
نعیم اختر
==========
نقط نظر
کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اب موت کی وادی بن چکا ہے! یہاں کی سڑکوں پر بے قابو، بے رحم خونی ٹینکرز دندناتے پھرتے ہیں اور ہر روز ایک نئی لاش، ایک نیا سانحہ جنم لیتا ہے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی، حکومتِ سندھ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔روزانہ خونی ٹینکر، شہر کے باسیوں کو موت کی نیند سلا رہے ہیں عوام الناس کا کوئی ولی وارث نہیں نظر آتا،
گزشتہ روز جیل چورنگی پر ایک اور خون… ایک اور بے گناہ زندگی کا چراغ گل!
ایک تیز رفتار ٹینکر نے ایک اور معصوم شہری کو کچل دیا، اس بار عوام کا صبر بھی جواب دے گیا۔ احتجاج کی چنگاری بھڑک اٹھی اور مشتعل شہریوں نے پانچ ٹینکرز کو آگ کے حوالے کر دیا! مگر افسوس، وہ حکومت جو روزانہ ان جان لیوا حادثات پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، جیسے ہی ٹینکرز جلے، اچانک جاگ گئی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار نے فوری نوٹس لیا، رپورٹ طلب کر لی، مگر وہ بےحس حکومت جو درجنوں بے گناہ اموات پر ٹس سے مس نہیں ہوئی آج بھی کسی عملی اقدام سے قاصر ہے۔ آخر کیوں؟ کیا ایک ٹینکر کی قیمت ایک انسانی جان سے زیادہ ہے؟
یہ پہلا حادثہ نہیں!
2025 کے آغاز سے اب تک کراچی میں 100 سے زائد شہری ٹریفک حادثات میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ مگر افسوس، ان اموات پر کوئی ہنگامی اجلاس، کوئی سخت کارروائی، کوئی موثر قانون سازی نظر نہیں آتی۔ یوں لگتا ہے جیسے حکومت کی آنکھیں تب تک نہیں کھلتیں جب تک سڑکیں خون سے نہ رنگ جائیں یا عوام غم و غصے میں سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔
ستم بالائے ستم!
کراچی کے عوام ہر روز ان بے لگام ٹینکروں کے رحم و کرم پر ہیں، مگر بجائے اس کے کہ حکومت سندھ ٹینکر مافیا کے خلاف کارروائی کرے، وہ الٹا ان ہی شہریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہی ہے جو اپنے پیاروں کی اموات پر انصاف کے طلبگار ہیں! المیہ دیکھیے کہ ٹینکر مافیا کے نمائندوں کو سندھ اسمبلی میں مہمانوں کی گیلری میں عزت و احترام کے ساتھ بٹھایا گیا، اور یوں ان 100 سے زائد بے گناہ مرنے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑک دیا گیا۔
خطرناک صورتحال!
کراچی کے شہریوں میں بڑھتا ہوا غصہ ایک خطرناک صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آئے دن سڑکوں پر جان لیوا حادثات ہو رہے ہیں، مگر حکومت اور متعلقہ ادارے مسلسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عوام کا یہ احساسِ محرومی اور ناانصافی کے خلاف بڑھتا ہوا غم و غصہ کسی بھی وقت ایک بڑے عوامی ردِعمل میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ احتجاج کے دوران قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو رہے ہیں، جیسا کہ جیل چورنگی پر مشتعل مظاہرین کا ٹینکرز کو نذرِ آتش کرنا ایک واضح پیغام ہے کہ عوام اب مزید ظلم اور ناانصافی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بغاوت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جو نہ صرف امن و امان کی صورتحال کو بگاڑ دے گی بلکہ حکومتی رٹ کو بھی شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ سندھ ہوش کے ناخن لے، ٹینکر مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرے، اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، ورنہ عوام کا یہ غصہ ایک ایسے آتش فشاں میں تبدیل ہو سکتا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر تباہی مچا سکتا ہے۔























