پروفیسر عظمٰی مسعود کی خودنوشت ۔ کمال است

تحریر ۔۔ محمد فاروق عزمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر عظمٰی مسعود نے اپنی خودنوشت کا عنوان ” بس یہی داستان ہماری ہے ” رکھا ہے یہ سوانح عمری پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف عظمٰی مسعود کی داستانِ حیات نہیں کم و بیش بہت سوں کی یہی کہانی ہے ۔ اس کتاب کو ہاتھ میں لیں تو دو باتیں تو یقینی ہیں ۔ ایک یہ کہ پھر اسے مکمل پڑھے بنا الگ رکھنا دشوار ہی نہیں نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ اور ایک اچھی کتاب کی پہچان بھی یہی ہے کہ ورق موڑ کر کتاب کو سائیڈ ٹیبل پر رکھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ اور جب تک مکمل کتاب پڑھ نہ لیں، چین نہ آئے ۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ دوسری بات یہ کہ آپ جوں جوں کتاب کے ورق الٹتے جاتے ہیں الٹے پاؤں اپنے ماضی کی طرف سفر کو نکل جاتے ہیں۔ یادوں کے ایسے دریچے کھلتے جاتے ہیں کہ لگتا ہے آنکھوں کے سامنے گزرے زمانوں اور زندگی کے بیتے ماہ و سال کی فلم چل رہی ہے ۔ کم از کم میرے ساتھ تو ایسا ہی معاملہ ہوا کہ جب میں نے یہ پڑھا کہ عظمٰی مسعود کینٹ کے علاقے آر اے بازار میں رہتی رہی تھیں ۔ تو مجھے آر اے بازار کے وہ تمام گلی کوچے یاد آ گئے ۔ جن میں سکول زمانے کے چھے برسوں کی یادیں بکھری پڑی تھیں ۔
میں نے عابد مجید سی بی ہائی سکول آر اے بازار میں میڑک تک پڑھا تھا۔ جہاں ڈاک خانے کے سامنے اجمل بک ڈپو ہوتا تھا ۔ سکول گیٹ کے سامنے پوسٹ آفس کے ایک طرف صوفی ہوٹل تھا۔ جس کے نان کباب کا ذائقہ منہ میں گُھل گیا ۔ یہ ستر کی دہائی کا زمانہ تھا چار آٹھ آنے میں چپلی کباب اور نان ہم بچے تفریح کے وقت شوق سے کھاتے اور ہوٹل میں رکھے مٹکوں سے ٹھنڈا پانی پی کر پیاس بجھاتے ۔

عظمی صاحبہ کی ابتدائی زندگی کی طرح ہمارا بچپن ، لڑکپن بلکہ ساری زندگی ہی اُسی طرح جدو جہد سے عبارت اور حالات سے لڑتے گزری ہے ۔ جس طرح انہوں نے غربت اور تنگ دستی کا زمانہ دیکھا اسی طرح ہم نے بھی مشکل سے مشکل حالات میں زندگی کا سفر جاری رکھا ۔ وہ اگر ایک نمبر بس پکڑ کر لاہور کالج کے لیے سفر کرتی رہیں تو ہم بھی ایک نمبر بس میں آراے بازار سے سوار ہوتے، میاں میر کے سٹاپ پر اترتے ، سینٹ جان پارک سے پیدل گزر کر ریلوے لائن کراس کر کے 96 گلبرگ میں پاک جرمن ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر جا پہنچتے ۔ آر اے بازار سے اتنی یادیں وابسطہ ہیں کہ ” بس یہی داستان ہماری ہے ” کے مطالعے کے دوران لگا کہ یہ تو بس داستان ہماری ہی ہے ۔ انہوں نے آراے بازار میں اپنے جس گھر کا ذکر کیا جس کے کمروں کے نیچے دکانیں تھیں۔ ایک دکان میں دودھ کا کڑاہا تھا، درزی اور سبزی کی دکان تھی تو اب سوچوں تو ایسا یاد پڑتا ہے کہ ان کا یہ گھر شاید حکیم شفیق صاحب مرحوم کے مطب والی گلی میں رہا ہو گا ۔ جہاں سے ابا جی کے ساتھ جا کر میں اپنے بچپن کے زمانے میں حکیم صاحب سے دوائیں اور دعائیں لیتا تھا۔ حکیم شفیق بہت مہربان شخصیت کےحامل تھے ۔ بالکل اپنے نام کی طرح ۔

عظمٰی مسعود کا تعلق جموں کشمیر سے ہے ۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آنا پڑا، باپ کو کھونے کا دکھ ہجرت کے دکھوں میں شامل ہو گیا ۔ ہجرت سے پہلے خوشحالی تھی ۔ گرم شالوں کا کاروبار ان کے بزرگ ایک صدی سے کر رہے تھے۔ والد حافظِ قرآن ، خوش الحان اور والدہ اور بڑی بہن منشی فاضل تھیں انہیں اب تک اپنے بچپن کا وہ گھر یاد ہے جس کے بڑے سے صحن میں نیم کا درخت تھا ، صحن اینٹوں سے پختہ تھا، گورے چٹے خوبصورت ابا کے حقہ پینے کی دھندلی سی یادیں اب بھی ان رنگین پیڑھیوں کے ساتھ عظمٰی جی کے ذہن میں محفوظ ہیں جن پر بیٹھ کر اِن کی اماں کھانا بناتیں اور ابا حقہ گُڑگُڑاتے تھے ۔ کیا یہ سارے مناظر اور یادیں ہماری عمر کے ان لوگوں کی نہیں جو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں اپنا بچین یا لڑکپن گزار رہے تھے۔ تو پھر میرا یہ کہنا درست ہے کہ ” بس یہی داستاں ہماری ہے ” صرف عظمٰی مسعود کی داستان نہیں ہم سب کی کہانی ہے ۔ جسے پڑھتے ہوئے کبھی ہونٹوں پر مسکراہٹ، کبھی آنکھوں میں نمی ، کبھی دل میں گداز اور اداسی کی لہر اتر آتی ہے ۔

قابلِ ستائش جدوجہد کی اس مصنفہ نے جو چاہا زندگی میں حاصل ہو گیا ۔ اس میں رب تعالٰی کی نظرِ کرم کے ساتھ ساتھ ان کے عزم اور ارادوں کو بھی دخل ہے۔ وہ شوبز کی دنیا میں اپنے قدم جما چکی تھیں ، لیکن دل نہ جم سکا، ریڈیو کا براڈ کاسٹر ہونا انھیں زیادہ پسند نہ تھا، وہ تو درس و تدریس کے مقدس پیشہ کی طرف دیکھتی تھیں یہ دیکھنا رائیگاں نہیں گیا ، تقدیر نے ان کا ہاتھ تھاما اور وہ محکمہ تعلیم میں پروفیسر ہوگئیں انہیں تعلیم کا شعبہ پسند تھا، سمن آباد کالج میں انھیں سکون ، احترام ، عزت بلند مرتبہ توجہ محبت اور اپنی پسند کا ماحول میسر آیا ، 1971 میں مسعود صاحب ان کی زندگی میں بہار بن کر آئے اور یہ بہار اُن کے آنگن میں ٹھہر گئی، زندگی کی سبھی محرومیاں کہیں ماضی کا حصہ ہو گئیں، گزشتہ دنوں اس کتاب کی تقریبِ رونمائی میں انھیں دیکھا ، سنا اور ان کی جدوجہدِ زندگی کی سچائی کا یقین ہو گیا۔ یہ ڈوبتے ابھرتے جذبوں ، امیدوں کامیابیوں ، تلخ و شیریں یادوں ، ذاتی رشتوں کی ایسی دلچسپ اور خوبصورت داستان ہے جسے جرات مندی اور بےباکی سے رقم کرتے ہوئے کہیں زیبِ داستان کے لیے ” لفاظی ” سے کام نہیں لیا گیا ، جو نشیب و فراز زندگی میں آئے، جو مشاہدات و تجربات ہوئے انہیں بے دھڑک رقم کر دیا ہے ۔ یہی اس کہانی کی خوبصورتی ہے۔ سوانح لکھنا مشکل کام ہے جسے عظمٰی مسعود نے آسانی اور سہولت سے صرف اس لیے سر انجام دیا ہے کہ انہوں نے جو سچ تھا لکھ دیا اور بس ۔
تنگ دستی کے زمانے میں اپنی خودداری کا بھرم قائم رکھ کر کامیابیوں کی منزلیں طہ کرتی یہ داستانِ حیات ، محض عظمٰی صاحبہ کی ذاتی زندگی کا ” ورق ” نہیں بلکہ اس ہفت رنگ کہانی میں آپ کو بین الاقوامی حالات ، ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ، سیاسی رہنماؤں کے چہرے اور ان چہروں پر پڑے نقاب نوچتی بصیرت کے رنگ ، زندگی کے نشیب و فراز ، دکھ سکھ ، نزدیک و دور کی سیاحت اور ملکوں ملکوں کی سیر کا لطف بھی حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے ملکی سیاست پر گہری نظر بھی رکھی۔ اور پھر اپنا نقطہ نظر بغیر لگی لپٹی اور بِنا کسی خوف و تردد کے بیان کر دیا۔ اپنے لوگوں سے اپنے وطن اور اپنی دھرتی سے محبت جو ہر پاکستانی کو ہونی چاہیے وہ عظمٰی کی تحریر میں جابجا بکھری ، خوشبو دیتی نظر آتی ہے ۔

آپ ” بس یہی داستان بماری ہے ” کو اردو اصنافِ ادب کی کس صنف میں شمار کرتے ہیں۔؟ یہ فیصلہ کرنا قدرے دشوار ہے ۔ یہ ذاتی دکھوں، غموں ، جہدِ مسلسل، تنگ دستی سے آسودگی تک کا سفر بھی ہے ۔سچے اور مقدس رشتوں سے دائمی جدائی کا کرب ناک فسانہ بھی ۔ بہنیں جوان بھائیوں کی موت کا دکھ کیسے برداشت کرتی ہیں یہ کوئی عظمٰی جی سے پوچھے ۔ یہ خودنوشت ذاتی اور قومی خساروں ، ٹوٹتی اور بکھرتی قدروں کا نوحہ ، ہمارے ماضی اور حال کا موازنہ اور مستقبل کی امیدوں اور خواہشوں کا آئینہ ہے۔ محکمہ تعلیم کے رویوں، سیرو سیاحت کے تجربات و مشاہدات کا یہ مرقع، کیا ہے ؟
سوانح عمری ہے ؟ سفر نامہ ہے ؟ ناول ہے یا افسانہ ؟ یہ فیصلہ آپ خود کر لیں ۔ عظمٰی نے تو یہ خودنوشت لکھ اپنا نام اردو ادب میں امر کر لیا ہے۔ یہ ان کی پہلی کتاب نہیں وہ اس سے قبل بھی تصنیف و تالیف میں نام کما چکی ہیں ۔ ان کی شاعری اور نثر کی کم و بیش پانچ کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین سے داد و تحسین کی سند لے چکی ہیں۔

عظمٰی مسعود کو ریڈیو کی براڈ کاسٹری زیادہ پسند نہ تھی ۔ لیکن ، ریڈیو والوں کو ان کا اندازِ گفتگو بھا گیا تھا۔ سو محکمہ تعلیم سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں امریکہ میں یہ موقع ملا تو انہوں نے ایک استاد کی حیثیت سے اسے صرف اس لیے قبول کر لیا ، کہ اس طرح وہ اپنا پیغام ریڈیو کی لہروں کے ذریعے بہتر طریقے سے دے سکیں گی ۔

گزری زندگی اور بیتے ماہ و سال کی یاد کی کرچیاں چننا جان جوکھوں کا کام ہے کہ یہ کرچیاں چنتے ہوے جہاں انگلیوں کی پوریں زخمی ہوتی ہیں وہاں دل کی زمین بھی لہو رنگ ہوتی ہے ۔ پھر یہ سب کچھ من وعن قلم وقرطاس کے سپرد کر دینا اور بھی دشوار ، اس کے باوجود عظمٰی مسعود نے یہ کتاب کیوں لکھی ۔
عظمٰی کہتی ہیں
” پرانی یادوں پر نئی یادیں سجانا درحقیقت ایک مشکل کام ہے جبھی تو ہم تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور زندگی مسکراتی ہوئی پاس سے گزر جاتی ہے ۔ لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا بھلے میں بار بار ٹوٹ جاؤں ،جڑوں ، بھلے میرا دل یادوں کی اس بارات کے ساتھ خون کے آنسو روۓ میں ان یادوں کو پھر سے دہراؤں گی ضرور ”

اگر آپ بھی یادوں کی اس بارات کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو جنوں کی یہ حکایت پڑھیے ضرور جس کے بارے میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ یہ ” سب رنگ ” داستاں ۔۔۔۔۔کمال است و کمال است ۔
عظمٰی جی سلامت رہیے ۔

رابطہ۔۔ 4788517 0321
ای میل
farooqazmi01@gmail.com