کرکٹ شائقین تنگ آ کر کپتان رضوان کے استعفیٰ اور بابر اور شاہین کو اسکواڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں…. وہ کارکردگی نہیں دکھا رہے۔ ٹیم میں ان کی موجودگی جائز نہیں،

کرکٹ شائقین تنگ آ کر کپتان رضوان کے استعفیٰ اور بابر اور شاہین کو اسکواڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں…. وہ کارکردگی نہیں دکھا رہے۔ ٹیم میں ان کی موجودگی جائز نہیں،


پاکستان کی شکست پر کرکٹ شائقین کا غم و غصہ، کپتان رضوان اور ٹیم کے خلاف احتجاج

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 23 فروری 2025 کو چیمپئنز ٹرافی کے ہائی وولٹیج میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 6 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ شائقین کا غم و غصہ عروج پر ہے، اور وہ کپتان محمد رضوان کی فوری استعفیٰ اور ٹیم کے کچھ کلیدی کھلاڑیوں جیسے بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو ٹیم سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

شائقین کا احتجاج

شائقین کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑی اپنی کارکردگی سے مایوس کر رہے ہیں، اور ان کا ٹیم میں موجود ہونا جواز نہیں رکھتا۔ ان کا ماننا ہے کہ اب نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جانا چاہیے، خاص طور پر انڈر 19 کے کھلاڑیوں کو، جو ٹیم میں نئے جوش و جذبے کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ شائقین کا کہنا ہے کہ موجودہ کھلاڑی “ٹک ٹک” کرکٹ کھیل رہے ہیں، اور 300 گیندوں پر کھیلے جانے والے ون ڈے میچ میں 100 سے زائد گیندوں کو ڈاٹ بال کرنا ناقابل قبول ہے۔

میچ کا احوال

پاکستان کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، لیکن وہ 49.4 اوورز میں صرف 241 رنز بنا سکی۔ بابر اعظم صرف 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ امام الحق 10 رنز پر رن آؤٹ ہو گئے۔ کپتان محمد رضوان نے 46 رنز بنائے، اور سعود شکیل نے 62 رنز کی قابل تعریف اننگز کھیلی۔ تاہم، باقی بلے بازوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، اور پاکستان کا اسکور 241 رنز تک محدود رہا۔

بھارت کی جیت

بھارت نے 242 رنز کا ہدف 43 اوورز میں صرف 4 وکٹوں کے نقصان کے ساتھ حاصل کر لیا۔ بھارتی کپتان روہت شرما 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ شبمن گل نے 46 اور شریاس ایئر نے 56 رنز بنائے۔ تاہم، ویرات کوہلی نے اپنی 51 ویں ون ڈے سنچری اسکور کی، جو 111 گیندوں پر 100 رنز پر مشتمل تھی۔ کوہلی کی شاندار بلے بازی نے بھارت کو آسانی سے جیت دلائی، اور انہیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

شائقین کا رد عمل

پاکستانی شائقین اس شکست سے سخت ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ، کوچ اور کپتان سب کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ کھلاڑیوں کی خود غرضی اور کمزور کارکردگی نے ٹیم کو ناکامی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ شائقین کا کہنا ہے کہ اب نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جانا چاہیے، جو ملک کے لیے جذبے اور لگن سے کھیلیں۔

ٹیم کی صورتحال

پاکستان کی ٹیم پہلے ہی نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا افتتاحی میچ ہار چکی ہے، اور اب بھارت کے خلاف شکست کے بعد ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ ٹیم کو اب اپنا اگلا میچ 27 فروری کو بنگلہ دیش کے خلاف بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا، لیکن یہ بھی کافی نہیں ہوگا۔ نیوزی لینڈ کو اپنے دونوں میچز میں بھاری مارجن سے ہارنا ہوگا، تب ہی پاکستان کی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے کا موقع حاصل کر سکتی ہے۔

کپتان رضوان کا بیان

ٹاس کے موقع پر کپتان محمد رضوان نے کہا تھا کہ وہ اچھا اسکور بنائیں گے اور میچ جیتیں گے، لیکن ان کی ٹیم اپنے وعدے پر پورا نہیں اتر سکی۔ رضوان نے فخر زمان کی جگہ امام الحق کو ٹیم میں شامل کیا تھا، لیکن امام بھی صرف 10 رنز بنا سکے۔

ٹیم کی پلیئنگ الیون

پاکستان کی پلیئنگ الیون میں بابر اعظم، امام الحق، سعود شکیل، محمد رضوان، سلمان آغا، طیب طاہر، خوشدل شاہ، ابرار احمد، نسیم شاہ، شاہین آفریدی اور حارث رؤف شامل تھے۔ تاہم، ان میں سے اکثر کھلاڑی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے۔

شائقین کی امیدیں

شائقین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کھلاڑیوں کو موقع دیا جاتا رہا تو پاکستان کی کرکٹ مزید پستی کا شکار ہو جائے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے سے نہ صرف ٹیم میں نئی توانائی آئے گی، بلکہ مستقبل میں بھی بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔

اختتامیہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اس شکست کے بعد اپنی کارکردگی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ شائقین کی ناراضگی اور مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ٹیم مینجمنٹ اور کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیں، تو شاید پاکستان کی کرکٹ دوبارہ عروج حاصل کر سکے۔ لیکن اگر یہی صورتحال برقرار رہی، تو پاکستانی کرکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
==================================

پاک بھارت ٹاکرا: کوہلی کی سنچری، بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی
چیمپئنز ٹرافی کے ہائی وولٹیج میچ میں ویرات کوہلی کی شاندار سنچری کی بدولت بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

242 رنز کا ہدف بھارت نے 43 اوور میں 4 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا۔

دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کی اننگز
پاکستان کی پوری ٹیم 49 اعشاریہ 4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

پاکستان کو پہلا نقصان 41 رنز پر بابر اعظم کی صورت میں اٹھانا پڑا جو 23 رنز بناکر ہاردک پانڈیا کی گیند کا شکار بنے، اس کے بعد امام الحق 10 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

محمد رضوان 46 رنزبناکرآؤٹ ہوئے جبکہ سعود شکیل 62 رنزبناکر پویلین لوٹے، طیب طاہر 4 اور سلمان آغا 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

ان کے بعد آنے والے شاہین آفریدی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے، نسیم شاہ نے 14 رنز کی اننگز کھیلی، خوشدل شاہ نے 38 اور حارث رؤف نے 8 رنز بنائے۔

بھارت کی جانب سے کلدیپ یادیو نے 3، ہاردک پانڈیا نے 2 ، ہرشیت رانا، اکثر پٹیل اور جدیجا نے ایک ایک وکٹ لی۔

بھارت کی اننگز
بھارت کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی کپتان روہت شرما تھے جنہیں شاہین آفریدی نے بولڈ کیا، روہت شرما 20 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد شبمن گل 46 رنز بنا کر ابرار کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔

شریاس ایئر 56 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوئے، انہیں خوشدل شاہ نے آؤٹ کیا۔ ہاردیک پانڈیا 8 رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

اس موقع پر ویرات کوہلی وکٹ پر جمے رہے اور ون ڈے کریئر کی 51 ویں سنچری اسکور کی، انہوں نے 111 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے اور ناقابل شکست رہے۔ شاندار بلے بازی پر انہیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

بھارت نے 242 رنز کا ہدف 43 اوور میں 4 وکٹ کے نقصان پر پورا کرلیا۔

پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے 2، ابرار اور خوشدل شاہ نے ایک ایک وکٹ لی۔

ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم آج کے میچ میں اچھی کارکردگی دکھائے گی، ٹیم میں ایک تبدیلی ہے ، فخرزمان کی جگہ امام الحق کو شامل کیا گیا ہے، محمد رضوان نے کہا کہ اسکور بورڈ پر اچھا ٹوٹل سجائیں گے۔

پاکستان کی پلیئنگ الیون میں بابراعظم ، امام الحق ، سعود شکیل ، محمد رضوان، سلمان آغا، طیب طاہر، خوشدل شاہ، ابرار احمد ، نسیم شاہ ، شاہین آفریدی اور حارث رؤف شامل تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا افتتاحی میچ ہار چکا ہے جب کہ بھارتی ٹیم کو افغانستان کے خلاف کامیابی ملی تھی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے اگلے راؤنڈ تک جانے کا سفر مشکل ہوچکا ہے، لیکن یہ اب بھی ناممکن نہیں۔ نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف دو لگاتار شکستوں کے بعد پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے امیدیں اب صرف اگر مگر کے تکنیکی امکان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ تاہم اس کے لیے باقی میچز کے نتائج پر انحصار کرنا پڑے گا۔

پاکستان کو اب اپنا اگلا میچ 27 فروری کو بنگلا دیش کے خلاف راولپنڈی میں بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ کو اپنے دونوں میچز میں بھاری مارجن سے ہارنا ہوگا، تب ہی پاکستان کی ٹیم ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کا موقع حاصل کر سکتی ہے۔

پیر کو نیوزی لینڈ اور بنگلا دیش کے درمیان راولپنڈی میں ہونیوالا مقابلہ پاکستانی فینز کےلیے اہم ہوگا۔ اگر نیوزی لینڈ یہ میچ جیت جاتا ہے یا میچ بارش کی وجہ سے واش آؤٹ ہو جاتا ہے تو پاکستان کی ٹیم آفیشلی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گی لیکن اگر بنگلا دیش یہ میچ جیت جاتا ہے تو پاکستان کی امیدیں برقرار رہیں گی۔

پاکستان اور بنگلا دیش کا میچ 27 فروری کو راولپنڈی میں کھیلا جائےگا جب کہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ 2 مارچ کو شیڈول ہے۔ پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کے امیدیں بظاہر کم ہیں لیکن کرکٹ کے کھیل میں کچھ بھی اس وقت ناممکن نہیں جب تک اس کے ہونے کا امکان مکمل طور پر رد نہیں ہوجاتا اور پاکستانی ٹیم کے لیے امکان اب بھی موجود ہے۔
============================

پاکستانی ٹیم نے ڈاٹ بولز کی سنچری بنا ڈالی

چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف پاکستان کا جتنا بڑا میچ تھا اتنی ہی زیادہ پاکستانی بیٹرز سے ڈاٹ بولز ہوگئیں۔

پاکستان کے ٹاپ آرڈرز بیٹرز نے ابتدائی 161 گیندوں میں 100 ڈاٹ بولز کیں اور بھارتی بولرز کے سامنے ڈاٹ بولز کی سنچری بنا ڈالی۔

کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق ٹیم پاکستان نے 50 اوورز یعنی 300 گیندوں کی اننگز کے دوران مجموعی طور پر 147 بولز ڈاٹ کیں۔ اننگز کے دوران صرف 3 چھکے اور 14 چوکے لگائے گئے۔

پاکستانی بیٹرز بھارتی ناقص فیلڈنگ و ڈراپ کیچز کا بھی فائدہ نہ اٹھا سکے

پاکستانی بیٹرز نے پاور پلے کے دوران بھی جی بھر کر ڈاٹ بالز کیں، بڑے کھلاڑیوں نے ٹُک ٹُک کر کے وقت گزارا۔

قومی ٹیم بھارت کے خلاف بڑے ٹاکرے میں نہ تو تیز کھیل سکی اور نہ ہی رنگ جما سکی، پوری اننگز میں صرف ایک ففٹی بنی، اننگز کا پہلا چھکا بھی 42ویں اوور میں لگا۔

پاکستانی ٹیم روایتی حریف بھارت کے بولرز کے سامنے بےبس ہوگئی، سعود شکیل نے 76 گیندوں پر سب سے زیادہ 62 رنز بنائے۔

سعود شکیل اور کپتان محمد رضوان نے تیسری وکٹ پر 144 گیندوں پر 104 رنز کی پارٹنرشپ بنائی لیکن یہ شراکت بھی بڑا مجموعہ کھڑا کرنے کی کوشش میں کام نہ آئی۔

کپتان محمد رضوان 46 رنز کے ساتھ دوسرے نمایاں بیٹر رہے، انہوں نے مجموعی طور پر 77 گیندوں کا سامنا کیا اور 3 چوکے لگائے۔

کلدیپ یادیو نے 3، ہاردیک پانڈیا نے 2 وکٹ اپنے نام کیں
=================================

ویرات کوہلی نے ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین 14 ہزار رنز مکمل کرلیے
بھارتی کرکٹ ٹیم کے بیٹر ویرات کوہلی نے ون ڈے انٹرنیشنل میں 14 ہزار رنز مکمل کرلیے۔

آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے پانچویں میچ میں پاکستان کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے ویرات کوہلی نے 14 رنز مکمل کرتے ہوئے یہ سنگ میل عبور کیا۔ ویرات 14 ہزار رنز بنانے والے تیسرے بلے باز ہیں۔

چیمپئنز ٹرافی: ویرات کوہلی نے ون ڈے میں 200 کیچ پکڑنے کا اعزاز حاصل کرلیا

ویرات کوہلی سے قبل ون ڈے میں سچن ٹنڈولکر اور کمارا سنگاکارا بھی 14 ہزار رنز بنا چکے ہیں۔

کوہلی 287 اننگز میں یہ سنگ میل عبور کرکے تیز ترین 14 ہزار رنز بنانے والے پلیئر بنے۔

اس سے قبل لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر نے 350 اور سنگا کارا نے 378 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔
=========================

دفاعی چیمپئن پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل مگر امکان باقی
دفاعی چیمپئن پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل مگر امکان باقی
چیمپئنز ٹرافی 2025ء کے سیمی فائنل تک دفاعی چیمپئن اور میزبان پاکستان کی رسائی بظاہر مشکل ہوگئی مگر امکان اب بھی باقی ہے۔

پاکستان کی ایونٹ کے 2 میچز میں شکست کے بعد سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں اگر مگر سے جڑگئیں۔

میگا ایونٹ میں نیوزی لینڈ اور بھارت سے لگاتار شکست کے باوجود پاکستان تکنیکی طور پر ٹورنامنٹ سے آؤٹ نہیں ہوا۔

پاکستان کا چیمپئنز ٹرافی میں سفر برقرار رکھنے کےلیے نیوزی لینڈ کا دونوں میچز بھاری مارجن سے ہارنا لازمی ہوگیا ہے۔

پاکستان کو راولپنڈی میں 27 فروری کو بنگلادیش کے خلاف اپنا میچ بھی بڑے مارجن سے جیتنا ہوگا۔

نیوزی لینڈ اور بنگلادیش کی ٹیمیں کل 24 فروری کو راولپنڈی میں مقابلہ کریں گی۔ اگر نیوزی لینڈ نے میچ جیت لیا یا میچ واش آؤٹ ہوا تو پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہوجائے گا۔

چیمپئنز ٹرافی کے گروپ اے میں بھارت اور نیوزی لینڈ کا میچ 2 مارچ کو شیڈول ہے جبکہ 27 فروری کو بنگلادیش اور پاکستان میں مقابلہ ہے۔