تین ہفتوں بعد خوفناک آگ پر قابو


امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں گزشتہ تین ہفتوں سے لگی خوفناک آگ پر قابو پالیا گیا۔

کیلیفورنیا فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق آگ سے 37 ہزار ایکڑ سے زائد کا رقبہ اور 10ہزار سے زائد گھر جل گئے تھے جس سے تقریباً 30 افراد ہلاک اور ہزاروں بےگھر ہوئے۔

کیلیفورنیا کو آگ کے بعد سیلاب سے نقصانات کا سامنا ہونے کا اندیشہ

آگ سے نقصانات کا تخمینہ 250 سے 275 ارب ڈالرز تک لگایا گیا ہے، 7 جنوری کو لگنے والی آگ کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی نے اس خطرناک صورتحال کو جنم دیا۔

لاس اینجلس کے میئر کیرن باس نے کہا کہ بحالی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں
=====================

ایم ٹیگ کے بنا موٹروے پر سفر کرنے والوں پر اضافی ٹیکس عائد
ملک بھر کی موٹرویز پر یکم فروری سے ایم ٹیگ کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا، ایم ٹیگ کا استعمال نہ کرنے والوں کو اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا

ایم ٹیگ کے بنا موٹروے پر سفر کرنے والوں پر اضافی ٹیکس عائد
لاہور ( ۔ یکم فروری 2025ء ) ایم ٹیگ کے بنا موٹروے پر سفر کرنے والوں پر اضافی ٹیکس عائد، ملک بھر کی موٹرویز پر یکم فروری سے ایم ٹیگ کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا، ایم ٹیگ کا استعمال نہ کرنے والوں کو اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق موٹروے اینڈ ہائی وے پولیس کی جانب سے ملک بھر کی موٹرویز پر سفر کرنے والوں کیلئے اہم ہدایت جاری کی گئی ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے فیصلے کے تحت ملک بھر کی تمام موٹرویز پر یکم فروری 2025 سے 100 فیصد ایم ٹیگ پالیسی کو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ متعدد اعلانات کے باوجود اگر موٹروے پر سفر کرنے والی کوئی گاڑی یکم فروری کے بعد بھی ایم ٹیگ کا استعمال نہیں کرتی، تو اس گاڑی والے کو اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

کم بیلنس اور کیش ٹول والی گاڑیوں سے مجموعی ٹیکس کا 25 فیصد اضافی وصول کیا جائے گا ۔ جس گاڑی پر ایم ٹیگ نہیں ہو گا، اسے کم از کم 50 روپے اضافی ٹول ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ 2021 میں پہلی مرتبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے موٹرویز پر سفر کیلئے ایم ٹیگ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ تاہم اب یکم فروری 2025 سے اس فیصلے کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔