
(تحریر: نوید انجم فاروقی)
بھارت ہمیشہ خود کو کرکٹ کا کنگ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتاہے اور اِس سلسلے میں آئی سی سی کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ چھوٹے ممالک کے کرکٹ بورڈز کو ساتھ ملا کر اپنی من مانیاں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ موجود چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں بھی اُنھوں نے اپنی ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اپنے میچز دبئی میں رکھوا کر ٹورنامنٹ کا مزہ کِرکرا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی روایتی ہٹ دھرمی دکھائی۔ اِن ساری کوششوں کے باوجود قدرت اُن کو نیچا دکھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہے اور کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آ جاتا ہے جو بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہزیمت کا باعث بنتا ہے۔ 

انگلینڈ کے خلاف کھیلی جانے والی حالیہ ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں جو ڈے نائٹ میچ تھا چنئی اسٹیڈیم کی لائٹ بار بار خراب ہو رہی تھی جس سے میچ کو بار بار روکنا پڑرہا تھا اور کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تماشائیوں کیلئے بھی اُلجھن کا باعث بن گیا تھا۔ اِس صورتحال پر دُنیا بھر کے میڈیا نے بھی بھارتی کرکٹ بورڈ اور گراؤنڈ اسٹاف کی ناقص کارکردگی پرتنقید کی اور انتظامات کو ناقص قرار دیا۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے موجودہ کپتان جو بٹلر نے بھی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
”ہم بھارت میں ون ڈے سیریز کھیل رہے ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناقص سہولیات کی وجہ سے ہم افغانستان،زمبابوے یا یوگنڈا میں کھیل رہے ہیں۔ یہ مایوس کن ہے کہ فلڈ لائٹ کی خرابی کی وجہ سے کھیل میں کئی بار تاخیر ہوئی ہے۔ ہندوستانی بورڈ خود کو امیر کے طور پر پیش کرتا ہے، پھر بھی اس طرح کے مسائل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر یہ انگلینڈ میں ہوتا تو ای سی بی کے سربراہ استعفیٰ دے دیتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ بھارت کو اِن چیزوں کو قبول کرنا چاہیے تھا۔ وہ دن رات کے میچوں کے بجائے آسٹریلیا اور انگلینڈ کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا معیار یوگنڈا سے بہتر نہیں ہے۔“























