خوشخال اور مستحکم پاکستان ہمارا عزم ہے۔

ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر

خوشحال اور مستحکم پاکستان ہمارا عزم ہے۔
گزشتہ دنوں 17ویں نظریہ پاکستان کانفرنس کا اہتمام ایوان تحریک کارکنان میں ہوا جو 3روز تک جاری رہی ۔ اس فکر انگیزکانفرنس کا کلیدی موضوع خوشحال مستحکم پاکستان تھا۔کانفرنس کا آغاز 11فروری کو صبح 9بجے ہوا جب چئیر مین ادارہ نظریہ پاکستان نے کارکنان تحریک پاکستان کے ہمراہ پرچم کشائی کی اور بعد میں وائیں ہال میں افتتاحی نشست کا انعقاد ہوا جس میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی تقریر جو انھوںنے 30اکتوبر 1947 کو کی تھی اس کا وہ حصہ نشر کیا گیا جس میں آپ فرما رہے تھے کہ مسلمان مصیبت میں گبھرایا نہیں کرتا۔ اس موقع پر سیکرٹری نظریہ پاکستان ناہید عمران گل نے خیر مقدمی کلمات کہے جن میں اس کانفرنس کے اعراض و مقاصد پراظہار خیال ہوا ۔افتتاحی نشست میں سابق ڈی پی آئی اسکولز محمد جمیل نے خصوصی خطاب کیا جس میں تحریک پاکستان میں مشاہیر کے کردار اور اس کے بعد اس کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت پر مفصل گفتگو ہوئی ۔ کانفرنس کے پہلے دن کی دوسری نشست بڑی اہمیت طلب تھی جس میں سئینیر وائس چئیرمین نظریہ پاکستان میاں فاروق الطاف سمیت دیگر اہم مقررین جن میں ڈاکٹر سعید الہی ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، احمر بلال صوفی اور دیگر نے خطاب کیا ۔جس میں انھوں نے سیاسی گروہی علاقائی اور لسانی تعصبات سے بالاتر ہوکر ملک وقوم ترقی کی اہمیت ہر ذور دیا ان کا کہنا تھا کہ ملک کے در پیش مسائل کے حل کیلئے تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور باہمی اتحاد سے مسائل کا حل نکالیں ۔ اس موقع مقررین نے کہا کہ آزادی کی نعمت حاصل کرنے کیلئے ہمارے آبا و اجداد نے جان اور مال کی لازوال قربانیاں دیں، اس لیے اس آزادی کو برقرار رکھنے اور پاکسان کو ترقی یافتہ ممالک کی ملک میں شامل کرنے کیلئے جہد مسلسل کو اپنا شعاربنا ئیں ۔کانفرنس کے پہلے دن کی تیسری اور آخری نشست گروہی مباحث کی شکل میں تھی جس میں پہلا مباحثہ یکساں تعلیمی نصاب کے ثمرات پر ہوااس نشست کی صدارت ڈاکٹر راشدہ قریشی نے کی ،دوسرا مباحثہ آبی وسائل میں اضافہ کیسے ممکن ہے کی صدارت چوہدری ریاست علی تارڑ،تیسرے مباحثہ جس کا موضوع پاکستان کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاکر معاشی مسائل کا حل ممکن ہے کی صدارت میاں سلمان فاروق نے کی اسی طرح فلسطین اور کشمیر میں جاری آذادی کی تحریکیں کے موضوع پر ہونے والےمباحثہ کی صدارت منظور حسین گیلانی جبکہ انتہا پسندی کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات پر ہونے والے مباحثہ کی صدارت ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان اور اردو ذبان کا عملی نفاذ،قومی اتحاد کا ضامن والے آخری مباحثہ کی صدارت محمد جمیل بھٹی نے کی اس طرح اس کانفرنس کے پہلے روز کا اختتام ہوا۔خوشحال اور مستحکم پاکستان کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز چوتھی نشست سے ہوا اور یہی دو نشستیں یعنی چوتھی اور پانچویں نشست کانفرنس کی بنیادی محرک تھیںجس میں کلیدی خطبہ عہد حاضر کے ہر دل عزیز صحافی مجیب الرحمان شامی نے دیا ان دونوں نشستوں کے دوران مقررین کا اپنے خطاب میں کہنا تھاکہ ہمارے آباؤاجداد نے متحد ہو کر ہی یہ ملک حاصل کیا تھا اور آج بھی ہمارے مسائل کا واحد حل باہمی اتحاد ویکجہتی ہے۔ ملک دشمن عناصر نفرت اور انتشار کے ذریعے اس ملک کو کمزور کرنے کے خواہاں ہیں ہمیں قومی اتحادسے ان کے عزائم کو ناکام بناناہے ۔اس موقع پرممتاز دانشور اور صحافی مجیب الرحمن شامی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے‘اپنی ذات کو شمع بنائیں تو پاکستان روشن سے روشن تر ہوتا جائے گا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے بدترین مخالفین سے بھی مکالمہ اور دلیل کی قوت سے اپنا نکتہ نظر منوایا اور کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر لے جانے کیلئے ہمیں اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔ پاکستان زندہ حقیقت ہے اور ہم ایک ہو کر ہی ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اسی نشست میں علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے بیرسٹر ولید اقبال نے کہا پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منزل کی طرف لے جانے کیلئے ہمیں قائد اعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و نظریات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے اخلاقی اقدار کی مضبوطی پر زور دیاجبکہ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا مایوسی کے حالات میں ادارہ نظریہ پاکستان کی طرف سے امید کی شمع روشن کی گئی ہے۔ بانیان پاکستان نے بھی اْس وقت آزادی کی شمع روشن کی تھی جب مسلمانان برصغیر مایوسی کا شکار تھے۔ماہر قانون پروفیسر ہمایوں احسان نے کہاکہ موجودہ حالات میں بھی ہم پر امید ہیں کیونکہ ہماری نئی نسل بہت باصلاحیت ہے،جبکہ اپنے خطاب میں چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا نوجوان نسل اپنی تاریخ سے آگاہی حاصل کرے۔ معاشرہ میں انتشار کو روکنے کیلئے باہمی احترام پیدا کرنا چاہئے۔سیکرٹری ادارہ نظریہ پاکستان ناہید عمران گل کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ یہ ملک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ ہم اس کے بنیادی نظریات کے تحفظ اور اس کی ترویج واشاعت کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔سیکرٹری تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ محمد سیف اللہ چوہدری نے کہا کہ ہمیں قوم کو امید کا پیغام دینا چاہئے۔ دوسرے روز گروہی مباحثوں کی نشستیں بھی ہوئیں جن میں پہلی نشست جو بنیادی نظام تعلیم میں سوشل میڈیا سے آگاہی کی ضرورت کی صدارت محسن انور نے کی اسی طرح بھارت میں ہندو تواکا عروج اور نام نہاد سیکولرازم والے مباحثہ کی صدارت ڈاکٹر حمید رضا صدیقی ،خواتین کا سماجی اور سیاسی معاملات میں حصہ لینا ضروری کے موضوع پر ہونے والے مباحثہ کی صدارت مہناز رفیع نے کی جبکہ قومی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم و تحقیق ضروری ہے کے موضوع پر ہونے والے مباحثہ کی صدارت خالدہ جمیل اسی طرح آئین و قانون کی پاسداری مہذب قوم کی علامت پر ہونے والے مباحثہ کی صدارت ڈاکٹر سید محمد قمر علی زیدی اور آخری مباحثہ جو پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے جدید سائنسی علوم کا فروغ ضروری ہے کے موضوع پر تھا اس کی صدارت علی رضا نے کی ان مباحثوں میںمقررین نے اپنے موضوع کی مناسبت سے اظہار خیال کیا۔ خوشخال اور مستحکم پاکستان کانفرنس کے اختتامی روز ہونے والی نشستوں میں مقررین کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھاکہ مسلمانان برصغیر نے اپنی قوتِ ایمانی‘ کردار کی پختگی اور جان ومال کی لازوال قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا۔ نئی نسل کو نظریہ پاکستان اور مشاہیر تحریک آزادی کے افکارونظریات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔آج ہم جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں‘ یہ ملک ہماری پہچان اور شان ہے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ وطن عزیز کی خاطر ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہیں گے۔کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اور انشاء اللہ بہت جلد کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے نجات ملے گی۔ نئی نسل میں شعور کے ساتھ احساس ذمہ داری پیدا کرنا اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ اختتامی نشست کی صدارت گولڈ میڈلسٹ کارکن تحریک پاکستان و سینئر وائس چیئرمین ادارہ نظریہ پاکستان میاں فاروق الطاف نے کی اور اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہماری قوم بڑی باصلاحیت ہے اور ہم پرامید ہیں کہ تمام تر مشکلات پر قابو پا کر پاکستان بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا۔مشاہیر تحریک پاکستان اعلیٰ کردار کے حامل لوگ تھے۔ پا کستان کیلئے تن من دھن قربان کر دینے کا عزم کریں جبکہ وائس چیئرمین نظریہ پاکستان مشاہد حسین سید نے کہا پاکستان ایک نظریاتی شناخت کا حامل ملک ہے۔ علامہ اقبالؒ کی پیش گوئیاں درست ثابت ہو رہی ہیں‘ انہوں نے نوے برس قبل مغرب کے زوال اور چین کے عروج کی پیش گوئی کی تھی۔ قائد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا‘ ہم جدوجہد آزادی کشمیر کی تحریک کی حمایت جاری رکھیں گے۔اس نشست سے اپنے خطاب کے دوران ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پروفیسرڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی نے کہا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی تمام اکائیوں کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے۔ کانفرنس میں ممتاز سیاسی وسماجی رہنما بیگم مہناز رفیع‘ کارکن تحریک پاکستان صوفی اللہ دتہ‘ صدر نظریہ پاکستان فورم ملتان پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی‘ مجاہد حسین سید‘ بیگم خالدہ جمیل‘ بیگم صفیہ اسحاق‘ ڈاکٹر پروین خان‘ پروفیسر ثمینہ بشریٰ‘ پروفیسر حلیمہ سعدیہ‘ نظریہ پاکستان فورمزکے عہدیداران ‘ دانشوروں‘ اساتذہ کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ میری رائے میں خوشحال اور مستحکم پاکستا ن کے کلیدی موضوع پر ہونے والی کانفرنس وقت کی ضرورت تھی اور اس کانفرنس کی وجہ سے نوجوان نسل کو آزادی جیسی نعمت اور پاکستان کی نظریاتی اساس بارے آگاہی حاصل ہوگی ۔