کاٹی ،اسٹیوٹا کا مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

350 ناکارہ اداروں کو بند، صنعت کے تعاون سے ہنر مند افرادی قوت تیار کریں گے، چیئرمین جنید بلند

پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کو فروغ، اپرنٹس شپ ایکٹ کے غلط اطلاق پر نظر ثانی کی جائے، صدر کاٹی جنید نقی

کراچی ()وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی اور سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے چیئرمین جنید بلند نے کہا ہے کہ سندھ میں مجموعی طور پر 660 نجی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں جس میں 350 غیر فعال ، ناکارہ ہیں ایسے اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کریں گے۔ اسٹیوٹا کی نگرانی میں 258 ادارے کام کر رہے ہیں جن میں مزید 30 ادارے بڑھانے کا ارادہ ہے۔ کاٹی اور اسٹیوٹا مشترکہ طور پر تعاون کو فروغ دے کر ہنر مند افرادی قوت اور نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت دے کر ملازمت کے مواقع فراہم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر جنید نقی ، سینیٹر عبدالحسیب خان، نائب صدر طارق حسین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم الدین،رزاق ہاشم پراچہ، اسٹیوٹا کے اعلیٰ حکام اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جنید بلند نے مزید کہا کہ اسٹیوٹا پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کو مکمل طور پر سپورٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ہنر مند افرادی قوت کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدامات کی ہدایات ہیں، یہی وجہ ہے کہ بھرپور مینڈیٹ کے ساتھ نوجوانوں میں پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے انڈسٹری سے تعاون درکار ہے۔ چیئرمین اسٹیوٹا نے کہا کہ کاٹی کے تعاون سے صنعتکار رہنمائی کریں کہ کس طرح کی ہنر مندی اور پیشہ وارانہ صلاحیت انڈسٹری میں درکار ہیں تاکہ اسی طرز پر طلباء کو تربیت دی جاسکے۔ اس سلسلے میں ماہر اساتذہ اور پیشہ وارانہ ماہرین کی خدمات بھی حاصل کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ جنید بلند نے کہا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو کے وژن کو بڑھانے کیلئے کوشاں ہوں ۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر جنید نقی نے خطاب میں کہا کہ 2023 میں عملدرآمد ہونے والے اپرنٹس شپ ایکٹ کے غلط اطلاق پر نظر ثانی کی جائے۔ قانون کے تحت انڈسٹری میں 10 فیصد افرادی قوت یا تو اسٹیوٹا کے فارغ اتحصیل طلباء ہوں یا پھر سند یافتہ ہوں، ایسے طلباء کی کم دستیابی کی وجہ سے انڈسٹری کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں اور نوجوان نسل اپنا لوہا منوانے کیلئے بہت پر جوش بھی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں روایتی شعبوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے صنعتوں میں ضرورت کے مطابق ہنر مند افراد کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ اداروں کی جانب سے بھی نصاب پرانا ہونے کی وجہ سے انڈسٹری میں ان کی کھپت کا مسئلہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے طلباء کو تجربہ حاصل کرنے کیلئے انٹرن شپ کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ووکیشنل ٹریننگ کے اداروں کی جانب سے جدید علوم پر مبنی نصاب مرتب کیا جائے۔جنید نقی نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت ادارے قائم کی جائیں اور طلبا کو بہتر تربیت فراہم کی جائے۔ سینیٹر عبدالحسیب خان نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں تین شعبوں پر عملدرآمدکو یقینی بنانا ہے، صحت، تعلیم اور معاشیات۔ انہوں نے کہا کہ صحت ہوگی تو افرادی قوت اور بہتر کارکردگی کا مظاہر ہ کرے گی، اس سے منسلک ہی تعلیم کا شعبہ ہے، جس کے بغیر شعور اور آگاہی ممکن نہیں، تعلیم سے افرادی قوت کی صلاحیت میں بھرپور اضافہ ہوگا جس سے تیسرے شعبے یعنی معاشیات کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحت تعلیم کے بہتر استعمال سے معاشی حالات بہتر ہوتے ہیں، ان تین شعبوں پر سختی سے عملدرآمدیقینی بنا کر ملک ترقی کرسکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم الدین نے کہا کہ بدقسمتی سے کراچی کی انڈسٹری میں طلباء کو انٹرن شپ کے مواقع نہیں ملتے چند بڑے اداروں کے علاوہ دیگر طلباء کیلئے مواقع بہت کم ہیں۔ اس سلسلے میں کاٹی اور اسٹیوٹا کو مل کر حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نوجوان جب انڈسٹری آتے ہیں تو ان کے پاس وہ تجربہ یا وہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی کہ وہ تکنیکی مشینری استعمال کرسکیں۔

فوٹو کیپشن: کاٹی کے صدر جنید نقی وزیر اعلیٰ معاون خصوصی ، چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند کو شیلڈ پیش کر رہے ہیں ، سینیٹر عبدالحسیب خان،سلیم الدین، رزاق ہاشم پراچہ ، ماہین سلمان، سلمان صابری و دیگر بھی موجود ہیں۔