گھروں میں چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی اور روک تھام ضروری ہے


گھروں میں چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی اور روک تھام ضروری ہے

کہانی:
پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے، خاص طور پر گھریلو ملازمت کے شعبے میں۔ چھوٹی عمر کے بچے، جو تعلیم اور محبت کے مستحق ہیں، انہیں گھریلو کام کاج کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ بچے معصوم ہوتے ہیں اور انہیں بچپن ہی سے کام کرنے کے لیے نہیں بلکہ پڑھنے، کھیلنے اور پروان چڑھنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ معاشرے کے کچھ طبقے ان بچوں کی معصومیت کو نظرانداز کرتے ہوئے ان سے گھریلو کام کاج لے رہے ہیں۔

حال ہی میں وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر سید عطاء الرحمٰن نے ایک تقریب میں کہا کہ “گھروں میں چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ بچوں کو معاشی، معاشرتی اور مذہبی تقسیم کے بغیر ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” ان کا یہ بیان چائلڈ لیبر کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان میں بہت سے غریب والدین مجبوراً اپنے بچوں کو امیر گھرانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ یہ والدین مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے بجائے انہیں کام پر لگا دیتے ہیں۔ لیکن امیر گھرانوں میں یہ بچے اکثر بے رحمی سے کام کراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان بچوں کو نہ صرف جسمانی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اکثر انہیں ذہنی اور جذباتی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

قوانین اور اخلاقیات دونوں ہی کہتے ہیں کہ چائلڈ لیبر کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں ہے۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان قوانین کو سختی سے نافذ کرے اور چائلڈ لیبر کے خلاف کارروائی کرے۔ ساتھ ہی، غریب والدین کو مالی مدد اور رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے بجائے انہیں اسکول بھیج سکیں۔

معاشرے کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھائے۔ میڈیا کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے اور چائلڈ لیبر کے واقعات کو اجاگر کرنا چاہیے۔ شہروں اور دیہاتوں دونوں جگہوں پر گھریلو ملازمین کی نشاندہی کی جانی چاہیے اور انہیں ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ “بچوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے ہمیں معاشرتی اور مذہبی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا۔” ان کا یہ پیغام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چائلڈ لیبر صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور معاشرتی مسئلہ بھی ہے۔

حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ غریب خاندانوں کو مالی مدد کے ساتھ ساتھ تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ، عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہمات چلائی جانی چاہئیں تاکہ لوگ چائلڈ لیبر کے نقصانات سے آگاہ ہو سکیں۔

چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اور چائلڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچے ہمارے مستقبل ہیں، اور انہیں تعلیم اور محبت کے ساتھ پروان چڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اختتامی نوٹ:
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو تعلیم اور محبت کا حق حاصل ہے۔ آئیے، ہم سب مل کر اس معاشرتی برائی کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور اپنے بچوں کو ایک روشن مستقبل دیں۔

جیوے پاکستان – آپ کی آواز، ہماری پہنچ۔

===========================


ملک میں 4 ہزار 591 بچے لاپتہ ،3ہزار 896 بازیاب ، 722 کی تلاش جاری


اسلام آباد(طاہر خلیل)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں لاپتہ بچوں کے 4 ہزار 591 کیسز رپورٹ ہوئے ،3ہزار 869 بچے بازیاب کرائے گئے جبکہ 72 کیسز میں لاپتہ بچوں کی تلاش جاری ہے ۔شکایات کے فوری حل کیلئے وزیر اعظم پورٹل کو وزرائے اعلیٰ کے نظام سے منسلک کرنے کی ہدایت ، قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز، اسلام آباد میں رانا ارادت شریف خان، ایم این اے کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سیکرٹری پارلیمانی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ عوامی شکایات کے فوری حل کے لیے وزیراعظم کے عوامی امور اور شکایات ونگ، پاکستان سٹیزن پورٹل کو وزرائے اعلیٰ کے شکایات کے نظام اور گلگت اور جموں کشمیر (آزاد کشمیر) کے شکایات کے طریقہ کار کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے۔