کل ایک اور شہزادہ پاکستان آرہا ہے۔- مہمان ہمیشہ اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔

کل ایک اور شہزادہ پاکستان آرہا ہے۔

ہاں ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو پاکستان کو ترقی کرتا اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔

مہمان ہمیشہ اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔


ابوظبی کے ولی عہد شہزادہ شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کل پاکستان کا دورہ کریں گے۔

اسلام آباد سے سفارتی ذرائع کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد کو دورۂ پاکستان کے دوران خصوصی تقریب میں نشان پاکستان سے نوازا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے دوران مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد ایک روزہ دورے میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناظر میں ابوظبی کے ولی عہد کا دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

===========================


فرانس کے بعد برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی دوبارہ پروازیں شروع کرنیکی تیاریاں مکمل
فرانس کے بعد برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی دوبارہ پروازیں شروع کرنیکی تیاریاں مکمل
فرانس میں قومی ایئر لائن کی براہ راست پروازیں شروع ہونے کے بعد انتظامیہ نے برطانیہ کیلئے دوبارہ پروازیں شروع کرنیکی تیاریاں مکمل کر لیں۔

اس سلسلہ میں برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کے سیفٹی ریویو بورڈ کا اجلاس 15 مارچ کو طلب کر لیا گیا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ برطانیہ میں ایوی ایشن اتھارٹی میٹنگ میں قومی ایئرلائن کے فلائٹ آپریشنز پر پابندی ختم کردی جائیگی۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق قومی ایئرلائن حکام 28 مارچ سے اسلام آباد سے مانچسٹر کیلئے اپنی براہ راست پروازیں بحال کرنیکا ارادہ رکھتے ہیں، پہلے مرحلے میں قومی ایئر لائن اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پروازیں شروع کرے گی۔

دوسرے مرحلے میں اسلام آباد اور لاہور سے لندن اور برمنگھم کے لیے پروازیں شروع کی جائیں گی، انتظامیہ نے برطانیہ کے فلائٹ آپریشن کے انتظامات مکمل کرنے کے لیے گراؤنڈ ہینڈلنگ، کیٹرنگ اور عملے کے ہوٹلوں کےلیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔

برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کا مثبت فیصلہ آنے پر فلائٹ آپریشن کا آغاز کر دیا جائے گا‘ایئرلائن کے نیٹ ورک کےلیے یو کے مارکیٹ ایک بہت اہم روٹ ہے۔

مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی خدمات فراہم کی جائیں گی ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی برطانیہ میں بسلسلہ روزگار مقیم اور ملکی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم کراچی میں طیارہ حادثے کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر ہوائی بازی غلام سرور کی ایک متنازعہ پریس کانفرنس کے بعد برطانیہ اور یورپ میں قومی ایئرلائن کی فلائٹس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

کئی سال کی مسلسل پابندی کے بعد یورپی یونین میں پروازیں بحال ہو گئیں جبکہ برطانیہ میں بھی جلد ہلالی پرچم فضا میں میں بلند دکھائی دیگا۔