
سچ تو یہ ہے۔
بشیر سدوزئی،
24 فروری کشمیر کی تاریخ میں سیاح ترین دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب سورج طلوع ہوا تو کنن پوش پورہ میں گھپ اندھیرا تھا۔ اس رات بھارتی فورسز نے کشتواڑ کے ان دو گاوں میں شب خون مارا تھا، اور سارا گاوں جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر شرمندگی اور کرب کے عالم میں تھا۔ لوگ سکتے میں تھے کہ ان کی ریاست اپنے عوام کے ساتھ یہ بھی کر سکتی ہے۔ 23 فروری جموں و کشمیر میں اسی ظلم کی یاد میں ” یوم مزاحمت نسواں کشمیر ” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کراچی میں اس دن اہم تقریب منعقد ہوئی جس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی، الطاف حسین وانی اور سیکرٹری پرویز ایڈووکیٹ سمیت مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب جو فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان نے کراچی پریس کلب کے اشتراک سے منعقد کی تھی، راقم کی نئی شائع ہونے والی کتاب “کنن پورہ، پورہ، دختران کشمیر کے مصائب، ہمت، استقامت و مزاحمت” کی تقریب رونمائی تھی۔ مقررین نے کہا کہ بشیر سدوزئی کی یہ نئی کتاب سری نگر کی ان پانچ خواتین کے سوال کا جواب ہے، جنہوں نے قوم سے پوچھا تھا کہ آپ کو کنن پوش پورہ یاد ہے، بشیر سدوزئی نے اس کتاب میں جواب دیا کہ ہاں ہمیں کنن پوش پورہ یاد ہے یہ جواب پوری کشمیری عوام کی جانب سے ہے کہ ہم کنن پوش پورہ نہیں بھولے نہ بھولیں گے ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی طور تسلیم شدہ جموں و کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت کی تحریک کو کچلنے کے لیے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اور فوج کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے اجتماعی آبرو ریزی کے مجرموں کے خلاف کسی بھی فورم پر تحقیقات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ بشیر سدوزئی نے بہترین تاریخی و تحریکی کام کیا پاکستان کے عوام خاص طور پر نوجوانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیری پاکستان کی تکمیل اور استحکام کے لیے کس قدر مصائب برداشت کر رہے ہیں خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خواتین کس حمت اور جرات کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نےکہا ہم کنن پوش پورہ بھول نہیں سکتے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سازش کے تحت پنڈتوں کو کشمیر سے نکالا تاکہ دنیا کے سامنے واویلا کر سکے۔ پنڈتوں نے ہی بتایا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ کشمیر سے نکلو تاکہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو ختم کر سکیں اس کے بعد آپ واپس آ جانا لیکن جموں اور دہلی میں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس پر اب آنسوؤں بہاتے ہیں۔ پاکستان کی ہمیں ہمیشہ سے حمایت رہی ہے۔ ہمارے نوجوان شکایت کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اس مسئلے سے اب دلچسپی نہیں رہی ہم پاکستان کو مسئلہ کشمیر بھولنے نہیں دیں گے ہماری ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر یاد دلائیں اور یہ کام ہم کرتے ہیں۔ چئیرمین کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشن۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ کشمیری تھکا ہے نہ ہارا ہے تو پاکستان کیسے تھک کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کسی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوئی ۔ ریلوے لائن آزادی کی متبادل نہیں ہو سکتی۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ بشیر سدوزئی نے یہ کتاب لکھ کر سری نگر کی پانچ خواتین کو جواب دیا کہ ہم کنن پوش پورہ نہیں بھولے۔ ہم پاکستان کے یوتھ کے پاس پہنچے ہیں تاکہ ان کے خدشات دور کر سکیں۔ انہوں نےکہا کہ ہمارے پاس عوامی قوت نہیں صرف آزاد کشمیر ہے وہاں کے عوام کی ترجیحات سستی بجلی اور سستا آٹآ ہے کنن پوش پورہ جیسے ہزاروں واقعات پر ایک روز کی ہڑتال بھی نہیں ہوتی۔ بھارت کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی یہ جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے ساتھ جماعت اسلامی کا زیادہ تعلق ہے،تاہم ہمیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سردار نزاکت نے کہاکہ حریت کانفرنس کو حکومت پاکستان کے ساتھ دوٹوک بات کرنا چاہئے۔جمشید حسین اور محفوظ یار خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے ابتدا میں راقم نے کتاب کے حوالے سے حاضرین کو بتایا کہ کنن پوش پورہ کا افسوس ناک واقعہ آج ہی کی رات رونما ہوا تھا یوم مزاحمت نسواں کشمیر کے موقع پر اس موضوع پر شائع ہونے والی کتاب کی تقریب رونمائی رکھی گئی۔ یہ کتاب ”کنن پوش پورہ“ کی دختران کشمیر کے مصائب، ہمت، استقامت و مزاحمت“ اور مجموعی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین پر ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ’کنن پوش پورہ‘ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں ہیں جہاں کے لوگوں خصوصاً خواتین کی 24 سالہ انتھک اور متاثر کن جدوجہد کی وجہ سے ان کے نام منسوب کی گئی ہے۔ ان خواتین کی ہمت، استقامت، مزاحمت و حوصلے اور عزم کی کہانی سنانا میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہے کہ ان سے ہزاروں کلومیٹر دور رہ کر بھی ان کے دکھ درد میں شریک اور باخبر ہیں۔ یہ دراصل مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ لامتناہی تعلق اور دلی محبت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا جو خوش قسمتی سے ہمیں حاصل ہے۔ وہاں کی عوام کے ساتھ یہ تعلق اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی سے لگن مرحوم کے ایچ خورشید کی دی ہوئی ہے جن کی سرپرستی میں ہم نے یہ کام ایام جوانی بلکہ نوجوانی میں شروع کیا تھا اور ابھی تک اسی مقام پر کھڑے ہیں، اگر دو قدم آگے نہیں گئے تو پیچھے بھی نہیں ہٹے۔ مجھے اس بات کا اداراک ہے کہ وطن کی آزادی کے لئے میں عملی میدان میں لڑ نہیں سکا لیکن ظلم و ستم پر کبھی خاموش بھی نہیں رہا، چیختا چلاتا رہا، لکھتا بولتا رہا، شاہد ایک کمزور اور بزدل انسان اپنے مقصد کو پانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ خیر! اب تو عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکا کی بڑے انقلاب کی کیا توقع کرنی۔ میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے توسط سے ملنے والی معلومات، مشکل اور بھولی ہوئی یادوں کو تاز رکھنے کے لئے مدد کی گئی۔ میں ان لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں دستاویزات فراہم کیں نقشوں، تصویروں اور ترجموں تک رسائی میں مدد کی۔ سری نگر کے ایڈوکیٹ پرویز امروز، انسانی حقوق کے عالمی تسلیم شدہ کارکن(جو اب جیل میں ہیں) خرم پرویز، ایڈوکیٹ کارتک مروکتلا اور جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کی پوری ٹیم کا خصوصی شکریہ جن کی کوششوں اور کاوشوں پر مبنی معلومات بین الاقوامی، ہندوستانی اور جموں وکشمیر کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط سے ہمارے پاس پہنچی جو اس کتاب کی قدر و قیمت میں اضافہ کرنے کا سبب بنی۔ اس کتاب کو حقیقت کا روپ دینے میں مسلسل ہمارے ساتھ رہنے اور ہماری مدد کرنے کے لئے اقبال عزیز کا شکریہ، ہماری مدد کرنے کے لئے اضافی کوشش اور وقت لگانے اور ہر وقت ہمارے حوصلے کو بڑھانے کے لئے، کراچی کے احباب کا بھی شکریہ جنہوں نے اس کتاب کو ممکن بنانے میں مدد کی۔ یہ کتاب’کنن پوش پورہ‘ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے، ان کی کہانیوں کو بیان کرنے میں ان کی رضامندی اور سری نگر کی پانچ خواتین کی بہادری کا نتیجہ ہے، انہوں نے ہی یہ حوصلہ کیا کہ کنن پوش پورہ کے مقدمہ کو 21 سال بعد دوبارہ زندہ کیا تاکہ دنیا کو 23 اور 24 فروری1991ء کی درمیانی رات کی سچائی کا پتہ چل سکا۔”کنن پوش پورہ” کی عورتوں اور مردوں کی ہمت، اس رات کا اذیت ناک کرب دوبارہ برداشت کرنے پران کی آمادگی نے ہی اس کو ساری دنیا اورخاص طورپر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام تک پہنچایا۔یہ کتاب مکمل نہ ہوتی اگر اس کے لئے سری نگر کی پانچ نوجوان خواتین کی کاوش “Do You Remember Kanan Poshpora” سے تعاون نہ ملا ہوتا جس کو پڑھنے کے بعد ہمیں بہت کچھ معلومات بلکہ پہلے کی جمع معلومات کی سچائی کی تصدیق ہوئی اور اس کتاب کو شائع کرنے کا حوصلہ ہوا۔احمر بشیر خان کا بھی شکریہ جنہوں نے
“Do you Remember kanan poshpora”
امریکہ سے کینیڈا منگوائی اورپھر اسے وہاں سے کراچی تک پہنچانے کا انتظام کیا۔ نہ معلوم کیوں یہ کتاب پاکستان میں دستیاب نہیں حالانکہ کشمیر لبریشن سیل کو اس کتاب کو عام کرنا چاہیئے تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو۔ جموں و کشمیر کے عوام سے محبت رکھنے والوں سے درخواست ہے کہ اس کتاب کو عام کرنے میں تعاون کریں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس کتاب کو لوگ زیادہ سے زیادہ خریدیں بلکہ اس کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے کی ترغیب دیں اور خود پڑھنے کے بعد دوسرے تک پہنچائیں اس میں سے منتخب تحریر کو عوام تک پہنچائیں تاکہ کنن پوش پورہ کے عوام اور مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے ساتھ یکجہتی ہو سکے۔























