
آٹھویں ڈاؤ –ڈائس ہیلتھ انوویشن ایگزی بیشن کی افتتاحی تقریب سے بہ حیثیت مہمانِ خصوصی خطاب
کراچی: خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ضیا الحق نے کہا ہے کہ دنیا کا حال اے آئی اور مستقبل ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے کیونکہ دنیا میں ہمارےیہاں نوجوانوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے جو باصلاحیت بھی ہیں بس حوصلہ افزائی اور مواقع دینے کی کی ضرورت ہے صحت کے شعبے میں اے آئی کی بڑھتی مداخلت کے بعد یوں لگتا ہے ہم نےاس پر توجہ نہ دی تو بہت پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ اگلے پانچ برس بعد اے آئی کیا کرے گی کچھ نہیں کہا جاسکتا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آٹھویں ڈاؤ –ڈائس ہیلتھ انوویشن ایگزی بیشن کی افتتاحی تقریب سے بہ حیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،افتتاحی تقریب سے ان کے علاوہ چیئرمین ڈائس فاؤنڈیشن ڈاکٹر خورشید قریشی، پرو وائس چانسلر پروفیسر نازلی حسین،مہمان اعزازی اور فارما کمپنی بوش کے ڈائریکٹرشیخ فرحان چاؤلہ،رجسٹرار اشعر آفاق، ڈائریکٹر ڈائس ہیلتھ یو ایس اے ڈاکٹر سہیل حسن، چیف آرگنائزر ڈائس پروفیسر کاشف شفیق نے بھی خطاب کیا،ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس میں واقع کرکٹ گراؤنڈ میں منعقدہ آٹھویں ایک روزہ نمائش ڈاؤ ڈائس نمائش میں پاکستان بھر کی 30 جامعات کے طلبا نے 2800 سے زائد انوویٹو پروجیکٹ پیش کیے، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمہمانِ خصوصی اور وائس چانسلر خیبر میڈیکل کالج ڈاکٹر ضیا الحق نے کہا کہ ہم نے بے سروسامانی کے باوجود بین الاقوامی وبا کوویڈ نائنٹین کا مقابلہ کیا ہم سے جدید ترقی یافتہ ممالک میں سڑکوں پر لوگ مر رہے تھے ہم نے دنیا کو اسمارٹ لاک ڈاؤن کا تصور متعارف کرایا انہوں نے طلبا کی تخلیقی سوچ اور لگن کو سراہا اور کہا کہ ہم آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے
بلکہ آپ کے سفر میں معاون ثابت ہوں گے،انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو نئی ٹیکنالوجی سے سیکھنا چاہیے، اپنی شناخت کو محفوظ کرتے ہوئے، مقامی ضروریات کے مطابق ہمیں ٹیکنالوجی میں کام کرنا چاہیے، انہوں نے ڈائس کے انعقاد پر ڈاؤیونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا، پرووائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرنازلی حسین نے طلبا کی کامیابیوں پرخوشی کا اظہارکیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے نصاب میں اےآئی کو شامل کرلیا ہے تاکہ طلبا کو مستقبل کے لیے تیار کیا جاسکے، انہوں نے طلبا کی کامیابیوں پر خوشی کااظہار کیا اور کہا کہ خوش نصیب ہیں جو اس نمائش کا حصہ ہیں، ڈائریکٹر بوش اور مہمان اعزازی شیخ فرحان چاولہ نے اے آئی کی اہمیت پر زور دیتےہوئے کہا کہ آپ میں سے ایک سو ایلون مسک نکلیں گے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، اے آئی کےلیےڈیٹا کی ضرورت ہے اور

پاکستان میں ڈیٹا کی بھی کمی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ڈیٹا انہیں پاکستان سے مل سکتا ہے وہ کہیں سے نہیں مل سکتا، انہوں نے کہا کہ اگر ہم اے آئی پر نہیں کام کرتے تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے ، ڈاکٹر سہیل حسن نےطلبا کو “حقیقی ہیرو” قرار دیا، انہوں نے طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں اورجدت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان دنیا کا مستقبل ہیں، انہوں نے پیش کیے گئے خیالات پر حیرانی اور تمام شرکا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ڈاکٹر خورشید قریشی، چیئرمین ڈائس فاؤنڈیشن نے میر عمران کی روبوٹک انجیکشن کے شعبے میں جدت کو سراہا، اے آئی دنیا کو بدل رہا ہے اورہمیں اس کے ساتھ قدم سے قدم ملانا ہوگا، انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتے منشیات کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے نئی ایجادات کے عزم کابھی اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ چار سو پروجیکٹ نمائش کے لیے پیش کیے گئے تھے ان میں سے دو سو پروجیکٹ کو چنا گیا اس کا مطلب ہے نوجوانوں میں ٹیلنٹ ہے رجسٹرار ڈاؤ یونیورسٹی ڈاکٹر اشعر آفاق نے نمائش سے اختتامی خطاب میں طلبا کی کوششوں کو سراہاانہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کی جدت اور تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیے، اس ایونٹ کو کامیاب بنانے میں آپ کی رہنمائی کو فروغ دیا گیا ہےبعد ازاں کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے ربن کا ٹ نمائش کا رسمی افتتاح کیا۔























