
لاہور: پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کی عظیم الشان مثال چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی دوراندیش قیادت میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ 2013 میں اپنی وزارت عظمیٰ کے تیسرے دور میں نواز شریف نے چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی بنیاد رکھی، جو نہ صرف پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو بھی ایک نئی جہت دی۔
سی پیک کا آغاز اور نواز شریف کا ویژن:
سی پیک چین کی تاریخی “بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” (بی آر آئی) کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں تجارتی راستوں کو فروغ دینا اور معاشی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ نواز شریف نے اس منصوبے کو پاکستان کے لیے “تبدیلی کا موڑ” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ سی پیک نہ صرف انفراسٹرکچر تعمیر کرے گا بلکہ توانائی، روزگار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی انقلاب لائے گا۔ 2015 میں 46 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط نے اس ویژن کو عملی شکل دی، جو بعد میں بڑھ کر 62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

کلیدی منصوبے اور معاشی اثرات:
نواز شریف کی حکومت نے سی پیک کے تحت گوادر پورٹ کو خصوصی توجہ دی، جسے “پاک چین تعاون کا دل” کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی سے لے کر لاہور تک موٹر وے کا نیٹ ورک، ایڈن جیسے توانائی کے منصوبے، اور کوئلے، ہائیڈرو اور شمسی توانائی کے پلانٹس شامل ہیں۔ ان منصوبوں نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئے۔
پاک چین تعلقات کی نئی سطح:
نواز شریف کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات معاشی تعاون سے آگے بڑھ کر سٹریٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہوئے۔ چینی سرمایہ کاری نے پاکستانی زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے میں مدد دی، جبکہ دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں نے علاقائی سلامتی کو بھی تقویت بخشی۔
تنقید اور چیلنجز:
اگرچہ سی پیک کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، لیکن کچھ حلقوں نے قرضوں کے بوجھ اور منصوبوں کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔ تاہم، نواز شریف نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ سی پیک پاکستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ترقی کا نیا دروازہ ہے۔
نواز شریف کی وراثت:
آج سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتوں اور خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر پر توجہ دی جا رہی ہے۔ نواز شریف کی بنیاد رکھی گئی شراکت داری نے پاک چین تعلقات کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے تحت ایشیا کی معاشی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔
اختتامیہ:
نواز شریف کی قیادت میں سی پیک نہ صرف پاکستان کی معاشی تاریخ کا اہم باب ہے بلکہ یہ پاک چین دوستی کی وہ کہانی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئی ہے۔ جیسا کہ نواز شریف نے 2015 میں ایک تقریب میں کہا تھا: “سی پیک صرف سڑکوں اور پل کا























