
سچ تو یہ ہے،
بشری زیدی سے فاطمہ عمران تک کراچی کی سڑکوں پر موت کا ریکس۔
بشیر سدوزئی,
مجھے کراچی میں رہتے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوا لیکن پہلے پانچ سال یعنی 1975ء تا 1980ء ہی پرسکون اور خوش گوار گزرے ہوں گے، جب کراچی، کراچی تھا۔ یہاں ادب و ادیب کی عزت تھی، علم و عالم کی قدر تھی، کراچی ملکہ مشرق تھا اور روشنیوں کا شہر تھا، اس زمانے میں کراچی صاف ستھرا، پرامن، غریبوں کو باعزت روزگار، تعلیم و ہنر دینے اور پالنے والا شہر تھا۔ مختلف زبان و لسان سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان بھائی چارگی اور ہم آئنگی ملک کے دیگر حصوں میں نہیں ملتی تھی۔ اسی باعث کراچی کے ساتھ ساتھ ملک بھی ترقی کرتا تھا۔ پھر کراچی کے خلاف سازش ہوئی جو پاکستان پر گہرے اثرات چھوڑ گئی۔ پہلے مسلمانوں کے دو فرقوں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے کے لیے دونوں جانب سے مولویوں کو سامنے لایا گیا، انہوں نے ایک دوسرے کے عقائد و ایمان پر تاریخ و تہذیب سے گرے ہوئے مبتذل اور رکیک الزامات اور حملے شروع کیے۔ مختلف ناموں سے تنظیمیں قائم ہوئیں، وہ تنظیمیں کیا ایدھن تھا جس نے سارے کراچی میں آگ لگا دی۔ یہ اس زمانے کی یادیں ہیں جب امیرالمومنین حضرت جنرل محمد ضیاء الحق مولویوں اور مذہب کے ٹھیکیداروں سے مل کر جمہوریت کے خاتمے کی منصوبہ بندی اور ملک میں شریت نافذ کرنے میں مصروف تھے۔ اسی چھتری کے نیچے شعیہ سنی فساد شروع ہوے اور پرامن ترقی کرتے روش اور خوش حال کراچی کے خوش گوار ماحول پرگندہ ہونے لگا۔ وہ لوگ جو شہر میں سینا چوڑا کر کے چلتے تھے کہ میں ادیب ہوں شاعر ہوں، مصور ہوں پینٹر ہوں اور پروفیسر ہوں مارے خوف کے دپک کر بیٹھ گئے۔ پھر شہر کی سڑکوں پر موت کا ریکس شروع ہوا، تعلیمی ادارے، فکٹریاں اور تجارتی مراکز جہاں رات دن بھیڑ بھاڑ ہوتی تھی، ویران ہونا شروع ہوئے، بات یہاں تک ہی نہیں رکی کراچی ائرپورٹ جو اس خطے کا مصروف ترین ائرپورٹ تھا جہازوں سے خالی ہو گیا۔ پاکستانی کا خون پاکستانی کے ہاتھوں سے بہنے لگا۔ یہ منظر کوئی بھارت میں دیکھتا ہو گا، جہاں ہندو اور مسلم کے فسادات ہوتے ہیں، مسلمانوں میں یہ قیاص کیسے کیا جائے کہ کون اپنا مرا کون پرایا۔ کون مسلمان مرا کون کافر، ان میں کتنے پاکستانی محب وطن تھے اور کتنے غدار اس کا تعین بھی مشکل تھا کہ یہ جگڑے کیوں ہو رہے ہیں۔ اس سے کام نہیں چلا تو پھر سازشیوں نے ایک نیا موڑ لیا۔ 15 اپریل 1985ء کو کراچی میں ناظم آباد چورنگی پر دو تیز رفتار منی بسوں نے آگئیں نکلنے کی دوڑ میں سڑک کے کنارے بس اسٹاپ پر کھڑی سر سید گرلز کالج کی چند طالبات کو کچل دیا جن میں سے بشریٰ زیدی جاں بحق ہوگئی۔ بس ڈرائیور مستی میں تھے اور سڑک پر گاڑی کو ایسے دوڑا رہے تھے جیسے وہ کسی قانون و اخلاق کے پابند نہیں۔ اگلے روز چند طالبات نے اپنی ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر احتجاج کرنے کی غرض سے ناظم آباد چورنگی پر پلے کارڈ اٹھا کر مظاہرہ کرناچاہا۔ اس زمانے میں کراچی میں احتجاج ریکارڈ کرانے کا یہی معزز طریقہ تھا۔ طالب علم پلے کارڈ اٹھا کر سڑک کے کنارے احتجاج کرتے کوئی حکومتی نمائندہ ان سے آکر بات چیت کرتا اطمینان دلاتا تو احتجاج ختم ہو جاتا۔ لیکن اتنے بڑے حادثے کے بعد ہونے والے لڑکیوں کے احتجاج کو روکنے اور طالباعت سے بات چیت کرنے، ان کو دلاسہ دلوسہ دینے کوئی نہیں آیا، البتہ آئینی ہاتھوں سے نمٹنے پولیس کی بھاری نفری پہنچی۔ آج بھی ایسا لگتا ہے کہ احتجاج کو ختم کرانا نہیں بڑھانا مقصد تھا۔ پولیس نے حسب روایت وحشت و بربریت سے کام لیا۔ ہم اسٹوڈنٹس ویلفیئر آرگنائزیشن کے متحرک کارکن ہوا کرتے تھے اور ہماری بہت ساری ساتھی سرسید گرلز کالج کی طالبہ تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ احتجاج کرنے والی طالبات پر پولیس نے گاڑی چڑھادی، آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کر دی گئی۔ طالبات جان بچانے کے لیے بھاگ کر اپنے کالج میں واپس چلی گئیں۔ پولیس نے یہاں پر بس نہیں کیا بلکہ سرسید گرلز کالج میں زبردستی داخل ہوکر طالبات کو مارنے پیٹنے کے ساتھ شیلنگ بھی شروع کی۔ پرنسپل سمیت خواتین اساتذہ باہر نکل آئیں اور کیمپس میں پولیس کے داخلے پر احتجاج کیا مگر کسی نے نہ سنی۔ کیمپس کے اندر پولیس کی بربریت سے کچھ طالبات زخمی اور شیلنگ سے بے ہوش ہو گئیں۔ جب زخمی طالبات کو عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا تو وہاں پہلے سے ایک زخمی پولیس اہلکار موجود تھا جس کے ساتھ پولیس کی بھاری بفری بھی تھی۔جس کے بارے میں بتایا گیا کہ طالبات کے پتھراو سے یہ زخمی ہوا۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ طالبان کے پاس پتھر کہاں سے آئے اور یہ کیسے ممکن ہوا۔ اس زمانے میں عبدالستار افغانی کراچی کے مئیر تھے شہر کی سڑکوں پر نہ ملبہ ہوتا تھا نہ پتھر۔ برحال پولیس چاہتی تھی کہ ڈاکٹر طالبات کی بجائے پہلے زخمی کانسٹیبل کی مرہم پٹی کریں۔ اس پر ڈاکٹروں اور پولیس والوں کی تکرار ہوئی۔ اس تکرار کے جواب میں پولیس نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا دماغ درست کرنے کی ٹھانی، شعبہ حادثات کے شیشے اور کائونٹر توڑ دیئے گئے۔ مئیر کراچی عبدالستار افغانی نے اس سفاکیت کے خلاف بیان جاری کیا، لیکن پالیسی سازوں کے منصوبے پر کچھ اثر نہیں پڑا۔ پولیس کے اس رویہ کے باعث پورا کراچی آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آگیا۔ اس حادثے کے بعد پرسکون شہری زندگی آگ، آنسو گیس اور گولی کے جہنم میں دھکیل دی گئی۔ مہاجر پٹھان فسادات پھوٹ پڑے، متعدد دکانیں، بنک اور گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ نتیجتاً کراچی کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے اور متعدد علاقوں میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ ان ہنگاموں میں چند ہی دنوں کے دوران 9 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ بشری زیدی ٹریفک حادثے کے بعد تعصبات بھڑکانے کی ایک منظم تحریک شروع ہوئی۔ علی گڑھ کالونی، سہراب گوٹھ کا واقعہ تاریخ کا حصہ بن گیا جہاں مارنے والے کو نہیں معلوم کہ وہ کیوں قتل عام کر رہا ہے اور نہ مرنے والے کو معلوم کہ اس کو کیوں مارا جا رہا ہے۔کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار پختون اور پولیس میں پختونوں اور پنجابیوں کی اکثریت تھی۔ اس لئے ان ہنگاموں کو مہاجر اور پنجابی پٹھان فسادات کا رنگ دے دیا گیا۔ اس فرقہ واریت اور لسانی فساد کا سلسلہ آئندہ 30 سال تک چلا کبھی نرم کبھی گرم۔ مختلف آراء ہیں کہ اس دوران 20 ہزار سے زیادہ پاکستانی نوجوان مارے گئے بے شک یہ بڑا نقصان ہے لیکن اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہر شعبہ میں مافیا نمودار ہوا، لاقانونیت اور خود سری عروج پر پہنچ گئی۔ مسلحہ جتھے قائم ہوئے، گلی محلے تک لوٹ مار قبضہ گیری چھینا چھپٹی اور دھونس و دھمکی کا بازار گرم ہوا۔ لگ بھگ 30 سال بعد کراچی میں امن بحال کیا گیا لیکن بچا کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ علم و ہنر باقی رہا نہ عالم باعمل، شاعر و شاعری اور ادب و ادیب بھی رخصت ہوئے، صفائی بھی گئی اور روشنی بھی۔
آج سوک مسائل کے حوالے سے کوئی ایک شعبہ بھی نہیں جو مافیا کے قبضے میں نہ ہو۔ خاص طور پر ٹریفک مینجمنٹ اور انجینئرنگ مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی۔ کراچی کی سڑکوں پر آج 35 سال بعد بھی موت کا کھیل جاری ہے بلکہ اب زیادہ ہو گیا۔ کل ہی ایک افسوس ناک حادثہ پیش آیا۔ مبینہ طور پر غلط سمت سے آنے والے ڈمپر ڈرائیور نے مارشل آرٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی فاطمہ بنت عمران کو بھائی کے ساتھ موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے کچل دیا۔ بھائی مارشل آرٹ میں گولڈ میڈل لینے والی چھوٹی بہن کو ڈنر کے لیے لے جا رہا تھا جو اب کراچی کے شہریوں کے لیے مقبول تفریح رہ گئی ہے۔ لیکن ظالم مافیا کسی طور معصوموں کو خوش نہیں ہونے دیتی۔ بھاری اور مال بردار گاڑیوں کا دن کے اوقات میں شہر میں داخلے پر پابندی ہے تو یہ ڈمپر ڈرائیور الٹی سمت سے مین شاہراہ پر تیز رفتاری سے کیسے اور کیوں دوڑ رہا تھا، اس کا سوال کس سے پوچھیں، کوئی حکومت ہو، کوئی ایڈمنسٹریشن ہو۔ تیز رفتاری ، لاپرواہی اور رانگ وے پر گاڑیاں چلانا کراچی میں معمول بن چکا ہے، رکشہ ہو موٹرسائیکل، کار یا بھاری گاڑی اس کا دل کرے تو شاہراہ فیصل پر بھی الٹی سمت چل سکتی ہے اور اکثر ایسا ہوتا بھی ہے۔۔ اسی روز کورنگی کراسنگ کے قریب الٹی سمت سے آنے والے ڈمپر نے تین موٹرسائیکل سواروں کو کچل کر ہلاک کر دیا۔ حادثے کے بعد مشتعل عوام نے ڈمپر کو آگ لگا دی، مختلف علاقوں میں کئی دیگر گاڑیوں کے جلنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ یہ کراچی کو ایک مرتبہ پھر آگ اور خون میں دھکیلنے کی کوشش تو نہیں کہ بشری زیدی واقعہ کا ایکشن رپلے فاطمہ بنت عمران کے حادثے سے ہو رہا ہو۔ نہ ٹریفک حادثات کے روک تھام پر کوئی توجہ اور نہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت کو روکنے کے لیے کوئی اقدام۔ اطلاعات ہیں کہ جس جگہ حادثہ ہوا اس سے کچھ ہی دور ٹریفک پولیس شہریوں کے چالان کرنے کا کام کر رہی تھی لیکن ڈمپر روکنے یا موٹرسائیکل پر تین افراد کے بیٹھنے پر اس نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ حادثے کے بعد مشتعل شہریوں نے ڈمپر کو آگ لگا کر کورنگی کراسنگ چوک بند کر دیا، مشتعل افراد نے گزرتے شہریوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑے حتی کہ لال بس پر بھی حملہ کیا گیا۔ مظاہرین نے رکشہ ڈرائیوروں پر بھی تشدد کیا۔ اس دوران روڈ پر ٹریفک معطل رہا شدید ٹریفک جام ہو گیا۔ لیکن انتظامیہ کی آنیاں جانیاں ہی لگی رہیں، عملی اقدام کچھ خاص دیکھنے میں نہیں آیا۔ یاد رہے کہ اس وقت 1981ء تھا اور آج 2025ء ہے، آج کا شروع کیا ہوا ایکشن 2060ء میں ختم ہوا تو پھر باقی کیا رہے گا۔ کراچی کی سڑکوں پر موت کا ریکس بند کریں اتنا سا مطالبہ ہے شہریوں کا۔ رواں برس ایک ماہ دس یوم کے دوران ٹریفک حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں 100 کے قریب پہنچ گئیں۔ جب کہ 1300 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں 71 مرد، 12 خواتین اور 13بچے، زخمیوں میں 1080 مرد،167خواتین اور 52 بچے شامل ہیں۔ ڈمپر کی ٹکر سے اب تک 11افراد جاں بحق ہوئے۔ گذشتہ برس ٹریفک حادثات میں 700 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک حادثات کو روکنے کی اب تک کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔ انگریزوں نے سمندر کے کنارے خوبصورت شہر آباد کیا جو پاکستان کا پالن ہار بنا، پورے برصغیر اور بعد ازاں قیام پاکستان کے بعد پورے ملک سے روزی روٹی کے چکر میں لوگ یہاں خالی ہاتھ آتے ہیں، وہ سیٹھ بن جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح کراچی آتے تھے، پانچ دس منٹ کے وقفے سے کراچی ائر پورٹ پر جہاز اترتے اور اڑان بھرتےتھے۔ 35، 40 برسوں سے کراچی کو برباد اور اوجاڑ کیا جا رہا ہے۔ اس کوشش میں کتنے لوگ مارے گئے، کتنے کچلے گئے اور کتنے ہنر مند صاحب علم شہر چھوڑ کر چلے گئے۔ بشری زیدی سے فاطمہ عمران تک کراچی کی سڑکوں پر موت کا ریکس جاری ہے۔ یہاں علم و ادب تھا جو ہندوستان سے آنے والے ساتھ لائے تھے کاروبار تھا، سیاحت و تفریح تھی، رنگینی و روشنی تھی، سب کچھ برباد ہو گیا۔ میرا کراچی پھر کب ملے گا جسے میں نے چودہ سال کی عمر میں دیکھا تھا۔آج 65 سال کی عمر میں بھی یاد ہے۔ کوئی ہے جو مجھے میرا کراچی لوٹا دے۔۔























