3 برس بعد پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی مستقل وائس چانسلر مقرر

پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر مقرر
سید محمد عسکری
پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر مقرر
شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری میں 3 برس بعد پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی کو مستقل وائس چانسلر مقرر کردیا ہے، ان کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تقری آئندہ چار برس کے لیے کی گئی ہے اور وہ جمعرات کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی اس وقت ایک نجی جامعہ کے وائس چانسلر ہیں۔

یاد رہے کہ ان کی تقرری کی سفارش تلاش کمیٹی کی جانب سے کی گئی تھی تلاش کمیٹی کی جانب سے جن تین ناموں کی سفارش کی گئی تھی ان میں ڈاکٹر حسین مہدی کے علاوہ ڈاکٹر منیر احمد شاہ اور طارق رحیم سومرو شامل تھے۔

واضح رہے کہ لیاری یونیورسٹی میں گزشتہ 3 برس سے قائم مقام وائس چانسلر کی زیر قیادت کام کررہی تھی اور جناح سندھ میڈیکل کالج کے وائس چانسلر ڈاکٹر امجد سراج میمن کے پاس لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا عارضی چارج تھا۔

16 فروری 2022 کو اس یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر اختر بلوچ کو جبری رخصت پر بھیجا گیا تھا۔
=========================

PAC سندھ کا تمام تعلیمی بورڈز کے خصوصی آڈٹ کا حکم، کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبےکے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سندھ بھر کے تمام ساتوں تعلیمی بورڈز میں مالی بے ضابطگیوں‘مارکس کے طریقہ کار سمیت مالی اخراجات کا اسپیشل آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا ہے ۔ پی اے سی نے ڈی جی آڈٹ کو سال 2022 سے سال 2024ء تک تعلیمی بورڈز کا تین سال کا اسپیشل آڈٹ کرکے4ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے جبکہ پی اے سی نے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو تعلیمی بورڈز کے اسپیشل آڈٹ کے لئے ٹی او آرز بنا کر ڈی جی آڈٹ کو ایک ہفتے میں فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔اس موقع پر کمیٹی کے رکن خرم کریم سومرو نے کراچی انٹر بورڈ حکام سے استفسار کیا کہ فرسٹ ایئر کے نتائج میں ہیراپھیری پر انٹر بورڈ کراچی کے چیئرمین امیر قادری کو ہٹایا گیا تھا اس معاملے کی تحقیقات کہاں پہنچی؟ اور تعلیمی بورڈز کا مارکس دینے کا کیا نظام ہے اس متعلق آگاہ کریں اور نتائج میں ہیرا پھیری کی کیوں شکایات آ رہی ہیں جس پر کراچی کے انٹر و میٹرک بورڈ کے چیئرمین شرف علی شاہ نے عجیب جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر امیدواروں کو مارکس کم دیتے ہیں تو بھی ایشو اٹھ جاتا ہے اور اگر مارکس زیادہ دیتے ہیں تو بھی الزام لگ جاتا ہےحکمت عملی تبدیل کررہے ہیں اور نتائج میں ہیرا پھیری کے متعلق کمیٹی کی رپورٹ جلد منظر عام پر آجائے گی ۔