
وویمن یونیورسٹی کو ملک کی اچھی یونیورسٹیز کے برابر لانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم ہر ڈومین میں معیار کو بڑھانے اور طالبات کے اندراج کو دوبارہ بارہ ہزار تک پہنچانے کیلئے مضبوط اقدامات پر عمل درآمد کر رہے ہیں. ہمارا وژن ایک جدید علم پر مبنی ایک جامع، تحقیقی اور محفوظ ادارہ بنانا ہے تاکہ دیگر صوبوں کی طالبات بھی وویمن یونیورسٹی کی جانب راغب ہو سکیں۔ وائس چانسلر اور انکی پوری ٹیم وویمن یونیورسٹی کی سالمیت کو ہر قسم کی سیاست اور ذاتی ایجنڈوں سے بالاتر رکھتےہوئے محفوظ رکھیں

کوئٹہ 20 فروری: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ وویمن یونیورسٹی کو ملک کی اچھی یونیورسٹیز کے برابر لانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم تمام ڈومینز میں معیار کو بڑھانے اور طالبات کے اندراج کو دوبارہ بارہ ہزار تک پہنچانے کیلئے مضبوط اقدامات پر عمل درآمد کر رہے ہیں. ہمارا وژن ایک جدید علم پر مبنی ایک جامع، تحقیقی اور محفوظ ادارہ بنانا ہے تاکہ دیگر صوبوں کی طالبات بھی وویمن یونیورسٹی کی جانب راغب ہو سکیں۔ وویمن یونیورسٹی کو ایک عالمی معیار کا ادارہ تیار کرنے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ان کی پوری ٹیم پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ وویمن یونیورسٹی کی سالمیت کو ہر قسم کی سیاست اور ذاتی ایجنڈوں سے بالاتر رکھتے ہوئے محفوظ رکھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز گورنر ہاوس 
کوئٹہ سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے گیارہویں اکیڈمک کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان ہاشم خان غلزئی، تعلیمی ماہرین ، والدین اور گریجویٹس کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی. گیارہویں اکیڈمک کانووکیشن میں فارغ التحصیل ہونے والی 472 طالبات میں پی ایچ ڈی، ایم فل اور گریجویش کے سرٹیفیکیٹ جبکہ 34 نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو گولڈ میڈلز پہنائے گئے. سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے گیارہویں اکیڈمک کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے تمام فارغ التحصیل طالبات کو مبارکباد دی۔ آج کے بعد آپ اپنے تعلیمی سفر کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں جس آپ کو ان اقدار اور اصولوں کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا. تعلیم کا اصل جوہر صرف علم کے حصول میں ہی نہیں بلکہ کردار اور حکمت کی نشوونما میں بھی ہے. گورنر بلوچستان نے کہا کہ تمام فیکلٹی ممبران ٹیچنگ اسٹاف کی انتھک کوششوں اور غیر متزلزل عزم نے ہمارے گریجویٹس کے
ذہنوں اور کرداروں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فضیلت کے حصول کیلئے آپ کی لگن واقعی متاثر کن ہے اور میں اس ادارے کیلئے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں. گورنر مندوخیل نے فارغ التحصیل ہونے والی گریجویٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ایسے ادارے کی قابل فخر علامت ہیں جس نے بلوچستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔ ویمن یونیورسٹی نے ثابت کیا ہے کہ تعلیم میں سرمایہ کاری تعمیر و ترقی کی کنجی ہے۔ اپنے علم اور ہنر کی طاقت کو معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے لیے استعمال کریں۔ گورنر بلوچستان نے اپنے خطاب کا اختتام عظیم شاعر مولانا جلال الدین رومی کے اس قول پر کیا کہ “امید ابدی اور ایمان لامتناہی ہے۔” آخر میں وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے گورنر بلوچستان کو سوینئر پیش کیا.
=======================
بلوچستان میں درسی کتب کی مفت تقسیم کا 91 فیصد ہدف مکمل، ایک ارب روپے سے زائد کی بچت ہوئی، ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند
کوئٹہ، 20 فروری
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں تعلیمی سال 2025 کے لیے درسی کتب کی مفت تقسیم کا 91 فیصد ہدف کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 9,309,000 درسی کتب میں سے 8,459,687 کتابیں مختلف اضلاع میں تقسیم کر دی گئی ہیں، جبکہ 849,313 کتابوں کی ترسیل ابھی باقی ہے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کوئی بھی طالب علم کتابوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعلیمی نقصان کا شکار نہ ہو۔ ان ہدایات کی روشنی میں محکمہ تعلیم اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے درسی کتب کی بروقت اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا ہے ترجمان بلوچستان حکومت نے درسی کتب کی تقسیم کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ میں 1,289,232، پشین میں 554,462، خضدار میں 440,837، کیچ میں 596,205، لسبیلہ میں 266,383، نصیرآباد میں 395,872، پنجگور میں 212,992، جعفر آباد میں 175,404، اوستا محمد میں 216,697، صحبت پور میں 270,126، قلعہ سیف اللہ میں 238,644، حب میں 380,090، گوادر میں 196,051، زیارت میں 315,605، مستونگ میں 199,137، بارکھان میں 267,309، قلات میں 181,013، چاغی میں 108,979، خاران میں 167,237، کچھی میں 207,639، سوراب میں 109,842، آواران میں 160,541، نوشکی میں 170,668، لورالائی میں 244,289، جھل مگسی میں 188,481، قلعہ عبداللہ میں 258,509، شیرانی میں 43,069، کوہلو میں 134,067، موسی خیل میں 87,989 جبکہ سبی میں 178,707 کتابیں فراہم کی جا چکی ہیں سبی میں 99,324 کتابیں جبکہ ڈیرہ بگٹی میں 57,227 کتابیں ابھی تقسیم ہونا باقی ہیں، جس کے باعث ان اضلاع میں بالترتیب 64 فیصد اور 62 فیصد ہدف مکمل ہو سکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ان اضلاع میں کتابوں کی تقسیم کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ تمام طلبہ کو بروقت تعلیمی مواد فراہم کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ آئندہ دس سے پندرہ روز میں بقیہ کتب کی ترسیل کا عمل مکمل کرلیا جائے گا اور اس طرح یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ اسکول کھلنے سے قبل تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں نصابی کتب پہنچیں گی ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے یہ بھی بتایا کہ رواں سال بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے اپنے مالیاتی نظم و ضبط کے باعث براہ راست 75 کروڑ روپے جبکہ بلواسطہ طور پر ایک ارب روپے سے زائد کی بچت کی ہے۔ حکومت بلوچستان کی یہ پالیسی نہ صرف مالی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاس ہے بلکہ تعلیمی ترقی کے لیے حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا ثبوت بھی ہے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ درسی کتب کی مفت تقسیم بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے کی تعلیمی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور باقی ماندہ کتابوں کی تقسیم جلد مکمل کر لی جائے گی تاکہ کوئی بھی بچہ درسی کتب سے محروم نہ رہے
=======================
خبرنامہ نمبر1269/2025
کوئٹہ 20فروری ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں ڈیجیٹل لینڈ سیٹلمنٹ کی منظوری دی گئی جس کے تحت زمین کے تمام ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور آسان رسائی کو یقینی بنایا جا سکےکابینہ نے کچھی کینال سے حاصل ہونے والی زرعی پیداوار پرزمینداروں کو صوبائی ٹیکس میں ریلیف دینے پر اتفاق کیا تاکہ کسانوں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور زرعی شعبے میں بہتری آئے ،کابینہ نے بلوچستان واٹر ریسورسز مینجمنٹ بل منظور کر لیا جس کے تحت آبی وسائل کے درست اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اس کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے لیے موثر قانون نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اجلاس میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے لیے نئی پالیسی کی منظوری دے دی گئی جو ماہی گیری کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی ، اجلاس میں بلوچستان ڈسپوزل آف موٹر وہیکلز رولز 2025 کی بھی منظوری دی گئی جس سے گاڑیوں کی خرید و فروخت اور رجسٹریشن کے معاملات کو مزید شفاف بنایا جا سکے گا کابینہ نے سیلاب سے متاثرہ کیڈٹ کالج جعفر آباد کی بحالی کے لیے اضافی گرانٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ تعلیمی ترقی کے لیے دستیاب انفراسٹرکچر کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں اجلاس میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی لیبارٹری کے قیام کی منظوری دی گئی کابینہ نے تحصیل ڈیرہ بگٹی کو اے ایریا قرار دینے کی منظوری بھی دی ,محکمہ خوراک کی جانب سے خریدی گئی گندم کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کے لیے کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو اس عمل کو شفافیت کے ساتھ مکمل کرے گی اور مارکیٹ کا جائزہ لیکر قیمت فروخت کا تعین کرے گی، کابینہ نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دی ،جعفر آباد میں دو نئے پولیس اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو بہتر سیکورٹی فراہم کی جا سکے کابینہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی عدالت خضدار کے جج کی تقرری کی منظوری دی گئی، صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے لیے 65 ملین روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے کابینہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے عوام نے صوبائی حکومت سے جو توقعات وابستہ کررکھی ہیں اس پر پورا اترنے کے لئے تمام کابینہ اراکین کو پوری تندہی سے کام کرنا ہوگا کابینہ اراکین اپنے محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور مزید بہتری کے لیے اقدامات اٹھائیں انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں پوری نیک نیتی سے کام کرنا ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1270/2025
کوئٹہ 20فروری ۔صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھتیران سے آج مختلف وفود نے ملاقات کی، جن میں شہریوں، تاجر برادری، اور سماجی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وفود نے اپنے علاقہ کے بنیادی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے تمام مسائل کو غور سے سنا اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور عوام کی دہلیز پر سہولتیں پہنچانے کے عزم پر کاربند ہےاس موقع پر وفود نے حکومت کے اقدامات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ان کے مسائل جلد از جلد حل ہوں گے۔ صوباءوزیر نے کہا کہ حکومت ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے اور عوامی مشکلات کے حل کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے گی صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے مزید کہا کہ صوقبءقابینہ کے اج ہونے والے اجلاس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 65 ملین روپے کے فنڈز مختص کر دیے گئےہیں پ جو کہ صوبے کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ یہ فنڈز صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے شہریوں کو صحت مند اور معیاری سہولتیں میسر آئیں گی،جبکہ صوبے میں انفراسٹرکچر مزید مستحکم ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1271/2025
کوئٹہ20 فروری ۔ صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات میر سلیم خان کھوسہ اور سیکریٹری مواصلات لعل جان جعفر کی کاوشوں سے محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ایک اور مستحسن اقدام۔ عرصہ دراز سے پروموشن کے منتظر کوئٹہ زون مینٹیننس ڈویژن ||| اور گیس ڈویژن میں درجہ چہارم کے مختلف کیٹیگریز کے ملازمین کی ترقی کیلئے پروموشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی II کا اجلاس 19 فروری کو چیف انجینئر بلڈنگز کوئٹہ غلام محمد زہری کے زیرصدارت منعقد ہوا۔ بورڈ میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی، فنانس، اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ممبران نے شرکت کی۔ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی میں 36 کے قریب ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی کی سفارش کی گئی ہے۔ حالیہ پروموشنز سے محکمے کے ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ درجہ چہارم کے ملازمین ایسوسی ایشنز اور رہنماو¿ں نے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات اور سیکریٹری مواصلات لعل جان جعفر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1272/2025
کوئٹہ20 فروری۔سیکریٹری محکمہ ذراعت نور احمد پرکانی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں زرعی شعبے میں تحقیق کے فروغ، زرعی زمینوں پر پانی کے مناسب طریقے سے استعمال سمیت بہترین بیجوں کے انتخاب سمیت دیگر شعبہ جات کو مزید بہتری کی جانب لے جانے کیلیے پر عزم ہیں۔ محکمہ ذراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ذراعت کے شعبے میں تحقیق کے فروغ کیلئے مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف آن فارم واٹر منیجمنٹ محکمہ ذراعت بلوچستان کے عمارت میں نئے ہال کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آف واٹر مینجمیٹ ذراعت سید قسیم آغا، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیعی مسعود بلوچ، ڈائریکٹر آف آن فارم واٹر منیجمنٹ مہر اللہ خان لونی و پروجیکٹ ڈائریکٹر واٹر منیجمنٹ “ایشین ڈویلپمنٹ بینک بلوچستان” عبدالولی ترین، ڈائریکٹر فلوری کلچر ندیم ارشاد، ڈائریکٹر اڈاپٹیو ریسرچ شوکت علی بلوچ، ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن سید حبیب اللہ شاہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری ذراعت نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی تعاون سے جدید ڈیزائن سے بنائے گئے کانفرنس ہال کی تعریف کی انہوں نے آن فارم واٹر مینجمنٹ ذراعت بلوچستان کی کارگردگی کو سراہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1273/2025
ژوب 20فروری ۔ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں گزشتہ روز صوبائی ایڈیشنل سیکرٹری سکول اینڈ کالجز جہانگیر خان مندوخیل کی قیادت میں CMIT ٹیم اور اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید عالم نے ضلع ژوب شہرمیں مختلف اسکولوں اور بی آر سی کالج ژوب کے میٹرک امتحانی مرکزکا دورہ کیا۔اور وہاں پر امتحانی سینٹر امیں انتظامات کا جائزہ لیا اس موقع پر انہوں نے.بات چیت کرتے ہو? کہاکہ صوبائی حکومت معیار تعلیم کے فروغ کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کردیا ہے اس حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں صوبہ حکومت کے تمام اعلی آفیسران بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے دورے پر ہیں تاکہ محکمہ تعلیم کو نقل سے چھٹکارا دلایاجاسکے واضح رہے کہ محکمہ تعلیم کا اعلی معیار برقرار رکھنے کے لیے سخت قوانین نافذ ہیں جس کی بدولت یہاں طلباءکو پورےسال مکمل نصاب پڑھایا جاتاہے اور امتحانی عمل میں نقل کی کوہی گنجائش نہیں رہتی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے امتحانی سنٹرز میں میڈیا سول سو سائٹی کو بھی نگرانی کاحق دیا گیاہے جس سے تعلیمی نظام کی ساکھ مزید مستحکم ہوتی ہے نقل کے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے ان انتھک محنت اور جدید تدریسی طریقہ کار کی بدولت نہ صرف بلوچستان بلکہ پوراملک میں نمایا کار کردگی ہوگی ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان بورڈ اور ضلعی انتظامیہ کی کوششوں سے نقل جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نقل کا خاتمہ ناگزیر ہوچکا ہے، لہٰذا طلبہ وطالبات کو چاہیے کہ وہ اس برائی سے دور رہیں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر میٹرک کے سالانہ امتحانات میں شاندار کامیابی حاصل کریں، تاکہ وہ اپنے ملک اور والدین کا نام روشن کر سکیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرانمہ نمبر1274/2025
پنجگور 20 فروری ۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس زیر صدارت ڈپٹی کمشنر زاہد احمد لانگو منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد جان بلوچ ڈی او ای فیمیل بی بی کلثوم رشید ڈپٹی ڈی ای او فیمیل پنجگور بی بی سعدیہ اسلام ڈپٹی ڈی ای او فیمیل تحصیل گوارگو بی بی روبینہ ابراھیم آر ٹی ایس ایم پنجگور کے آفیسر ہیتم یوسف بلوچ نے شرکت کی ایجوکیشن گروپ کے اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پنجگور محمد جان بلوچ نے نئے تعلیمی سال کے سلسلے میں محکمہ ایجوکیشن کی طرف سے کیئے گئے اقدامات اور تیاریوں پر ڈپٹی کمشنر کو بریفننگ دیا اور کہا کہ سکولوں کو کتابوں کی فراہمی کا عمل مکمل کیاگیا ہے اور یکم مارچ سے باقاعدہ داخلہ مہم چلایا جائے گا تاکہ تعلیم کے ثمرات گھر گھر تک پہنچ سکیں اور کوئی بھی بچہ سکول سے باہر نہ رہے اس موقعے پر ڈپٹی کمشنر پنجگور نے کہا کہ نئے تعلیمی سال جو یکم مارچ سے شروع ہونے جارہا ہے تدریسی اسٹاف کی حاضریوں پر کوئی کمپورومائز نہیں ہوگا جو ٹیچر جدھر اور جس سکول میں تعینات ہے اسے اپنے جائے تعیناتی پر حاضر رہنا ہوگا انہوں نے کہا کہ ماضی کی روش جس سے ایجوکیشن کو کافی نقصان پہنچا اب اس روش کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے تاکہ حکومتی اقدامات سے تمام افراد کو یکساں تعلیمی مواقعے میسر آسکیں انہوں نے کہا کہ یہ بڑا ظلم اور ناانصافی کی بات ہے جب ایک ٹیچر جسے محض بچوں کی تعلیم کی غرض سے تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہے وہ خود تو اپنے بچوں کی تعلیم پر فکر مند ہے مگر جنکے بچوں کو پڑھانے کے لیے انہیں یہ سب مراعات حاصل ہیں انکو نظرانداز کرتا ہے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایجوکیشن سے ملک قوم اور معاشرے کی ترقی ممکن ہے اور ہمیں بحیثیت زمہ دار اس بات کا احساس کرنا ہے کہ جو زمہ داری ہمیں تفویض کی گئی اس پر ہمیں کس طرح عہد بر رہنا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ ایجوکیشن کے اقدامات یقیننا قابل تعریف ہیں خاص کر سکولوں کے کھلنے سے پہلے کتابوں کی ترسیل کا عمل مکمل ہونا ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیشہ کتابوں کی ترسیل میں رکاوٹیں درپیش رہیں انہوں نے داخلہ مہم کو بھی کامیاب بنانے پر زور دیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان بورڈ لینے کا کہا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1275/2025
مستونگ20 فروری۔ڈی ایچ کیو ہسپتال مستونگ میں نئے مانع حمل طریقوں پر کامیاب سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفس کے زیر اہتمام ڈی ایچ کیو ہسپتال مستونگ میں نئے مانع حمل طریقوں پر ایک کامیاب سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت ڈاکٹر عنبرین مینگل نے کی، جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف پاپولیشن ویلفیئر کے افسران، ڈی ایچ او ڈاکٹر انور گولہ، ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی ڈاکٹر ریاض مینگل، میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال مستونگ ڈاکٹر نثار بلوچ، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر ناصر خان اور دیگر متعلقہ افراد اور ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ سیمینار میں جدید اور محفوظ مانع حمل طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں ماہرین نے فیملی پلاننگ اور تولیدی صحت کی بہتری کے لیے اہم معلومات فراہم کیں۔ شرکاءکے ساتھ ایک تعمیری بحث بھی کی گئی تاکہ جدید مانع حمل تکنیکوں کے بارے میں آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔آخر میں مہمانانِ خصوصی نے شرکاء اور ڈاکٹرز میں اسناد تقسیم کیے اور سب کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1276/2025
تربت 20 فروری ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ اسماعیل ابراہیم کی صدارت میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی، پی پی ایچ آئی کے ضلع کیچ کے ڈی ایس ایم ڈاکٹر منیر بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ضلع کیچ ڈاکٹر عزیز بلوچ ، ڈپٹی چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ باہڈ جمیل دشتی سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کو متعلقہ محکموں کے آفیسرز نے فرداً فرداً تفصیلی بریفنگ دی ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت ڈاکٹر عبدالوحید بلیدی نے بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیچنگ ہسپتال تربت کے میڈیکل آفیسران کی ایک بڑی تعداد خلاف ضابطہ ڈیپوٹیشن پر ہیں لہذا انکے کے بارے میں تحقیقات کیا جائے اور ان کے ڈیپوٹیشن کو کینسل کرکے دوبارہ متعلقہ جگہ پر تعینات کیا جائے تاکہ ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کیا جاسکے علاوہ ازیں انہوں نے ہسپتال کے صفائی ستھرائی اور دیگر مسائل سمیت موجودہ پی ایس ڈی پی میں ہسپتال کے بجٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی ایم ایس ڈاکٹر عبد الوحید بلیدی نے کہا کہ ہم جلد ہسپتال میں شکایتی سیل قائم کریں گے تاکہ ہسپتال کے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنے میں مدد مل سکے۔ جبکہ ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر عزیز بلوچ اور پی پی ایچ کے ڈسٹرکٹ سپورٹ مینیجر ڈاکٹر منیر بلوچ نے ضلع کیچ کے دور دراز علاقوں میں محکمہ صحت اور پی پی ایچ آئی کے اشتراک سے چلنے والے صحت کے شعبے سے وابستہ مختلف پروگراموں کے بارے میں ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اور پاپولیشن ویلفیئر کے نمائندے نے اپنے محکمہ کے نئی بلڈنگ کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی ڈپٹی کمشنر کیچ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے شعبے میں نگرانی کے عمل کو سخت کریں اور اسٹاف کی حاضری کو یقینی بنائیں۔ اس دوران انہوں نے ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال تربت پر زور دیا کہ ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہونے والے ڈاکٹروں کی لسٹ مرتب کرکے انکو ارسال کی جائے تاکہ واپس ڈیوٹی جوائن نہ کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہوں کی بندش کے لیے محکمہ خزانہ کو آگاہ کیا جاسکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1277/2025
تربت 20 فروری ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ اسماعیل اِبراھیم کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا منعقد ہوا ۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کیچ صابر دانش ڈی ڈی ای او تربت منظورِ بلوچ ، ڈی ڈی ای او تمپ شاری بلوچ، پرنسپل عطاء شاد ڈگری کالج تربت امان اللّٰہ بلوچ پرنسپل گرلز ڈگری کالج تربت گل جان خالد , ڈپٹی چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل باہڈ جمیل، چیئرمین برائے ایجوکیشن کمیٹی ڈسٹرکٹ کونسل کیچ ظریف ذدگ ،یونیسیف کے نمائندے فیض الرحمن، آر ٹی ایس ایم کے آفیسر علیم بلوچ, سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے اجلاس میں شامل ایجوکیشن کمیٹی کے مختلف شعبہ جات کے افسران نے ڈی سی کیچ کو ادارے کی کارکردگیوں کے بارے میں بریفننگ دی اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام سے کلسٹر بجٹ کے استعمال کے حوالے سے استفسار کیا اور انہیں کلسٹر بجٹ کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے کلسٹر بجٹ کو صحیح طریقے سے استعمال کریں گے تو ہمارے اسکولوں کے بہت سے بنیادی مسائل حل ہو جائیں کے ڈپٹی کمشنر کیچ نے کمیٹی ارکان کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ٹیچرز اسکولوں میں غیر حاضر ہیں ان کے خلاف کاروائی کیا جائے اور اٹیچ ٹیچروں کو انکے جائے تعیناتی پر واپس بھیج دیے جاہیں۔انہوں نے کہا اسکولوں کے جو بھی مسائل ہیں ان کو درست طریقہ سے حل کیے جائیں، یونیسیف کے فیض الرحمن نے ایجوکیشن کے مختلف مسائل کے حوالے سے گفتگو کی انہوں نے کہا کہ ہم مختلف اسکول میں ویکیشنل سنٹر قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ بچے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھ سکے۔ڈپٹی کمشنر کیچ نے اسکولوں کا دورہ نہ کرنے اور رپورٹ جمع نہ کرنے پر آر ٹی ایس ایم کے نمائندوں شوکاز نوٹس بھی جاری کیے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1278/2025
چمن20 فروری ۔ بلوچستان بھر کی طرح چمن میں آج سے پولیو مہم اورایف آئی پی وی مہم کا آغاز ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے چمن میں شروع ہونے والا پولیو مہم اور حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام میں شامل 12 موذی امراض کی ویکسینیشن کا باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر ڈی ایچ او ڈاکٹر عصمتاچکزئی ایم ایس رشید ناصر پولیو آفیسرز ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر چمن ڈاکٹر اسد صافی، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید اچکز?ی ڈسٹرکٹ کمونیکیشن آفیسر اشرف خان سابق ایم ایس ڈاکٹر اختر ودیگر افسران بھیموجود تھے ڈی سی چمن نے کہا کہاس مہم کے دوران بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطروں کے ساتھ ساتھ خصوصی حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جائیں گے اور موجودہ جاری ایف آئی پی وی مہم اج سے 28 فروری تک جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے موثر انتظامات کئے گئے ہیں اور مہم کے دوران لیویز و پولیس فورس تمام لیویز و پولیس ناکوں چوکیوں اور گشت پر تمام مشتبہ افراد کی جامع تلاشی اور تفتیش کا سلسلہ جاری رکھیں گے ڈی سی چمن نے کہا کہ تمام والدین اپنے 4 سے 59 ماہ تک کے بچوں کو ایف آئی پی وی ٹیکہ جات لازمی لگوائیں ڈی سی چمن نے تمام ٹیموں کے افسران و اہلکاروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے دوران غفلت و لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1279/2025
چمن 20فروری ۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی کی زیر صدارت ڈی سی کمپلیکس اسمبلی ہال میں عوامی مسائل مشکلات اور شکایات کے ازالے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا کھلی کچہری میںایف سی ونگ کمانڈر کرنل عرفان ماگرے اے ڈی سی چمن فدا بلوچ اے سی امتیاز علی بلوچ، ایس ڈی او پی ایچ آئی عبدالقدوس بڑیچ، ایم ایس ڈاکٹر رشید ناصر، نادرا انچارج ہارون خان پانیزئی، سوشل ویلفئیر آفسر بصیرخان محکمہ حیوانات ڈاکٹر رحمت اللہ اچکزئی، واپڈا نمائندہ امان اللہ خان،پولیس ڈی ایس پی مقصود احمد،اور دیگر ضلعی افسران اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس دوران لوگوں نے انکو درپیش مسائل اور مشکلات ڈپٹی کمشنر چمن اور تمام محکموں کے افسران کو پیش کیے اور ضلع میں جاری بےروزگاری بجلی نادرا پاسپورٹ اور دیگر حوالوں کے حوالےسے انکو درپیش مسائل کھل کر بیان کیے اس موقع پر ڈی سی چمن نے عوام کی طرف سے کیے گئے سوالات کی جوابات تفصیل سے دئیے اور ضلع چمن کی آل لائن ڈیپارٹمنٹس سے ریلیٹڈ مسائل اور مشکلات کو نمٹانے کی ہدایات کو موقع پر ہی جاری کر دیئے ڈی سی چمن نے کہا کہ میرے اور ضلعی انتظامیہ کی دائرہ اختیار اور دسترس میں شامل عوامی مسائل اور مشکلات کا ازالہ میں کروں گا اور جو مسائل اور مشکلات صوبائی حکومت سے تعلق رکھتے ہوں انککو حکام بالا تک میں ضرور پہنچاوں گا ڈی سی چمن نے عوام کو یقین دلایا کہ جہاں تک ضلعی انتظامیہ اور مجھ سے ہو سکیں میں ان تمام مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا اور انکے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات اٹھاوں گا جس پر عوام نے ڈی سی چمن ضلعی انتظامیہ اور آل لائن ڈیپارٹمنٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہمارے داد رسی اور مسائل اور مشکلات کی حل کھلی کچہری میں کیے گئے وعدوں کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر1280/2025
گوادر20فروری ۔ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی مسائل، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی اسامیوں اور جاری تعلیمی منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل سبین بلوچ، بوائز ڈگری کالج کے پرنسپل اسیر احمد بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر میر جان بلوچ، ایکسین بی اینڈ آر
(بلڈنگ) احتشام بلوچ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) بلقیس سلیمان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی اداروں کی صورتحال، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی کمی، اور نامکمل ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ایکسین بی اینڈ آر کو ہدایت کی کہ زیر تکمیل تعلیمی منصوبے مارچ تک مکمل کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے متعلقہ افسران سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر حاضر اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی اور ان کی ملازمت سے برطرفی کے حوالے سے بھی سخت فیصلے کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں جیونی کالج کے طلبہ کو درپیش سفری مسائل پر بھی بات چیت کی گئی اور اس کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن نے اجلاس میں بتایا کہ وہ اپنی ذاتی فنڈنگ سے ضلع کے 16 گرلز اسکولوں کو سولرائزڈ کر رہے ہیں، جن میں سے سات اسکولوں کا کام جرمنی کے تعاون سے مکمل ہو چکا ہے جبکہ بقیہ نو اسکولوں کا سولرائزیشن بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔اجلاس میں آر ٹی ایس ایم اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی اپنی رپورٹس پیش کیں، جبکہ اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی تاکہ تدریسی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن نے اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیمی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے، اور اسکولوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿























