
کراچی: پاکستان میں رواں سال پولیو کا تیسرا کیس رپورٹ ہوگیا۔
ترجمان نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال کا پولیو کا تیسرا کیس لاڑکانہ سے رپورٹ ہوا ہے جب کہ رواں سال سندھ سے یہ دوسرا پولیو کیس ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں پولیو کے 74 کیسز سامنے آئے تھے جن میں سے بلوچستان سے 27، خیبرپختونخوا سے 22 اور سندھ سے 23 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے۔
اس کے علاوہ پنجاب اور اسلام آباد سے گزشتہ سال پولیو کا ایک ایک کیس رپورٹ ہوا تھا۔
https://urdu.geo.tv/latest/396666-
===================================

کراچی، 20 فروری 2025: حکومتِ سندھ اپنے شراکت داروں کے تعاون سے ایک خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر رہی ہے، جس کا پہلا مرحلہ کراچی کے 27 ہائی رسک یونین کونسلز میں 22 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ اس مہم کا مقصد بچوں کی قوتِ مدافعت میں اضافہ کرنا اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ پہلے مرحلے میں پانچ سال سے کم عمر 562,163 بچوں کو اورل پولیو ویکسین (OPV) دی جائے گی، جبکہ چار ماہ سے پانچ سال تک کی عمر کے 521,953 بچوں کو فریکشنل ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین (fIPV) جدید اور بے درد جیٹ انجیکٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے دی جائے گی۔
کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد شہر ہے، پولیو کے خلاف جنگ میں ایک اہم میدانِ عمل بنا ہوا ہے۔ شہر میں کثرتِ آبادی کی نقل و حرکت کے باعث پولیو وائرس ماحولیاتی نمونوں میں مسلسل پایا جاتا ہے۔ بار بار کی جانے والی ویکسینیشن مہمات کے باوجود، وائرس کی منتقلی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی قوتِ مدافعت کو مزید بڑھانے کے لیے خصوصی مہمات ناگزیر ہیں۔
F-IPV کے لیے جدید جیٹ انجیکٹر ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بناتا ہے کہ ویکسین سوئی کے بغیر اور مکمل طور پر بے درد طریقے سے دی جائے۔ OPV اور fIPV کا امتزاج قوت مدافعت کو مزید بڑھاتا ہے اور ان علاقوں میں اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے جہاں وائرس کے گردش کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ f-IPV کی ایک مہم حال ہی میں اگست ۲۰۲۴ میں کراچی میں کیا ج چکا ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) سندھ کے صوبائی کوآرڈینیٹر، ارشاد علی سوڈھر نے مہم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:
“کراچی ان شہروں میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس کا پھیلاؤ ایک مستقل چیلنج ہے، اور ماحولیاتی نمونوں میں اس کی مسلسل موجودگی اس خطرے کو مزید واضح کرتی ہے۔ یہ مہم بچوں کی قوتِ مدافعت بڑھانے اور انہیں پولیو کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ ہم تمام والدین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ویکسینیٹرز سے تعاون کریں اور اپنے بچوں کو OPV اور fIPV کے قطرے ضرور پلوائیں۔ ہر ویکسینیشن ہمیں پولیو فری مستقبل کے قریب لے جاتی ہے۔”
حکومتِ سندھ پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس قومی مقصد کے حصول کے لیے والدین اور نگہبانوں سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتی ہے۔ تمام بچوں کو اس زندگی بچانے والی ویکسین سے مستفید کروانا ہر فرد کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے تاکہ عوام کو درست معلومات فراہم کی جائیں، شعور اجاگر کیا جائے، اور زیادہ سے زیادہ والدین کو اس مہم میں شمولیت کی ترغیب دی جائے۔ ہم صحافیوں، میڈیا ہاؤسز، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی لیڈرز سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس پیغام کو بڑھائیں— پولیو کا خاتمہ قومی فریضہ ہے، اور ہر بچہ جو ویکسین لیتا ہے، پاکستان کو پولیو فری بنانے میں مدد دیتا ہے۔
نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد پولیو مہم کے دوران ڈیوٹی دینے والا پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔
فائرنگ کا واقعہ تحصیل ماموند کے علاقہ ڈمہ ڈولہ سیرئی میں پیش آیا۔جہاں پولیو ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار مسمی معمور کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کےقتل کردیا۔
فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے، جلد ملزمان کو گرفتار کریں گے۔
=====================

غزہ میں 22 فروری سے انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز، ڈبلیو ایچ او
غزہ میں 22 فروری سے انسداد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر پولیو ویکسینیشن مہم 22 فروری سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے جس میں 10 سال سے کم عمر کے 591,000 بچوں کو اس بیماری کے خلاف ویکسین پلائی جائے گی۔
پانچ روز تک جاری رہنے والی اس مہم میں ‘ڈبلیو ایچ او’ اور اس کے شراکت داروں کی ٹیمیں غزہ بھر میں بچوں کو ویکسین دیں گی۔
یہ اقدام گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ کے دوران شروع ہونے والی مہم کا تسلسل ہے جس میں غزہ کے 90 فیصد بچوں کو ویکسین پلائی گئی تھی۔ اس مہم کے دوران اسرائیل کی جانب سے مختصر وقفوں کے لیے حملے روکے گئے تھے۔ تاہم شمالی غزہ کا محاصرہ ہونے کے باعث بہت سے بچے ویکسین سے محروم رہے۔
گزشتہ سال اگست کے آخری ایام میں غزہ کے سیوریج میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی اور ایک بچہ اس بیماری سے معذور ہو گیا تھا۔
اس سے قبل 25 برس تک علاقے میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
پولیو کے لیے سازگار حالات
‘ڈبلیو ایچ او’ نے کہا ہے کہ جس علاقے میں بچوں کی جسمانی قوت مدافعت کمزور ہو وہاں پولیو پھیلنے اور اس سے معذوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں نکاسی آب کا نظام تباہ ہو جانے کے باعث گنجان آباد پناہ گاہوں میں پولیو وائرس کو پھیلنے کے لیے سازگار حالات میسر آئے ہیں۔
جنگ بندی کے بعد غزہ کے شمالاً جنوباً بڑی تعداد میں لوگوں کی اپنے علاقوں میں واپسی سے بھی پولیو کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
غزہ میں پولیو مہم کی قیادت فلسطین کی وزارت صحت کرے گی جسے ڈبلیو ایچ او، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) اور دیگر شراکت داروں کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔
‘ڈبلیو ایچ او’ نے واضح کیا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ ہے اور مخصوص عمر کے بچوں کو کئی مرتبہ دی جا سکتی ہے جس کے لیے تعداد کی کوئی حد نہیں۔ کوئی بچہ جتنی زیادہ مرتبہ یہ ویکسین لے گا اسے پولیو کے خلاف اتنا ہی زیادہ تحفظ حاصل ہو گا۔ اقوام متحدہ رواں سال اپریل میں فلسطینی بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کی ایک اور مہم بھی چلائے گا۔
================================























