحریر: محمد جنید جتوئی ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز ڈی جی خان

دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق برٹش انڈیا نے 1839 میں بلوچستان اور 1849 میں پنجاب فتح کر لیا برٹش انڈیا نے پنجاب اور بلوچستان کے درمیان واقع کوہ سلیمان کے اس علاقے کی حفاظت پشتونوں پر مشتمل فرنٹیئر ملیشیا کے سپرد کی برٹش انڈیا نے اپنی علاقائی فہم و فراست اور حکمت کے تحت اس علاقے کی حفاظت کے لیے ایک ایسی فورس کی ضرورت محسوس کی جو اس علاقے کی جغرافیائی، لسانی اور ثقافتی روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہو اس سلسلے میں 1893 میں مقامی افراد پر مشتمل بارڈر ملٹری پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ 1904 میں بارڈر ملٹری پولیس کے معاونت کے لیے بلوچ لیوی فورس قائم کی گئی قیام پاکستان تک بارڈر ملٹری پولیس اس علاقے کی،عوام کی حفاظت پر مامور رہی،مختلف ادوار میں بلوچستان کے علاقوں سے ہجرت کر کے کوہ سلیمان میں منتقل ہونے والے بلوچ قبائل نے 1950 میں ایک معاہدے کے تحت فیصلہ کیا کہ وہ بلوچستان کے بجائے پنجاب کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اس فیصلے کی وجہ سے یہ علاقہ صوبہ پنجاب میں شامل ہوا اور بارڈر ملٹری پولیس کا وجود بھی قائم رہا. ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے قبائلی علاقوں پر مشتمل 400 کلومیٹر طویل اور 80 کلومیٹر چوڑے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان کی سرحدیں خیبر پختونخواہ بلوچستان اور سندھ سے متصل ہیں کوہ سلیمان جیسے وسیع و عریض اور دشوار گزار علاقہ میں گوریلا جنگ اور ناگہانی صورتحال میں کسی بھی غیر مقامی فورس کے لیے نقل و حرکت کرنا اور کمک پہنچانا ممکن نہیں ہے. کوہ سلیمان میں بسنے والے 9 بلوچ قبائل کے مابین امن و امان کو برقرار رکھنا،بلوچستان اور کے پی کے کے شورش زدہ علاقوں سے شدت پسندی کی روک تھام،بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی کے ذمے ہے اس قبائلی علاقے میں حکومتی عملداری کو قائم کرنا حساس تنصیبات کی حفاظت کرنا،معدنیات کے ذخائر کی نگرانی کرنا اور نئے ذخائر کی تلاش کے منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو سکیورٹی فراہم کرنا اور پاکستان اٹامک انرجی پروجیکٹ کی حفاظت اور محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بھی بارڈر ملٹری پولیس کے فرائض میں شامل ہے رود کوہیوں میں سیلاب کی صورت میں پہاڑی دروں سے دریا تک ایڈوانس وارننگ فراہم کرنا بھی بارڈر ملٹری پولیس کا کام ہے. حالیہ دنوں میں لادی گینگ فراری کیمپس،کچے کا علاقہ اور بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں جاری بدامنی جیسے عناصر نے بارڈر ملٹری پولیس کے وجود کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی کے قیام سے اب تک 120 برسوں میں اس علاقے میں نہ کسی مذہبی اور نہ ہی کسی نسلی شورش نے جنم لیا ہے. بارڈر ملٹی پولیس کا یہ علاقہ بلوچستان اور ڈیرہ غازی خان کے علاقوں کے درمیان بفر زون کے طور پر کام کرتا رہا ہے. بارڈر ملٹری پولیس نے بلوچستان میں جاری بد امنی کے اثرات کو اس علاقے سے زائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے. بارڈر ملٹری پولیس کے اہلکاروں اور افسران نے اپنے تعلق اور روابط کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی تحریک کو ڈی جی خان راجن پور اور تونسہ کی قبائلی علاقوں میں پنپنے نہیں دیا. بارڈر ملٹی پولیس کی موجودگی کی وجہ سے کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں فراری کیمپ قائم نہیں ہو سکے. اسی طرح دربار حضرت سخی سرور پر 2011 میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے چند منٹوں بعد دوسرے خود کش بمبار عمر فدائی کو حملہ اور ہونے سے پہلے زخمی حالت میں گرفتار کرنا،انسانی سمگلنگ اور خواتین کی خرید و فروخت میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں کی گرفتاری،منشیات اور بین الصوبائی سمگلنگ کی روک تھا م بارڈر ملٹری پولیس کی اہم کامیابیاں ہیں. ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن کر کے ان کے قبضے سے اینٹی ایئر کرافٹ گنز، مارٹر گولے، راکٹ لانچرز،بھارتی اور روسی ساختہ جدید اسلحے کی برآمدگی جیسے کارنامے بھی بارڈر ملٹری پولیس کی نمایاں کارکردگی میں شامل ہیں بی ایم پی کے زیر کنٹرول علاقہ ضلع ڈیرہ غازی خان اور ضلع راجن پور کے مجموعی رقبے کا 48 فیصد ہے بارڈر ملٹری پولیس کو اس وقت افرادی قوت اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا رہا. بارڈر ملٹری پولیس کو وسیع و عریض کوہ سلیمان رینج میں قانون کے بالادستی اور امن و امان کے قیام کے لیے منظور شدہ آسامیوں کے صرف 38 فیصد اہلکاروں کے خدمات حاصل تھیں، ان میں سے 54 فیصد کی عمر 50 سال سے اوپر ہے. بارڈر ملٹری پولیس کا باہمی رابطے اور پیغام رسانی کے لیے موجودہ وائرلیس سسٹم بھی اپنی تیکنیکی عمر پوری کر چکا ہے جس سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بری طرح متاثر ہو رہا ہے حالیہ دنوں میں کوہ سلیمان سے متصل بلوچستان کے ضلع موسی خیل میں 23 اور ضلع
بارکھان کے علاقہ رڑکن میں سات پاکستانی شہریوں کی شہادت نے بارڈر ملٹری پولیس کے لیے سکیورٹی کے مزید چیلنجز کھڑے کر دیئے ہیں. ملک کی داخلی صورتحال اوروطن عزیز کے خلاف جاری عالمی سازشوں کے پیش نظر بارڈر ملٹری پولیس کی ری سٹرکچرنگ، ری ویمپنگ اور ماڈرنائزیشن وقت اہم ضرورت تھی. پنجاب پولیس کی طرز پر نئی بھرتی، ٹریننگ تھانوں کی پرانی خستہ حال اعمارات کی جدید طرز پر دوبارہ تعمیر، جدید اسلحہ وہتھیاروں کی فراہمی، نقل و حمل کے لیے جدید گاڑیاں، جدید کمیونیکیشن سسٹم اور آئی ٹی آلات کی فراہمی بھی بے حد ضروری تھی جس کو دیکھتے ہوئے موجودہ کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن اشفاق احمد چوہدری نے خطہ کے پارلیمینٹرینز، اراکین اسمبلی کی مشاورت سے سفارشات وزیر اعلی پنجاب مریم نوازشریف کو ارسال کیں اور وزیر اعلی پنجاب نے احسن اقدام کرتے ہوئے قبائلی فورس میں بھرتی کی اجازت دی اور یوں 27 سال بعد سات ہزار آسامیوں پر بھرتی شروع کردی گئی ہے اس سے قبل 1998 میں محدود پیمانے پر بھرتی کی گئی تھی۔ اس وقت ضلع ڈیرہ غازیخان کی کوہ سلیمان رینج کیلئے ساڑھے پانچ سو آسامیوں پر پنجاب پولیس کی طرز پر بھرتی جاری ہے. گزشتہ روز دوڑ میں 3200مردوخواتین نے شرکت کی. بھرتی کو شفاف بنانے کیلئے ملتان ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے انچارج ڈی آئی جی گوہر مشتا ق بھٹہ نگرانی کررہے ہیں. اس سے قبل ڈپٹی کمشنر و سینئر کمانڈنٹ محمد عثمان خالد نے بلوچ لیوی لائن میں تمن سطح پر درخواستوں کی وصولی کیلئے کاونٹرز قائم کیے. کمانڈنٹ و پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اسد چانڈیہ بھرتی کے معاملات میں معاونت کیلئے کردار ادا کررہے ہیں. کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے کہاکہ ان کی سفارشات پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پانچ سو ملین کی خصوصی گرانٹ کی بھی منظوری دی ہے جسے جدید اسلحہ اور فورس کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے خرچ کیا جاسکے گا. کمشنر نے کہاکہ کوہ سلیمان رینج میں بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی پنجاب کی یونیک فورس ہے اور قبائلی فورس کے باہمی روابط اور تعلق کی وجہ سے کوہ سلیمان رینج میں امن وامان کی فضا برقرار ہے تاہم خیبرپختونخواہ اور بلوچستان سے متصل علاقوں میں خوراج، دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک حملوں کو ناکام کرنے کیلئے یہی قبائلی فورس، پنجاب پولیس اور رینجرز کی بھی معاونت کرتی آ رہی ہے.























