“کراچی میں کچی آبادیوں میں غیر معیاری اسٹیل کا استعمال کا استعمال: شہریوں کے لیے خطرہ”

کراچی میں غیر قانونی کچی آبادیوں اور خطرناک تعمیرات: شہر کے لیے بڑا خطرہ

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر، جہاں لاکھوں افراد کو روزگار اور رہائش کے مواقع میسر ہیں، وہیں غیر قانونی کچی آبادیوں اور خطرناک تعمیرات کے باعث شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر لیاری ندی کے ساتھ واقع مشرقی اور وسطی اضلاع میں غیر قانونی طور پر چھوٹے پلاٹوں پر دو سے چار منزلہ مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ یہ تعمیرات نہ صرف شہری قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان میں استعمال ہونے والا کم معیاری سٹیل، سیمنٹ، اور دیگر تعمیراتی مواد شہر کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

غیر قانونی تعمیرات کا پھیلاؤ:
لیاری ندی کے ساتھ ساتھ واقع علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے، لیکن خاص طور پر جمعہ سے اتوار تک چھتوں پر تعمیراتی مشینری کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ مقامی غیر سرٹیفائیڈ انجینئرز اور کنٹریکٹرز کم قیمت والے کم معیاری سٹیل، سیمنٹ، اور دیگر مواد استعمال کرتے ہیں، جو نہ صرف عمارتوں کو غیر محفوظ بناتے ہیں بلکہ کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ غیر قانونی تعمیرات نہ صرف لیاری ندی کے قریب بلکہ پورے کراچی میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

خطرات اور ممکنہ حادثات:
غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی بلند عمارتیں، خاص طور پر چھوٹے پلاٹوں پر، کم معیاری مواد کی وجہ سے کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہیں۔ یہ عمارتیں نہ صرف زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے لیے انتہائی خطرناک ہیں بلکہ روزمرہ کے استعمال میں بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں میں کراچی میں کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں، جہاں غیر معیاری تعمیرات کی وجہ سے عمارتیں گر گئیں اور جانی نقصان ہوا۔

حکام اور پولیس کی لاپرواہی:
اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہری حکام اور پولیس کی جانب سے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ شہری حکام کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دیں اور غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

عوام کی ذمہ داری:
صرف حکام ہی نہیں، بلکہ عوام کو بھی اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ غیر قانونی تعمیرات میں رہائش اختیار کرنے والے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے محفوظ اور قانونی رہائشیں تلاش کریں۔ کم قیمت پر غیر معیاری مکانات خریدنا یا کرائے پر لینا نہ صرف ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ پورے شہر کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔

حل کے لیے تجاویز:

شہری حکام کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کریں اور انہیں مسمار کریں۔

غیر سرٹیفائیڈ انجینئرز اور کنٹریکٹرز کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔

شہریوں کو کم معیاری تعمیراتی مواد کے استعمال کے خطرات سے آگاہ کیا جائے۔

لیاری ندی اور دیگر خطرناک علاقوں میں رہائش کو روکنے کے لیے متبادل رہائشی اسکیموں کا اعلان کیا جائے۔

پولیس اور متعلقہ محکموں کو غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز تشکیل دینی چاہیے۔

نتیجہ:
کراچی میں غیر قانونی کچی آبادیوں اور خطرناک تعمیرات کا مسئلہ شہر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ مسئلہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ شہری حکام، پولیس، اور عوام سب کو مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ کراچی کو ایک محفوظ اور پائیدار شہر بنایا جا سکے۔


سالک مجید جیوے پاکستان ڈاٹ کام